ہندوستان

متھرا مسجدکوہندوئوں کے حوالے کرنے کیلئے عدالت میں کیس درج

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | New Delhi  (India) on 26-September-2020

نئی دہلی: بابری مسجد کامقدمہ جیتنے کے بعدمتھرا کی ایک عدالت میں ایک پیٹیشن دائر کی گئی۔ جس نے شاہی عیدگاہ مسجد کو منہدم کرنے اور کرشن رام جنم بھومی کی حق ملکیت حاصل کرنے کی مانگ کی گئی۔مقدمہ میں عدالت سے درخواست کی گئی کہ وہ13.37ایکڑکرشن جنم بھومی کی زمین ان کے حوالے کی جائے ۔ یہ مقدمہ ’’بھگوان شری کرشن ورجمان ‘‘کی طرف سے رنجنا اگنی ہوتی اور اس کے چھ ساتھیوں نے دائر کیا۔ پیٹیشن دائر کرنے کے بعد ان کے وکیل ہری شنکر جین اور وشنو شنکر جین نے کہا کہ کرشن جنم بھومی کے ارد گرد جو قبضہ ہوا ہے اسے ہٹایا جائے ۔اس میں کہاگیا کہ عیدگاہ مسجدٹرسٹ نے جوعمارت کھڑی کی گئی وہ شری کرشن ورجمان کی ملکیت ہے۔حکومت ہند نے بابری مسجد کے منہدم ہونے کے بعد پارلیمنٹ میںایک قرار داد پاس کی، جس میں یہ کہاگیا کہ1949میں مذہبی عبادت گاہوں کی جو بھی حیثیت رہی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکے گی۔اب یہ مسئلہ اٹھانے کے بعد ایک بار پھر تنازعہ کھڑا ہوجائے گا۔سنگھ پریوار کی ہمیشہ یہ مانگ رہی کہ بابری مسجد کے علاوہ متھرا اور کاشی کی عبادت گاہوں کو بھی ان کے حوالے کیاجائے۔اپنی عرضداشت میں شری کرشن ورجمان نے کہا کہ مغل بادشاہ نے 1669-70میںشری کرشن مندر کا ایک حصہ توڑا اور اس کی جگہ مسجد تعمیر کی گئی۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper