آرٹیکل

مسلمانوں پر جبر و تشدد کی یلغار کب تک ؟‎

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded  on 16-September-2020

ہندوستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلمان سیاسی طور پر بے سہارا ہونے کے احساس سے سے گزر رہے ہیں، آئین اور سیکیولرزم کا تحفط کرنے کی وزیر اعظم نریندر مودی کی یقین دہانیوں کے باوجود بی جے پی اور ہندو تنظیموں کے سخت گیر رہنما وقتاً فوقتاً مسلم مخالف اور نفرت انگیز بیانات دیتے رہے ہیں، ملک اس وقت سیاسی تغیر کے دور سے گزر رہا ہے اور مسلمان تیزی سے بدلتے ہوئے ہندوستان میں تمام مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود اپنا مقام حاصل کرنے کے لیے نبرد آزما ہیں، بی جے پی کے اقتدار میں آنے سے حکومتی سطح پر اسلام دشمن اقدامات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ مسلمانوں کو معاشرے میں امتیازی سلوک کا بھی سامنا ہے، کبھی مسلمانوں پر گاؤ کشی یا گایوں کی خرید و فروخت کا الزام عائد کرکے انہیں وحشیانہ ہجومی تشدد کے ذریعہ موت کے گھاٹ اتارنے کی وارداتیں سامنے آتی ہیں، کبھی ذات پات پر مبنی تشدد جس میں پسماندہ طبقات پر کیا جانے والا تشدد یا قبائلی آبادی کو ڈرانے دھمکانے اور ان کی جائداد ہتھیانے سے جڑے تشدد کے معاملات سامنے آتے ہیں، کبھی کسی چور کے پکڑے جانے پر کسی ہجوم کا اس پر ٹوٹ پڑنا یا اسی طرح کسی پر جھوٹا الزام لگانے یا لگنے کے بعد لوگوں کا کسی پر حملہ کرنا، ملک میں ہجومی تشدد کے شکار بیش تر افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اگر یہ افراد زندہ بچ جائیں تو شدید زخمی ہو جاتے ہیں۔ شہریت ایکٹ کی آڑ میں اسلام کے پیروں کاروں کی بڑے پیمانے پر گرفتاری کابھی اندیشہ ہے مسلمانوں کو درپیش خطرات کی طرف دنیا کی جلد توجہ مبذول نہ کرائی گئی تو بھارت میں متوقع انسانی المیے کو روکنا مشکل ہوجائے گا یہ بات اب عیاں ہوگئی ہے کہ حکومت مسلمانوں کو اہمیت دینے کو تیار نہیں، ایک طرف تو لوگ کہتے ہیں کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا تو دوسری طرف کسی بھی قسم کے واقعات اور کسی بھی طرح کے دھماکوں کے بعد سب کی انگلیاں مسلمانوں کی ہی طرف اٹھنے لگتی ہیں، دنیا بھر میں مسلمانوں پر حملے ہوں اور اس کے بدلے میں اگر کچھ کیا جائے تو دہشت گردی ہوتا ہے، ٹی وی چینلز نفرت انگیز، دھماکے دار بریکنگ چلاتے ہیں اور اخبارات مسلمانوں کے خلاف بڑی بڑی شہ سرخیاں لگاتے ہیں، مسلم نوجوانوں کو دہائیوں تک قید میں رکھ کر اذیتیں دی گئیں حالانکہ بعد میں یہ لوگ بے قصورثابت ہوئے، آخران سب کا گنہگار کون ہے؟ ادھر پچھلے کچھ سالوں میں گئورکشا اور لو جہاد کے نام پر مسلمانوں کی لنچنگ اور ان پر ہوئے حملوں سے شکوک و شبہات جنم لینے لگے کہ ہندوستان اب بھی مسلمانوں کے لیے محفوظ ہے یا نہیں ۔ سال 2014 میں جب پہلی بار نریندر مودی کی حکومت بنی، تب سے مسلمانوں کے خلاف ماحول اور زیادہ زہریلا ہو گیا ہے۔ بڑے اور آئینی عہدوں پر بیٹھے لوگوں نے مسلمانوں کے خلاف کھلے عام زہر اگلا۔ملک کی مین اسٹریم کی ہندی میڈیا اور دوسرے ہندوستانی زبانوں کے ٹی وی چینلوں نے بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مسلمانوں کوسیاسی اور سماجی طور پر درکنار کر دینے کی ایک پوری کارروائی منظم طریقے سے چلائی گئی

اب کنگنا رناوت معاملہ کو ہی لے لیجیے، جس کا بحیثیت قوم و مذہب مسلمانوں کا کوئی لینا دینا نہیں، اور غور کرنے والی بات یہ ہے کہ کنگنا کا دفتر مسلمانوں نے نہیں توڑا، کسی مسلمان نے کنگنا کو حرام خور نہیں کہا، پھر کنگنا ہمیشہ بابر ، مسلمانوں ، بالی ووڈ کے اسلامائزیشن کی بات کیوں کر رہی ہے؟ ذرا سوچئے ، منشیات کی وجہ سے مرنے والے ہندو ، ملزمان بھی ہندو، میڈیا بھی ہندو، ممبئی کو پی او کے جیسا کہنے والے بھی ہندو، جے سی بی والے ہندو، سی بی آئی کے لوگ ہندو ، اور گالی و بدسلوکی مسلمانوں کے ساتھ! آخر کیوں؟ دوسری تازہ مثال دہلی فسادات کی ہے، جہاں مسلمانوں کے گھروں اور کاروبار کو ایک منظم اور سوچے سمجھے طریقے سے نشانہ بنایا گیا، مسلمانوں کے گھروں کے در و دیوار جلے، جبکہ ہندوؤں کے صاف ستھرے گھر بلکل اصلی حالت میں موجود ہیں، اسی طرح مسلمانوں کی سبزی، پولٹری، موبائل فون کی دکانیں، منی چینجر اور ایک سوڈا فیکٹری جل کر راکھ ہوئیں، اور پولیس نے نہ صرف کوئی ایکشن نہیں لیا بلکہ ایسی شہادتیں بھی موجود ہیں کہ انھوں نے بلوائیوں کی مدد کی ہے، تبھی تو بلوائیوں نے صرف مسلمان کے گھروں اور دوکانوں کو انتہائی آسانی کے ساتھ نشانہ بنایا، اور جب دہلی پولیس نے اس کی رپورٹ تیار کی تو سارا ٹھیکرا مسلمانوں کے سر پھوڑدیا، بھڑکاؤ بھاشن دینے والے کپل مشرا کا کہیں نام نہیں، جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبہ پر حملہ کرنے والی کو مل شرما کا نام نہیں، جامعہ میں فائرنگ کرنے والے گوپال اور شاہین باغ میں فائرنگ کرنے والے کپل کا نام نہیں، لائیو ویڈیو کر رہی نفرتی راگنی تیواری کا نام نہیں، اسی لئے فسادات کے تعلق سے دہلی پولیس کی جانچ کو کورٹ نے غیر جانب دارانہ نہیں مانا ہے، دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس سریش کمار نے دہلی تشدد کے سے متعلق دہلی پولیس پر تبصرہ کیا تھا،‘’دہلی پولیس عدالتی عمل کا غلط استعمال کررہی ہے”۔ سیشن کورٹ نے بھی دہلی پولیس کی صداقت پر سوال کھڑے کیے تھے، اس کے علاوہ کچھ میڈیا رپورٹوں میں بھی دہلی پولیس کی صداقت پر سوال کھڑے کیے گیے تھے۔

اور اب جے این یو کے سابق طالب علم عمر خالد کو شمال مشرقی دہلی میں فسادات سے متعلق ایک کیس میں گرفتار کیا گیا ہے، اس سال فروری میں 53 افراد تشدد میں ہلاک ہوئے تھے۔ اتوار کے روز خالد کو خصوصی سیل کے لودھی کالونی کے دفتر میں پوچھ گچھ کے لئے طلب کیا گیا تھا، خالد جو ایک دوپہر ایک بجے پہنچے تھے شام کے وقت انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ خالد سے پولیس نے 31 جولائی کو بھی پوچھ گچھ کی تھی، دہلی پولیس آنے والے دنوں میں عمر خالد کے خلاف چارج شیٹ داخل کرنے کی تیاری کر رہی ہے، پولیس کے مطابق ان کے پاس خالد کے خلاف کافی ثبوت ہیں، درج کی گئی ایف آئی آر میں سب انسپکٹر اروند کمار نے ایک مخبر کے حوالے سے بتایا ہے کہ عمر خالد نے ایک ڈنمارک کے شخص اور دو دیگر افراد کے ساتھ مل کر دہلی فسادات کی سازش کی تھی۔ ایف آئی آر کے مطابق خالد نے مبینہ طور پر دو مختلف مقامات پر اشتعال انگیز تقاریر کیں۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ خالد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ ہند کے دوران شہریوں سے باہر جانے اور سڑکیں بند کرنے کو کہا تاکہ بین الاقوامی سطح پر پروپیگنڈا پھیل سکے۔ حالانکہ کچھ سیاسی مبصرین اور اہم شخصیات کے مطابق عمر خالد ان سیکڑوں آوازوں میں سے ایک ہے جنہوں نے ملک بھر میں آئین کے حق میں سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران پرامن ، عدم تشدد اور جمہوری طریقوں کی ضرورت پر ہمیشہ زور دیا، عمر خالد آئین اور جمہوریت کے حق میں نوجوان ہندوستانیوں کی ایک مضبوط اور طاقتور آواز کے طور پر ابھرا ہے۔ گذشتہ کچھ معاملوں میں عدالت نے یہ بھی دیکھا ہے کہ میڈیا غلط معلومات پھیلاتا ہے اور جان بوجھ کر انتخابی معلومات لیک کرتا ہے جس سے میڈیا ٹرائل ہوسکتا ہے اور انصاف پر اثر پڑ سکتا ہے، اسے فی الفور بند کردیا جانا چاہئے، اگر ہم قانون کو اپنا کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں تو ہمیں یقین ہے کہ انصاف ہوگا۔تاریخ دان رامچندر گوہا ، مصنف اروندھتی رائے ، فلمساز سعید مرزا سمیت متعدد قلمکار، آرٹ ، تعلیم اور سیاست سے وابستہ شخصیات نے جے این یو کے سابق طالب علم عمر خالد کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا ہے، اس سلسلے میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ پولیس اسے فورا رہا کرے، بیان میں مذکورہ شخصیات نے کہا کہ بحیثیت شہری آئینی اقدار کے پابند ہونے کے ناطے ہم عمر خالد کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں، اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمر خالد کو شہریت کے قانون کے خلاف پرامن مظاہرے کرنے کی ناقص تحقیقات کے تحت نشانہ بنایا جارہا ہے، بیان میں کہا گیا ہے کہ ان پر قتل، غداری، یو اے پی اے کی سازش یا غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت الزام عائد کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے ، “بہت ہی درد و تکلیف کے ساتھ ہمیں یہ کہنے میں کوئی تردد نہیں ہے کہ یہ انکوائری فروری 2020 میں قومی دارالحکومت میں ہونے والے تشدد کے بارے میں نہیں ہے ، بلکہ غیر آئینی سی اے اے کے خلاف ہے ، جو پورے ملک میں مکمل طور پر پرامن اور جمہوری احتجاج کے بارے میں ہے۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے سابق جسٹس مدن بی لوکور نے کہا ہے کہ لوگوں کی آواز دبائی جارہی ہے اور حکومت کے خلاف آواز اٹھانے پر ہزاروں افراد کو قید کردیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ عوام کی آواز اٹھانے کے بعد ریاستی حکومتیں ان پر غداری کا الزام عائد کردیتی ہیں اور لوگوں کی آواز سختی سے کچلنے کے لئے انہیں حربوں کا استعمال کیا جارہا ہے جو ملک کی آزادی کے لئے لڑنے والوں کے ساتھ کیا جاتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک تقریر جو ملک کی یکجہتی اور سالمیت کی بات کرتی ہے اسے ملک توڑنے والا قرار دیا جارہا ہے اور ایسی باتیں کرنے والوں کو نظربند یا زیر حراست رکھا جارہا ہے، کچھ نوجوان طلبا جو ملک کے لئے کچھ بہتر کر سکتے ہیں ، وہ اس بات کو اٹھا رہے ہیں لیکن آپ کہتے ہیں کہ ہم آپ کو غیر قانونی سرگرمیوں اور غداری کے الزام میں گرفتار کر رہے ہیں۔ جبکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو تشدد کی بات کرتے ہیں اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ہے، انہوں نے ڈاکٹر کفیل کا حوالہ بھی دیا، جنھیں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے پر چھ ماہ تک جیل میں رکھا گیا تھا۔

در اصل یہ سب اس راشٹریہ سویم سنگھ کی کارستانی کا نتیجہ ہے جس کا قیام ہی اسلاموفوبیا کی بنیاد پر عمل میں آیا تھا، اس جماعت کے کثیرالجہتی مقاصد متعین کیے گئے تھے اور آج بھی انہیں مقاصد کے حصول کی کوششیں مرکز میں بر سر اقتدار بی جے پی حکومت کر رہی ہے، آر ایس ایس کے مقاصد میں ملک کی عوام خصوصاً نوجوانوں کی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ذہن سازی کرنا، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو فوجی تربیت دینا اور مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کرنا شامل ہے۔ آر ایس ایس وہ تنظیم جس سے وزیر اعظم مودی کا بھی گہرا تعلق ہے اور جو حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے پیچھے فعال اصل طاقت ہے، وہ تو عرصے سے یہ کہتی رہی ہے کہ بھارت کو ایک ہندو ریاست ہونا چاہیے۔ اور ملک میں آباد جو لوگ ہندو نہیں ہیں انہیں ہندو بن جانا چاہیے، بی جے پی کے لیڈر بار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر مسلمان ملک میں رہنا چاہتے ہیں تو انہیں ہندو بن کر رہنا ہوگا۔ ورنہ وہ ہندوستان سے چلے جائیں، اس مقصد کے لیے وہ مختلف حکمت عملی پر کام کررہے ہیں ایک حکمت عملی یہ ہے کہ مسلمانوں کو ترغیب اور تربیت کے ذریعے ہندو بنایا جائے، اسے گھر واپسی آندولن سے موسوم کیا گیا ہے ۔ ہندو لیڈروں کا کہنا ہے کہ ان مسلمانوں کے آباء و اجداد اصل میں ہندو تھے جب غیر ملکی مسلمان ہندوستان پر حملہ آور ہوئے تو انہوں نے زبردستی یہاں کے باشندوں کو اپنا مذہب چھوڑنے اور مسلمان ہونے پر مجبور کردیا، اب ہندوستان میں ہندؤوں کی حکومت ہے تو ان مسلمانوں کو اپنے گھر یعنی ہندو مذہب میں واپس آجانا چاہیے، لیکن ملک کا مسلمان ان کی سازشوں کے جال میں نہیں آسکتا، ایسے وقت میں ہم ہندوستانی مسلمانوں کو اپنے تشخص کی بقاء اور سیکولر و جمہوری اقدار کو بچانے کے لیے ایک مربوط سیاسی جدوجہد کرنی ہوگی اور اس کے لیے ایک ملک گیر سیاسی جماعت کی تشکیل بہت ضروری ہے، جس کا مقصد ہندوستان کو آئین کے مطابق ایک سیکولر اور جمہوری ریاست بنانا ہو۔ دوسرے یہ کہ اس مقصد کے لیے دیگر اقلیتوں اور امن پسند برادران وطن کو ساتھ لے کر چلیں، اور سب مل کر یہ قومی سیاسی جماعتوں کو مجبور کریں کہ وہ تمام ایسی آئیڈیالوجی کو سیاست سے باہر کا راستہ دکھائیں جو کسی مذہبی امتیاز کو جنم دیتی ہو ۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper