سیاست

متاثرہ کی لاش کوجبراً جلانے پرراہل ۔ پرینکاکا پھوٹا غصہ

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | New Delhi  (India)  on 30-September-2020

نئی دہلی ہاتھرس: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور اترپردیش کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے ہاتھرس میں ایک لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے واقعات اور اس سے جڑے حقائق کودبانے کو لیکرزیادتی اور سنگین جرائم بتاتے ہوئے ریاست کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے استعفیٰ دینے کامطالبہ کیا ہے۔راہل نے بدھ کو ایک جاری بیان میں کہا کہ ہندوستان کی ایک کا ریپ۔ وقتل کیاجاتا ہے۔حقائق چھپائے جاتے ہیں۔ اور آخر میں اسکے اہل خانہ سے آخری رسومات کاحق بھی چھین لیا جاتا ہے ۔ یہ بات ناگوار اورناانصافی ہے۔پرینکا گاندھی نے کہا کہ رات کو2:30بجے اہل خانہ گڑ گڑاتے رہے ، لیکن ہاتھرس کی متاثرہ کے جسم کو اترپردیش کی انتظامیہ نے جبراً جلا دیا۔ جب وہ زندہ تھی تب سرکار نے اسے سیکورٹی نہیں دی۔جب اس پر حملہ ہوا تو سرکار نے وقت پرعلاج نہیں کرایا۔متاثرہ کے مرنے کے بعدسرکار نے اہل خانہ سے بیٹی کی آخری رسومات کا حق بھی چھینااور متوفیہ کو سمان تک نہیں دیا۔واڈرا نے اسے انسانیت سوز اور سنگین جرم قرار دیا ۔آپ نے جرائم کو روکا نہیں،بلکہ مجرموں کی طرح سلوک کیا۔مظالم کو روکا نہیں، ایک معصوم بچی اور اس کے اہل خانہ پر دوہرا ظلم کیا۔یوگی آدتیہ ناتھ استعفیٰ دو۔آپ کے راج میں انصاف نہیں،صرف ناانصافی کا بول بالا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper