دنیا بھر سے

امریکہ کی نسل پرستی سے مسلم برادری بھی متاثر ہو رہی ہے : رپورٹ

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

تاثیر اردو نیوز سروس،3؍جون، 2020

واشنگٹن ، ۲؍جون ( آئی این ایس انڈیا )امریکا میں آباد مسلمان بھی امتیازی سلوک کا شکار ہو رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے متعدد ایسے اقدامات کیے ہیں جن سے مسلم برادری بھی خود کو امریکا میں اکثریتی سفید فام برادری کے مقابلے میں مساوی حقوق کا حامل نہیں سمجھ سکتی۔ امریکہ میں سیاہ فام باشندے جارج فلوئڈ کی پولیس کے تشدد کے سبب ہونے والی ہلاکت کے بعد سے وہاں آباد سیاہ فام اور دیگر رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے شہریوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور پرتشدد مظاہروں کی شکل میں یہ باشندے سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ ماہرین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا میں جتنے بڑے پیمانے پر اس وقت مظاہرے ہو رہے ہیں وہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے انتباہ ہے۔ ان کے بقول حکومت کو اب اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سیاسی سطح پر اقدامات کرنا ہوں گے وگرنہ تشدد کی آگ کے یہ شعلے بھڑکتے چلے جائیں گے۔

اس بارے میں ڈوئچے ویلے کے ساتھ سیاسی ، سماجی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے شعبوں سے منسلک ماہرین نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔وسطی امریکی ریاست اوکلوہاما یونیورسٹی کی پروفیسر اور پوسٹ کالونئیل سیاست اور لٹریچر کی ماہر ڈاکٹر نائلہ علی خان نے امریکہ میں پائی جانے والی نسل پرستی اور سیاہ فام باشندوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے بارے میں بیان دیتے ہوئے کہاکہ جارج فلوئڈ کے قتل کے تناظر میں، ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کی خدمات، ان کے نظریے اور فکر کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے معاشرے میں ثقافتی سطح پر لچک دار رویہ پیدا کرنے، غلامی، نسل پرستی اور تعصب کے خلاف مزاحمت کی انفرادی سطح پر کوشش کر کے سامراجی عالمی نظام میں اپنی جگہ پیدا کی اور مساوات اور انصاف کے حصول کی جدو جہد کی ایک مثال قائم کی۔

آج کل کے دور میں امریکا کو پھر ایسی تحریک کی ضرورت ہے۔نوبل انعام یافتہ مارٹن لوتھر کنگ نے امریکا میں نسل پرستی، امتیازی سلوک اور سیاہ فام باشندوں کے ساتھ غلامانہ برتاؤ کے خلاف سول رائٹس موومنٹ 1955 سے لے کر 1968تک یعنی اپنے قتل تک جاری رکھی۔ ڈاکٹر نائلہ خان نے مارٹن لوتھر کنگ کا قول دہراتے ہوئے کہا کہ موجودہ امریکی حکومت کو مارٹن لوتھر کے اس فلسفے کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر کنگ نے کہا تھا کہ مجھے اقتدار کی خاطر طاقت میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، لیکن مجھے ایسی طاقت میں دلچسپی ہے جو اخلاقی، صحیح اور اچھی ہو۔اس سوال کے جواب میں کہ موجودہ امریکی حکومت کو اس بحران سے نمٹنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ ڈاکٹر نائلہ نے کہا کہ جارج فلوئڈ کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی واقعے کے بعد کی صورتحال کو معمول پر نہیں لایا جاسکتا ، اور نہ ہی ہم نسلی امتیازی سلوک اور نفرت انگیز جرائم کی حوصلہ افزائی کے متحمل ہو سکتے ہیں۔” ٹرمپ انتظامیہ کو دوسرے” کے خوف سے نمٹنے کی ضرورت ہے، جو تشدد کا باعث بنتی ہے ، اور پولیس اہلکاروں کی بنیادی تربیت میں انسانیت پسندی کو شامل کیا جائے۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper