دنیا بھر سے

برطانیہ میں کرونا وائرس کی نشان دہی کے لیے ایپلی کیشن کا اجرا

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | London  (International) on 26-September-2020

لندن: برطانیہ میں کرونا وائرس کی ایک ایسی ایپلی کیشن متعارف کرائی گئی ہے جس سے رابطے میں آنے والے افراد، پر خطر مقامات اور جگہوں کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں، جہاں لوگوں کو جانے کی اجازت دی گئی ہو۔اس ایپلی کیشن کو جمعرات کے روز انگلینڈ اور ویلز میں لانچ کیا گیا ہے۔نیشنل ہیلتھ سروسز کی کرونا وائرس کی ایپلی کیشن ایک ایسے موقع پر سامنے ا?ئی ہے جب برطانیہ کو وبا کی دوسری لہر کا سامنا ہے اور وہاں ان دنوں روزانہ کی بنیاد پر کیسز کی تعداد اس کے قریب پہنچ رہی ہے جتنی پہلی لہر کے عروج کے دنوں میں تھی۔حکومت نے کرونا وائرس کی ایپلی کیشن مئی میں متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔ مگر ابتدائی ٹرائل میں مسائل پیدا ہو گئے تھے۔ بعد ازاں یہ ایپلی کیشن تیار کرنے والوںں نے مقامی ماڈلز ترک کر کے گوگل اور ایپل کے ماڈلز کے استعمال سے اسے مکمل کیا۔ایپلی کیشن کی ریلیز میں تاخیر پر حکومت کا مؤقف یہ تھا کہ اسمارٹ فونز کے ذریعے کرونا کا مقابلہ کرنا اہم نہیں ہے۔تاہم اب برطانیہ کے امورِ صحت کے سیکرٹری میٹ ہنکاک نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جیسے جیسے روزانہ کی بنیاد پر کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ہر ذریعے کو وائرس سے لڑنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔یہ ایپ بلوٹوتھ سگنلز کے ذریعے اس وقت لاگ آن ہو جاتی ہے جب کوئی ایسا شخص جس کے سمارٹ فون پر یہ اپیلی کیشن موجود ہو، کسی دوسرے ایسے شخص سے رابطے میں آتا ہے، جس کے فون پر یہ اپیلی کیشن ہو اور اس سے فاصلہ دو میٹر سے کم ہو اور 15 منٹ سے زیادہ وقت تک یہ صورت حال برقرار رہے۔اگر ایسے میں کسی موقع پر ان میں سے کسی شخص میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو جائے، تو وہ ان تمام لوگوں کو جس سے وہ رابطے میں آیا ہو، اس کی اطلاع دے سکتا ہے اور مذکورہ افراد14 دن قرنطینہ میں رہ سکتے ہیں۔ایپلی کیشن ہر صارف کو ایک آئی ڈی دیتی ہے جس سے اس کی معلومات اور شناخت خفیہ رہتی ہے۔اس ایپلی کیشن کے ذریعے صارفین کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی بکنگ بھی کرا سکتے ہیں۔ اپنی علامات چیک کر سکتے ہیں۔ یہ ایپلی کیشن 16 برس سے زائد عمر کے افراد کے استعمال کے لیے ہے۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper