ہندوستان

سپریم کورٹ کا اسکول فیس معافی سے متعلق درخواستوں پرسماعت کرنے سے انکار

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | New Delhi (India)  on 10-July-2020

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے کورونا وائرس کے حوالہ سے ملک بھرمیں جاری لاک ڈاؤن کے تناظرمیں ملک بھرکے پرائیویٹ اسکولوں کو تین ماہ کی فیس معاف کرنے سے متعلق ہدایت دینےوالی عرضی پرجمعہ کوسماعت سے انکار کردیا۔عدالت نے درخواست گزاروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی شکایتیں متعلقہ ریاستوں کے ہائی کورٹس کے سامنے رکھیں۔چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے ، جسٹس آر سبھاش ریڈی اور جسٹس اے ایس بوپنا پرمشتمل ڈویژن بنچ نے سشیل شرما اور دیگر کی درخواستوں پر سماعت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اسکولوں کی فیسوں کے معاملہ کو متعلقہ ریاستوں کی ہائی کورٹس کے سامنے اٹھایا جانا چاہئے۔یہ درخواست دہلی ، مہاراشٹر ، اتراکھنڈ ، ہریانہ ، گجرات ، پنجاب ، اڈیشہ ، راجستھان اور مدھیہ پردیش کی گارجین ایسوسی ایشنز کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس میں اپریل،مئی اور جون کی فیس کی معافی کے احکامات دینے اور ملک بھر میں لاک ڈاؤن پیریڈ کی مدت کے دوران کے فیس ڈھانچہ اور کلیکشن کو کنٹرول کرنے کیلئے ایک طریق کار وضع کرنے کی ہدایت دینے کی عدالت عظمی سے اپیل کی گئی تھی ۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ہر ایک ریاست کے حالات الگ الگ ہوتے ہیں ۔ درخواست گزاروں نے یہ درخواست ملک بھر کے اسکولوں کے لئے دائر کی ہے۔ جسٹس بوبڈے نے کہا ’’یہ ہمارے لئے مسئلہ ہے کہ ملک بھر کے اسکولوں کے بارے میں مجموعی طور پر کون فیصلہ لے گا‘‘۔ ہر ایک ریاست کے الگ الگ مسائل ہیں۔ فریقین اس عدالت کے دائرہ اختیار کو کثیر مقصدی سمجھتے ہیں ، لیکن صورتحال ہر ریاست اور ہر ضلع کے لئے مختلف ہے۔درخواست گزاروں کے وکیل نے کہا کہ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے اسکولوں کو بڑھی ہوئی فیسوں کی وصولی کی اجازت دے دی ہے۔ اس پر جسٹس بوبڈے نے کہا کہ اس حکم کے خلاف’اسپیشل لیو پٹیشن‘(ایس ایل پی) دائر کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا ’’اگر آپ سب کے مسائل حل کرسکتے ہیں تو آپ جیسے ہونہار شخص کے لئے یہ بہت عمدہ کارکردگی ہوگی۔ ہم فی الحال اس عرضی کی سماعت کے حق میں نہیں ہیں۔ درخواست گزار درخواست واپس لے سکتے ہیں اور ہائی کورٹس کا دروازہ کھٹکھتا سکتے ہیں۔ اس کے بعد درخواست گزاروں نے درخواست واپس لے لی۔درخواست گزاروں نے فیس کے حوالہ سے اسکولوں کی من مانی پر روک لگانے کی فریاد بھی کی تھی ۔عرضی میں کہا گیاتھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران بہت سارے پرائیویٹ اسکولوں نے مکمل فیس وصول کی اور سرپرستوں پراس کیلئے دباؤ بنایا۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسکول آن لائن کلاسز کے نام پر مکمل فیس وصول کررہے ہیں ، جبکہ متعدد ریاستی حکومتوں نے کہا ہے کہ اسکول لاک ڈاؤن کے عرصہ میں صرف ٹیوشن فیس ہی وصول کرسکتے ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper