آرٹیکل

اولاد کی تعلیم و تربیت والدین کی اہم ذِمہ داری

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded  on 23-September-2020

بچے والدین اور افرادِ خاندان کے لیے قابلِ فخر سرمایہ اوراللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہوتے ہیں۔اسی طرح یہ ہر قوم ونسل کا روشن مستقبل بھی ہوتے ہیں ،جن کی کامیابی وترقی کا انحصارودارومدار بچوں ہی پر مرکوز ہوتاہے۔گویا ہر لحاظ سے بچے گھر،خاندان اور سماج کے لیے کسی نعمتِ غیر مترقبہ سے کچھ کم نہیں ہوتے ہیں۔

اسلام نے سماج ومعاشرے کے دیگر طبقات کی طرح انہیں بھی حقوق وتحفظات اور کئی ایک مراعات دے رکھا ہے،تاکہ وہ حقوق ومراعات کا فائدہ اٹھا کرشخصی تعمیروترقی اور علمی وجاہت وبلندی تک پہنچ سکیں۔چناں چہ اسلام میں والدین،سرپرست حضرات اورذمہ داران کے کندھوں پر یہ گوناگوں ذمہ داریاں عائد کی گئی ہے کہ وہ بچوں کی پیدائش سے لے کر جوانی تک تعلیم و تربیت اور نشوونما میں اہم کردار اداکریں۔ان کی پیدائش کے بعد ان کا اچھا نام رکھیں، صغر سنی ہی سے انہیںاچھے اخلاق وعادات اورافعال وکردار سکھائیں،انہیں دینی،علمی،اخلاقی اور بہتر معاشرتی ماحول میںپروان چڑھائیں۔ان کی بہتر تعلیم وتربیت اور پرورش وکفالت کا اہتمام وانصرام کریں۔جب وہ چلنے پھرنے اوربات چیت پر قادر ہوجائیں تو تعلیم وتربیت سے ان کا رشتہ استوار کریں۔ان کی ہر طرح کی ذہنی ،نفسیاتی اور عملی تربیت ونگہ داشت کا بھرپور خیال رکھیں۔

یہاں اس بات کی وضاحت بہت ضروری ہے کہ آج کل والدین اپنی اولاد کی تربیت ونگہ داشت کے تعلق سے انتہائی طور پر تغافل وسستی کا شکار ہیں،جس کی وجہ سے وہ شنیع وفظیع عادتوں اورغلط حرکتوں میں ملوث ہوجاتے ہیں،اور پھر بڑے ہوکر گھر،خاندان اورسماج ومعاشرے کے لیے ذلت ورسوائی،فسادوبگاڑ اور تباہی وبربادی کا سبب بنتے ہیں،جن پر والدین کو ازحد توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اگر وہ اپنے حقوق کو اداکرنے سے پہلو تہی کرتے ہیں توانہیں نہیں بھولنا چاہیے کہ اللہ کے پیارے رسول ﷺ نے ارشادفرمایا:

تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے، اور تم سے اپنے اہل و عیال کے متعلق باز پرس ہوگی۔(صحیح البخاری 5/ 2)

اس حدیثِ پاک کی روشنی میںیہ بات صاف ہوگئی کہ اگر والدین یا سرپرست حضرات اپنی اولاد یا زیرِ کفالت لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں کسی بھی طرح کی سستی یا کمی کرتے ہیں تو وہ اس کے جواب دہ ہوں گے۔

چناں چہ اللہ کے پیارے رسول ﷺ نے بچوں کی دینی وعملی تعلیم وتربیت کے لیے کچھ رہدایات و تاکیدات عطافرمائی ہیں ،جنہیں یہاں بہ طور نمونہ پیش کیا جارہاہے، ملاحظہ فرمائیں اوران کی روشنی میں اپنی اولاد کی بہتر طور پر تعلیم و تربیت کے فرائض کو سر انجام دیں۔

٭رسول اللہ ﷺ والدین وسرپرست حضرات کو اپنی اولاد کونماز کی تاکید کرنے کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو،جب وہ سات سال کے ہوجائے اوروہ جب دس سال کے ہوجائے (اورنمازنہ پڑھیں)تو انہیں مارو،اور(دس سال کی عمر میں)انہیںاپنے سے الگ الگ سلاؤ۔( ابو داود، السنن، کتاب الصلاۃ، باب متی یومرالغلام،:1 133، رقم : 495)

٭تعظیم وادب کے بارے میں آپ ارشادفرماتے ہیں:اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرواور انہیں ادب سکھاؤ.(ابن ماجۃ، السنن، کتاب الادب، باب بر الوالد، 1211:2، رقم 3671:)

٭بہترین تربیت ونگہ داشت کے بارے میں آپ فرماتے ہیں:جس کے یہاں کوئی بچہ ہوتو وہ اس کی اچھی تربیت کرے۔( دیلمی، الفردوس بماثور الخطاب،:3 513، رقم :5598)

٭بچوں سے الفت ومحبت اورشفقت ورحمت سے پیش آنے کے بارے میں آپ ارشادفرماتے ہیں:بچوں سے محبت کرو اور ان پر رحم کرو،جب ان سے وعدہ کروتو پورا کرو ،کیوں کہ وہ یہی سمجھتے ہیں کہ تم ہی انہیں رزق دیتے ہو۔

٭ان کے ساتھ عدل وانصاف کے ساتھ پیش آنے کے بارے میں آپ ارشادفرماتے ہیں:اپنی اولاد کو تحفہ دیتے وقت برابری رکھو۔(بیہقی، السنن الکبری،:6 177)

ان کے علاوہ بھی بچوں کے سلسلے میںبہت سے فرامین نبوی ﷺ ہیں ،جوبچوں کی تربیت کے لیے راہ نما اصول اور مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔لہذا والدین اور سرپرست حضرات کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت ونگہ داشت قرآن واحادیث کی تعلیمات کی روشنی میں کریں۔اسلام نے ان کے ذمہ جن حقوق کی ادائیگی کو لازم قراردیا ہے،وہ ان کو بہ طریق احسن بجا لائیں۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper