ہندوستان

سوشانت سنگھ راجپوت کیس ، معاملہ سیاسی ہوگیا ہے: بہار ڈی جی پی

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Mumbai  (India)  on 12-August-2020

ممبئی / پٹنہ: سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کیس کی تحقیقات میں تیزی کے بعد بہار کے ڈی جی پی گپتیشور پانڈے نے کہا ہے کہ اب یہ کیس سیاست زدہ ہوتا جارہا ہے۔ بہار کے پولیس چیف گپتیشور پانڈے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب یہ واقعہ پیش آیاتھا تو ہم نے اس واقعہ کو سیاست زدہ ہونے کے متعلق گمان بھی نہیں کیا تھا، لیکن اب اس معاملے نے ایک سیاسی شکل اختیار کرلی ہے۔خیال رہے کہ سوشانت سنگھ راجپوت 14 جون کو ممبئی کے باندرا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر مردہ پائے گئے تھے۔ ممبئی پولیس نے اسے خودکشی کا واقعہ قرار دیا۔ سوشانت کی آخری فلم’دل بیچارہ‘ گذشتہ ماہ جولائی میں ریلیز ہوئی تھی۔سوشانت کے اہل خانہ نے جولائی میں پٹنہ میں ایف آئی آر درج کروائی تھی ، جس میں اس نے 34 سالہ اداکار کے ساتھ گرل فرینڈ ریا چکرورتی پر مالی دھوکہ دہی اور خودکشی کا الزام لگایا تھا۔ ممبئی پولیس بھی اس معاملے میں تفتیش کر رہی ہے۔ سی بی آئی نے سوشانت کے والد کی درخواست پر بھی ایف آئی آر درج کی ہے۔ اس کے علاوہ منی لانڈرنگ کے الزامات کی بھی ای ڈی جانچ کر رہی ہے۔اس معاملے میں دونوں ریاستوں کے مابین تنازعہ کی صورتحال پیدا ہوگئی ۔ بہار نے منگل کے روز سپریم کورٹ میں دلیل پیش کی تھی کہ سوشانت سنگھ راجپوت کی موت سے متعلق معاملہ میں ایک ماہ میں درجنوں افراد سے پوچھ گچھ کرنے کے باوجود مہاراشٹرا نے دو ماہ میں اب تک کچھ نہیں کیا۔سپریم کورٹ میں اس کیس کی سماعت کے گھنٹے بعد بہار پولیس چیف پانڈے نے کہا کہ میری نظر میں (یہ معاملہ) بہار کے دائرہ اختیار میں ہے، چونکہ معاملہ ابھی سپریم کورٹ میں ہے ، اس لئے میں اس سے زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا۔ خیال رہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لئے ممبئی پہنچے بہار کے آئی پی ایس آفیسر ونے تیواری کو بی ایم سی کے ذریعہ قرنطینہ کئے جانے پر بہار کے پولیس چیف نے کہا کہ جب ایف آئی آر (سوشانت کے اہل خانہ کے ذریعہ) درج کی جاتی ہے ، تو ہمیں معاملے کو تفتیش کے لئے شواہد جمع کرنے پڑتے ہیں ،چار رکنی ٹیم ایک ہفتے کے لئے ممبئی گئی۔ ممبئی پولیس نے کسی دائرہ اختیار کے بارے میں بات نہیں کی۔ اس کیس کی اب تک کی پیشرفت کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ہم نے 10 افراد کے بیانات قلمبند کیے ہیں۔ ہمارے پاس میڈو لیگل رپورٹ ، ایف ایس ایل رپورٹ یا سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں ہے۔ ہم نے جو بھی ثبوت اکٹھے کیے ہیں ، ہم اس کی تفصیلات کسی بھی پلیٹ فارم پر شیئر کرسکتے ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper