سیاست

آزادی کے بعد کسانوں اور مزدوروں کی ترقی کے نام پر کھوکھلے نعرے دیئے گئے: مودی

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | New Delhi  (India) on 25-September-2020

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز کہا کہ آزادی کے بعد دہائیوں تک کسانوں اور مزدوروں کی ترقی کے نام پر ملک اور ریاستوں میں کئی حکومتیں بنیں لیکن ان کے مسائل حل نہیں کئے گئے۔ مسٹر مودی نے جن سنگھ کے بانیوں میں سے ایک پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی کے موقع پرویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ بھارتیہ جنتا پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں ، مزدوروں اور خواتین کی فلاح و بہبود کے نام پر کھوکھلے نعرے دیئے گئے ۔ انہیں محض وعدوں اور قوانین میں الجھا رکھا گیا ۔ ایک ایسا جال جسے نہ تو کسان سمجھ پاتا تھا اور نہ ہی مزدور۔انہوں نے کہا کہ آزادی کی کئی دہائیوں تک کسانوں اور مزدوروں کے نام پر بہت سے نعرے لگائے گئے ، بڑے بڑے منشور لکھے گئے ، لیکن وقت کی کسوٹی نے یہ ثابت کردیا کہ یہ ساری چیزیں کتنی کھوکھلی تھیں۔ ملک ان چیزوں کو بخوبی جانتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کسانوں ، مزدوروں اور خواتین کی طرح ہی چھوٹے چھوٹے روزگار سے وابستہ لوگوں کا ایک بہت بڑا طبقہ ایسا تھا جس کا کبھی خیال نہیں رکھا گیا ۔ ریڑی پھڑی پرکام کرنے والے لاکھوں لوگ عزت کے ساتھ کے اپنے اہل خانہ کی پرورش کرتے ہیں ، ان کے لئے بھی سرکار نے پہلی بار ایک خصوصی اسکیم تیار کی ہے ۔ مسٹر مودی نے کہا کہ جو پہلے لیبر قوانین تھے وہ ملک کی آدھی آبادی خواتین افرادی قوت کے لئے کافی نہیں تھے۔ اب نئے قوانین سے بہن بیٹیوں کو یکساں مشاہرہ دیا گیا ہے اور ان کی زیاد ہ حصہ داری کو یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب جب بھی مزدوروں نے آواز اٹھائی تب تب انہیں کاغذ پر ایک قانون دیے دیا گیا۔ آج جب ملک کو خود انحصار بنانے کے لئے ہر ایک شہری انتھک محنت کر رہا ہے، تب غریبوں ، دلتوں ، پسماندہ ، نوجوانوں ، خواتین ، کسانوں ، قبائلیوں اور مزدوروں کو ان حق دلانے کا تاریخی کام ہواہے۔انہوں نے کہا کہ کسانوں سے ہمیشہ جھوٹ بولنے والے کچھ لوگ اپنے سیاسی مفادات کی وجہ سے انہیں الجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ لوگ افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ ایسی افواہوں سے کسانوں کو بچانا بی جے پی کارکنوں کی ذمہ داری ہے۔ مسٹر مودی نے کہا ’’ ہمیں کسان کا مستقبل روشن بنانا ہے ‘‘۔وزیر اعظم نے کہا کہ ترقی پسند اتحاد حکومت کےگزشتہ چھ سالوں کے دوران کسان کریڈٹ کارڈ سے کسانوں کو تقریبا 20 لاکھ کروڑ روپئے کا قرض دیا گیا تھا ، بی جے پی حکومت کے پانچ سالوں میں کسانوں کو تقریبا 35 لاکھ کروڑ روپئے کا قرض دیا گیا ہے۔ حکومت اس بات کی بھی کوشش کر رہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ کسانوں کے پاس کسان کریڈٹ کارڈ ہو انہیں کھیتی کے لئے آسانی سے قرضہ حاصل ہو ۔ پہلا صرف اسی کسان کو کے سی سی کا فائدہ ملتا تھا جس کے پاس دو ہیکٹر اراضی ہو۔ حکومت اب اس دائرے میں ملک کے ہر کسان کو لائی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں مسلسل کوششیں کی گئی کہ کسانوں کو بینکوں سے جوڑا جائے۔ پی ایم کسان سمان ندھی کے تحت ملک کے 10 کروڑ سے زیادہ کسانوں کے بینک کھاتوں میں مجموعی ایک لاکھ کروڑ سے زائد روپے دیے گئے ہیں ۔ فصل کی لاگت کا ڈیڑھ گنا منیمم اسپورٹ پرائس طے کیا گیا اور اس میں ریکارڈ اضافہ کیا گیا ہے اورریکارڈ سرکاری خریداری کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔مسٹر مودی نے کہا کہ کسانوں کو ایسے قوانین میں الجھا کر رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی ہی پیداوار کو اپنی مرضی کے مطابق بیچ نہیں سکتے تھے ۔نتیجہ یہ ہوا کہ پیداوار میں اضافہ ہونے کے باوجود کسانوں کی آمدنی میں اتنا اضافہ نہیں ہوا ۔ ان پر قرض ضرور بڑھتا گیا۔انہوں نے کہا پنڈت دین دیال جی ہی تھے جنہوں نے ہندوستان کی قومی پالیسی ، معیشت اور معاشرتی پالیسی ان تینوں کو صلاحت کے حساحب سے طے کرنے کی بات کہی اور لکھی تھی ۔ غریب ، کسان ، مزدور ، خواتین ، یہ سبھی خود انحصار ہندوستان کے مضبوط ستون ہیں ۔ اس لئے ان کی عزت اور خود اعتمادی ہی خودانحصار ہندوستان کی قوت ہے ۔ ان کوبااختیار بنانے سے ہندوستان کی ترقی ممکن ہے۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper