اسلام

بیٹی والدین کے لیے دخول جنت کا عظیم ذریعہ

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded  on 16-September-2020

مذہب اسلام نے بیٹی کو کس قدر عزت اور درجہ عطا فرمایا ہے کہ وہ کسی بھی روپ میں ہو والدین کے لیے جہاں حصولِ جنت کا ذریعہ ہے وہیں دخول جنت کا بھی ذریعہ ہے ۔پھر یہ کہ اس کا سب سے پہلا روپ بیٹی سے ہی ہے اور یہی بیٹی آگے چل کر بیوی اور ماں بنتی ہے۔چونکہ عورت سب سے پہلے بیٹی ہوتی ہے اس لیے کہ ہم نے مناسب سمجھا کہ بیٹی کی اہمیت وعظمت اور اسکی کفالت وپرورش کے حوالے سے کچھ تحریر کروں ۔ بیٹیوں کو مذہب اسلام میں ” اللہ کی رحمت” قرار دیا گیا ہے۔اسلام سے قبل بیٹی کی پیدائش کو باعث شرمندگی تصور کیا جاتا تھا اور اس شرمندگی کو مٹانے کے لیے بعض لوگ اپنی بیٹی کو زندہ دفن کردیتے تھے اور پھر ایسے واقعات تاریخ بن کر رہ جاتی۔

بیٹیوں کی پیدائش پر غم وغصہ اسی دور جاہلیت کے ساتھ خاص نہیں بلکہ آج کے پڑھے لکھے معاشرے میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اس رسم بد کے امین نظر آتے ہیں ، جو لڑکے کی پیدائش پر خوشی و مسرت کا اظہار کرنے کے لیے تو تمام ذرائع اختیار کرتے ہیں مگر لڑکی کی پیدائش پر والدین کے سارے ارماں ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں اور وہ جوش و خروش نظر نہیں آتا جو لڑکے کی پیدائش پر ہوا کرتا ہے ۔ بعض بے حس لوگ نومولود بچی کی ماں کو قسم قسم کے طعنے دیتے ہیں حتی کہ طلاق تک کی دھمکی بھی دے دی جاتی ہے اور کبھی کبھار زیادہ بیٹیوں کی پیدائش پر طلاق جیسی ناپسندیدہ شے کو بلاوجہ شرعی عملی جامہ بھی پہنا دیا جاتا ہے ۔ ایسے افراد کو سوچنا چاہیے کہ وہ کیا کر رہے ہیں ؟ اپنے قول و فعل سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کو خود سے دور کر رہے ہیں ؟ بجائے شکر ادا کرنے کے ناشکری کی مرتکب ہو رہے ہیں اور اللہ تعالی کی تقسیم پر ناخوش ہیں۔ گو یا کہ اس کے کام پر اعتراض کر رہے ہیں ۔ ہاں ! ہاں !! ایسے افرادتقسیم باری سے ناخوش ہیں کیونکہ کسی کو بیٹیاں دینا یہ اللہ تعالی کا کام ہے ، وہی بیٹے تقسیمِ فرماتا ہے اور وہی بیٹیاں ۔ جب حقیقت یہ ہے تو پھر بیٹی کے ملنے پر رنج و غم کا اظہار کرنا کونسی عقلمندی ہے ؟ ایسے افراد کو یوں بھی غور کرنا چاہیے کہ کیا اس کی والدہ کبھی بیٹی نہ تھی اور اگر وہ نہ ہوتی تو کیا یہ دنیا دیکھ پاتا ۔ اگر اس کی کوئ بہن ہے تو کیا اس کے باپ کی بیٹی نہیں ہے ؟ اور تو اور اس کی بیوی بھی تو پہلے ایک بیٹی ہی تھی اگر وہ نہ ہوتی تو کیا اس کے شادی کے سپنے شرمندہ تعبیر ہو سکتے تھے۔

انسان ہزار علم حاصل کرلے مگر یہ نہیں جان سکتا اس کے حق میں کیا بہتر اور کیا بہتر نہیں ہے ۔ بیٹی یا بیٹا ملنے کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں ۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ کون بیٹی کے لائق ہے اور کون بیٹے کے لائق اور کس کے حق میں اولاد نہ ہونا ہی بہتر ہے ۔ بیٹا ہویا بیٹی ہر حال میں شکر الہی بجا لانا چاہیے اور بیٹی کی پیدائش پر ناپسندیدگی کا اظہار بالکل نہیں کرنا چاہیے۔ زمانہ جاہلیت میں جہاں بیٹی کو اپنے لیے باعثِ شرمند گی تصور کیا جاتا تھا ایسے وقت میں حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بیٹی کو وہ عزت و شفقت بخشتا جس کا کوئی بھی مذہب تصور تک نہیں کر سکتا۔ایسے ہی ماحول میں آپ نے سر عام یہ اعلان فرمایا کہ ” فاطمہ جسم کا ایک حصہ ہے توجس نے اسے ناراض کیا اس نےمجھے ناراض کیا(بخاری شریف)

یہ جملہ ایک طرف حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالی عنہا کی فضیلت وعظمت بیان کر رہا ہے تو دوسری طرف بیٹیوں سے نفرت کرنے والوں سے ایک کھلا جہاد ہے ۔ایک بار اظہار شفقت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔ .ترجمہ۔ “بیٹیوں کو ناپسند نہ کرو کیوں کہ میں بھی بیٹیوں والا ہوں اور بے شک یہ بیٹیاں تو تو بہت محبت کر نے والیاں،غمگسار اور بہت زیادہ مہربان ہوتی ہیں۔(حدیث)

یاد رہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بیٹیوں پر صرف زبانی شفقت کا اظہار نہیں فرمایا بلکہ بنفس نفیس بیٹیوں پر شفقت وہمدردی کرکے دنیا والے کو دکھایا بھی ہے ۔پہلے آپ بیٹی کے سراپا رحمت وبرکت أوربا عث دخول جنت ہونے پر درج ذیل ارشادات رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ملاحظہ فرمائیں پھر ہم بیٹیوں کے ساتھ آپ کے حسن سلوک کے مظاہرہ کرنے کو بیان کریں گے۔ پہلی حدیث: حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس کو بیٹی عطا کی جائے اور وہ اسے نہ تکلیف پہنچائے نہ اسے برا جانے اور نہ ہی بیٹے کو اس پر فضیلت دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔(المستدرک،ج5,ص248)

دوسری حدیث:حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کسی کے گھر بیٹی پیدا ہوتی ہے اللہ تعالی اس کے گھر فرشتوں کو بھیجتا ہے جو کہتے ہیں:

اے گھر والوں ! تم پر سلامتی ہو۔ پھر فرشتے نو مولود بچی پر اپنے پروں سے سایہ کرتے ہیں اور اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہتے ہیں کہ یہ ایک کمزور جان ہے جو ایک کمزور( عورت )سے پیدا ہوئی ہے۔ پس جس نے اس کمزور جان (بیٹی) کی پرورش کی ذمہ داری لی تاقیامت اللہ تعالی کی مدد اس کے ساتھ رہے گی( مجمع الزوائد،ج8,ص285)

تیسری حدیث :حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس ایک عورت اپنی بچیوں کے ساتھ کچھ مانگنے کے لیے آئی۔ اس وقت ان کے پاس صرف ایک کھجور تھی تو انہوں نے اسے وہی ایک کھجور دے دی۔ عورت نے کھجورکے دو حصے کر کے اپنی بچیوں میں بانٹ دئیے اور خود اس نے کچھ نہ کھایا۔ ام المومنین نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا تو آپ نے فرمایا : جس کی بچیوں کے سبب آزمائش کی گئی اور اس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو وہ بچیاں اس کے لئے جہنم سے روکاوٹ ہوجائیں گی۔(مسلم شریف1414)

چوتھی حدیث : حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا: جس کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کا خیال رکھے، انہیں اچھی رہائش دے اور ان کی پرورش کرے تو اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔عرض کی گئی: اگر دو بیٹیاں ہوں تو؟ ارشاد فرمایا اگر دو ہوں تب بھی( یہی فضیلت ہے )دوبارہ عرض کی گئی اگر ایک ہو تو؟ ارشاد فرمایا اگر ایک ہو تب بھی۔(المعجم الاوسط، ج4,ص347)

پانچویں حدیث: حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے : جسکی تین بیٹیاں اور تین بہنیں ہوں دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کی اچھی پرورش کرے اور ان کے معاملے میں اللہ تعالی سے ڈرتا رہے تو اس کے لیے جنت ہے۔(ترمذی شریف،ج3،ص367)

چھٹی حدیث: ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے اپنی انگلیاں ملا کر ارشاد فرمایا : جس نے دو بچیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائیں تو میں اور وہ شخص بروز قیامت اس طرح آئیں گے۔(مسلم شریف،

بیٹوں کے طلبگارو! دیکھو ! بیٹیاں اللہ تعالی کی کتنی بڑی رحمت ہیں کہ اپنے والدین کی اچھے سلوک کی بدولت انہیں جنت جیسی اعلی ترین نعمت سے سرفراز کرتی ہیں ۔ مگر شرط یہی ہے کہ اس رحمت الہی کی قدر پہچانتے ہوئے اسے برا سمجھنے اور اذیت دینے سے اجتناب کیا جائے اور جس طرح بیٹوں کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اسی طرح ان کی بھی ہر خوشی کو پورا کرنے کا اہتمام کیا جائےجبکہ والدین اور سرپرستوں کے لئے ان پیاری پیاری حدیثوں میں سبق ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو اچھا کھلائیں، عمدہ کپڑے پہنائیں، آرام دہ بستر پر سلائیں ،اچھی تعلیم وتربیت سی آراستہ کریں اور نیک و اچھارشتہ تلاش کرکے ان کی شادی کریں ۔ الغرض ہر طرح سے ان کا خیال رکھیں اور ان پر حتی المقدور خرچ کرنے سے نہ گھبرائیں کہ یہ تو ان کو جہنم کی آگ سے بچائیں گی اس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ۔بیٹیوں کی پرورش میں کوشاں رہنے والے کے لئے نہ صرف جہنم سے آزادی کی خوشخبری ہے اور ساتھ ہی ساتھ دخول جنت کا مزدہ ہے بلکہ اس کو اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرنے والے مجاہد جیسا اجر و ثواب عطا ہوگا جو دن روزے میں اور رات عبادت میں گزارے ۔ قیامت کا ہوش ربا دن جس کی دہشت و سختی اس قدر ہوگی کہ ہر شخص نفسی نفسی پکارتا ہوگا۔ ایسے دل ہلا دینے والے ماحول میں اہل محشر جس ہستی کو تلاش کررہے ہوں گے اور گنہگار جن کے دامن امن میں پناہ لینے کے لئے بے تاب ہوں گے اور ساری خلقت جن کی ایک جھلک دیکھنے کو بے چین ہوں گی اس وقت بیٹیوں کی پرورش کرنے والا خوش قسمت مسلمان اس مطلوب و مقصود محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنا قریب ہوگا جیسے شہادت کی انگلی درمیان والی انگلی کے قریب ہوتی ہے اور اسی پر بس نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیٹیوں کی اچھی پر ورش کرنے والے کو اپنے ساتھ جنت میں لے کر جائیں گے۔

اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے ہمیں اپنے بچیوں کی صحیح طور پر پرورش کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان بچیوں کو والدین کے لئے دوخول جنت کا عظیم ذریعہ بنائے۔آمین آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper