دہلی

دہلی بارڈر ایک ہفتے کیلئے سیل، آگے کا فیصلہ دہلی کے لوگوں سے ملنے والی تجاویز کی بنیاد پر کیا جائے گا:وزیر اعلیٰ

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

تاثیر اردو نیوز سروس،یکم جون، 2020

نئی دہلی، یکم، دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ دہلی میں نائی کی دکانوں کے ساتھ ساتھ تمام دکانیں معمول کے مطابق کھلیں گی اور دہلی بارڈر ایک ہفتے کے لئے سیل رہے گا اور اس پر آگے کا فیصلہ دہلی کے لوگوں سے ملنے والے تجاویز کی بنیاد پر کیا جائے گا۔وزیر اعلی نے کہا ”دہلی سب کی ہے۔ دہلی میں صحت کی خدمات سب سے بہتر ہونے کی وجہ سے ملک بھر سے لوگ علاج کرانے آتے ہیں۔ دہلی کسی کا علاج کرنے سے انکار نہیں کر سکتی ہے۔ بارڈر کھولنے پر کووڈ بستر جلد بھر سکتے ہیں۔ اس کی وجہ سے بارڈر کھولنے پر مجھے عوام کی راہنمائی اور تجاویز چاہئے۔ دہلی حکومت کو جمعہ کو شام 5 بجے تک آپ کی تجاویز کا انتظار رہے گا۔ آپ آپ کی تجاویز واٹسیپ نمبر 8800007722 یا ایمیل- delhicm.suggestions@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں“۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ آپ ہیلپ لائن نمبر 1031 پر کال کرکے بھی اپنی تجویز درج کروا سکتے ہیں۔ فی الحال، ایک ہفتے کے لئے بارڈر سیل کر رہے ہیں۔ اس دوران ضروری خدمات جاری رہیں گی۔ سرکاری دفتر کے ملازم اپنا آئی کارڈ دکھا کر آ جا سکیں گے۔ دیگر لوگ بھی پاس سے آ جا سکیں گے۔ سب سے ملنے والی تجویزوں پر ماہرین سے بات چیت کرنے کے بعد اگلے ہفتے ٹھوس فیصلہ کیا جائے گا۔
مسٹر کیجریوال نے کہا کہ آج سے لاک ڈاؤن کا اگلا مرحلہ شروع ہو رہا ہے۔ مرکزی حکومت نے اپنی نئی گائڈ لائنز بھیجی ہے۔ مرکزی حکومت کی گائڈلائنز کے مطابق، جو بھی نرمی دینے کے فیصلے کئے ہیں، اس پر دہلی حکومت نے کچھ فیصلے کئے ہیں۔ ابھی تک جتنی چیزیں کھولی جا چکی ہے، وہ کھلی رہیں گی۔ انہوں نے کہاکہ اس کے علاوہ، باربر اور سیلون شاپ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب اسپا نہیں کھولے جائیں گے۔ آٹو، ای رکشہ سمیت تمام گرامین سیوا میں کچھ دقت آ رہی تھیں۔ مثلا، آٹو میں ایک بار میں ایک ہی سواری بیٹھنے کی اجازت تھی۔ اگر ایک خاندان میں شوہر، بیوی اور ایک بچہ گھر سے نکلتے ہیں تو تینوں کو الگ الگ آٹو میں بیٹھنا پڑ رہا تھا۔ ان پریشانیوں کی وجہ سے لوگوں کے کئی تجاویز آئے تھے۔انہوں نے کہا کہ اب مرکزی حکومت نے بھی نئی گائڈلائنز میں اس پر کوئی پابندی نہیں رکھی ہے۔ لہذا دہلی حکومت بھی ان پابندیوں کو ہٹا رہی ہے۔ مرکزی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ رات کو 9 بجے سے صبح 5 بجے تک ضروری خدمات کے علاوہ کوئی دوسرا باہر نہیں نکلے گا۔ دہلی حکومت بھی اس فیصلے کو لاگو کرنے جا رہی ہے۔ ابھی تک چار پہیا گاڑی میں ڈرائیور کے علاوہ دو لوگوں کے بیٹھنے اور سکوٹر پر پیچھے کوئی سواری نہیں بیٹھنے کی ہدایت تھی۔ مرکزی حکومت نے ان شرائط کو ہٹا دیا ہے۔ لہذا دہلی حکومت بھی مرکزی حکومت کی گائڈلائن کے مطابق ان شرائط کو ہٹا رہی ہے۔مسٹر کیجریوال نے کہا کہ مارکیٹ میں ابھی تک ہم لوگوں نے اوڈ۔ایون لاگو کیا تھا۔ جس میں ایک دن اوڈ اور دوسرے دن ایون نمبر کی دکانیں کھل رہی تھیں۔ ابھی مرکزی حکومت کی گائڈلائن میں اس طرح کی کوئی شرط نہیں ہے۔ لہذا اب مارکیٹ میں تمام دکانیں کھلیں گی۔ پچھلی بار مرکزی حکومت نے کہا تھا کہ صنعتی علاقوں میں اسٹیگرڈ ٹائمنگ لاگو کئے جائیں گے۔ اسی کے مطابق دہلی حکومت نے بھی اسٹیگرڈ ٹائمنگ لاگو کیا تھا لیکن نئی گائیڈ لائن میں ان شرائط کو ہٹا دیا ہے، لہذا اب دہلی میں تمام انڈسٹریز کھل سکیں گی۔
وزیر اعلی نے کہا کہ دہلی کے بارڈر کھولنے کو لے کر لوگوں کی رہنمائی اور تجاویز مانگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے دہلی کے لوگوں کی رہنمائی چاہئے۔ کچھ دن پہلے آپ لوگوں سے تجاویز مانگے تھے کہ دہلی میں لاک ڈاؤن میں نرمی دینی چاہئے یا نہیں دینی چاہئے۔ اس پر بھرپور تجویز آئی تھی۔ دہلی کے لوگوں نے 5لاکھ سے زائد تجاویز بھیجے تھے۔ آج ایک اہم موضوع پر آپ لوگوں کی رہنمائی چاہئے کہ کیا دہلی کے بارڈر کو کھولا جائے؟ اس کا ایک اہم پہلو ہے۔ دہلی کے اندر کورونا کے معاملے کافی بڑھ رہے ہیں۔ یہ تشویش کی بات تو ہے، لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔مسٹر کیجریوال نے کہا کہ اس میں اس لیے کہہ پایا کہ کیونکہ دہلی کے اندر گزشتہ 5 برسوں میں آپ کی حکومت نے دہلی کے ہسپتالوں اور صحت کی خدمات میں خوب سرمایہ کاری کی ہے۔ خوب نئے ہسپتال کھولے ہیں۔ خوب سارے بستر بنائے، آئی سی یو کھولے اور محلہ کلینک کھولے ہیں۔ لوگوں کے لئے تمام علاج مفت کر دیا ہے۔ مسٹر کیجریوال نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں دہلی کے اندر صحت کی خدمات میں بے مثال ترقی ہوئی ہے۔ آج اسی کے چلتے جب کورونا وبا کی وجہ سے ملک اور دنیا کے کئی حصوں میں ان کی صحت کی خدمات تباہ ہو گئیں۔ وہیں، آج دہلی میں کورونا کے معاملے بڑھنے کے باجوود آپ کاوزیر اعلی کو یقین دلاتا ہے کہ اگر آپ کے گھر میں کسی کو کورونا ہو گیا، تو آپ کو فکر مت کرنا، آپ کے لئے بستر دستیاب ہے۔ ہم نے آپ کے لئے بستر کا انتظام کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے جب ہم نے آپ لوگوں سے بات کی تھی، تب میں نے یہ کہا تھا کہ دہلی میں 2100 مریض ہیں، لیکن 6600 بستر کے انتظام اور 5 جون تک 9500 بیڈ کا انتظام اور ہو جائے گا۔ دہلی میں آج کی تاریخ میں اب قریب 2300 مریض اسپتالوں میں داخل ہیں۔ کس ہسپتال میں بستر، وینٹی لیٹر اور آکسیجن دستیاب ہے، اس کے بارے میں آپ کو اب ایپ کی مدد سے پتہ چل جائے گا۔ایپ کو ہم کل لانچ کر رہے ہیں۔وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ ملک بھر کے لوگ دہلی میں علاج کرانے کے لئے آتے ہیں۔ دہلی میں لوگ علاج کرانے کے لئے دو وجوہات سے آتے ہیں۔ سب سے پہلے، آج دہلی کی صحت کی خدمات پورے ملک میں کسی بھی ریاست یا کسی بھی شہر سے سب سے زیادہ اچھی ہیں۔ پورے ملک میں سب سے بہترین صحت کی خدمات دہلی میں ملتی ہیں۔ لہذا ملک بھر سے لوگ علاج کرانے کے لئے آتے ہیں۔ دوسرا، دہلی کے اندر سرکاری اسپتالوں میں سب کچھ مفت ہے۔ اگر آپ کے علاج میں 20 لاکھ روپے بھی خرچ ہوتا ہے، تو وہ مفت ہے. لہذا ملک بھر سے لوگ یہاں علاج کرانے کے لئے آتے ہیں۔
مسٹر کیجریوال نے کہا کہ جیسے ہی ہم بارڈر کھولیں گے، ملک بھر سے لوگ دہلی میں علاج کرانے کے لئے آئیں گے۔ ہم نے 9500 بیڈ کا انتظام کیا ہے اور دہلی میں آج کی تاریخ میں صرف 2300 مریض داخل ہیں لیکن اگر بارڈر کھول دئے اور ملک بھر سے لوگ علاج کرانے کے لئے دہلی آگئے، تو پورے بستر دو دن کے اندر ہی بھر جائیں گے۔وزیر اعلی نے دہلی باشندوں سے پوچھا کہ ایسے میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ کیا بارڈر کھولنے چاہئے یا نہیں کھولنے چاہئے؟ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بارڈر کھول دینے چاہئے، لیکن دہلی کے ہسپتال کو صرف دہلی میں رہنے والے لوگوں کے علاج کے لئے استعمال کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ دہلی تو دل والوں کی ہے۔
دہلی سب کی ہے اور ملک کا دارالحکومت ہے۔ دہلی آج تک سب کا علاج کرتی آئی ہے۔ پھر دہلی کسی کا علاج کرنے سے انکار کیسے کر سکتی ہے؟ کچھ لوگوں کا مشورہ ہے کہ جب تک کورونا ہے، کم از کم اس وقت تک کے لئے دہلی کے ہسپتال میں صرف دہلی میں رہنے والے لوگوں کا ہی علاج ہونا چاہئے۔ تو اس میں کیا ہونا چاہئے؟ اس پر آپ سب کی رہنمائی چاہئے۔ ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ آپ ہمیں اس بارے میں تجاویز بھیجیں۔ اس کی بنیاد پر اگلے ہفتے ہم اس کے بارے میں ایک ٹھوس فیصلہ کر پائیں گے۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper