دنیا بھر سے

کِم جونگ اْن: شمالی کوریا کے رہنما نے جنوبی کوریا کے شہری کے قتل پر معافی مانگ لی

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Pyongyang  (North Korea) on 25-September-2020

پیانگ یانگ: شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اْن نے ہمسایہ ملک جنوبی کوریا کے ایک اہلکار کو قتل کر کے ان کی لاش کو آگ لگانے پر معافی مانگی ہے۔یہ پہلا موقع ہے کہ اس طرح کے کسی واقعے پر کم جونگ اْن کی طرف سے ذاتی طور پر معذرت کی گئی ہو۔اطلاعات کے مطابق کِم نے جنوبی کوریا میں اپنے ہم منصب مون جے اِن سے کہا کہ یہ ’خوفناک واقعہ‘ پیش ہی نہیں آنا چاہیے تھا۔جنوبی کوریا کے مطابق ان کا 47 سالہ اہلکار شمالی کوریا کے پانیوں میں تیرتا پایا گیا تھا جس کے بعد شمالی کوریا کے فوجیوں نے ان کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا اور ان کی لاش کو آگ لگا ڈالی۔یہ تقریباً ایک دہائی بعد پہلا موقع ہے کہ شمالی کوریا کی افواج نے جنوبی کوریا کے کسی شہری کو مارا ہو۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر سخت سکیورٹی کا حصار ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا نے اپنی سرحد پر تعینات افواج کو کسی بھی مبینہ شر پسند کو نظر آتے ہی گولی مارنے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر کے مطابق کِم نے جنوبی کوریا کے صدر مون کو لکھے خط میں اس بات کا اعتراف کیا کہ ایسا ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔کِم نے اپنے خط میں کہا کہ وہ اس ہولناک واقعے پر پشیمان ہیں اور جنوبی کوریا کے صدر اور عوام کو مایوس کرنے کے لیے معذرت خواہ ہیں۔شمالی کوریا نے ہمسایہ ملک سے اس واقعے کے حوالے سے اپنی تحقیقات کے نتائج کا بھی تبادلہ کیا ہے جس کے مطابق جنوبی کوریا کے اہلکار کو 10 سے زیادہ گولیاں ماری گئیں۔جنوبی کوریا کی قومی سلامتی کونسل کے ڈائریکٹر سوح ہون کا کہنا تھا کہ اہلکار شمالی کوریا کی حدود میں داخل ہو گیا تھا اور انھوں نے اپنی شناخت ظاہر کرنے کے بجائے بھاگنے کی کوشش کی۔شمالی کوریا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس شخص کی لاش کو نہیں بلکہ جس چیز کے ذریعے وہ تیر رہے تھے، اسے آگ لگائی گئی۔تاہم فوجیوں نے گولیاں چلانے کے بعد جب ان کی لاش ڈھونڈنے کی کوشش کی تو وہ انھیں تلاش نہ کر پائے اور ملک میں نافذ وبا سے بچاؤ کی ہنگامی تدابیر کے مطابق اس شے کو آگ لگا دی جس کے ذریعے وہ تیر رہے تھے۔جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے مطابق مارے جانے والے شخص دو بچوں کے باپ اور محکمہ ماہی گیری کے اہلکار تھے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ پیر کو لاپتہ ہونے سے قبل اپنے کشتی پر سرحد سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر یئون پیؤنگ کے جزیرے کے قریب معمول کی گشت کر رہے تھے۔جنوبی کوریا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق اْن کی حال ہی میں طلاق ہوئی تھی اور انھیں مالی مشکلات کا سامنا تھا۔ اطلاعات کے مطابق وہ اپنے جوتے کشتی پر چھوڑ گئے تھے۔شمالی کوریا کے گشت کرتے فوجیوں کو وہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے ساڑھے تین بجے سمندر میں لائف جیکٹ پہنے تیرتے ہوئے نظر آئے۔فوجیوں نے گیس ماسک پہن کر اْن سے دور سے سوال جواب کرنا شروع کیے، جس کے بعد ’اوپر سے احکامات آئے‘ کہ انھیں مار ڈالا جائے۔ پھر اْنھیں پانی میں ہی گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔اس کے بعد شمالی کوریا کے فوجیوں نے ان کی لاش کو آگ لگا دی۔جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن نے شمال کے فوجیوں کے ہاتھوں اپنے شہری کے قتل کو ایک ’صدمہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی حرکتیں برداشت نہیں کی جائیں گی۔ انھوں نے شمالی کوریا پر زور دیا کہ وہ اس واقعے کے بعد ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔جنوبی کوریا کی قومی سلامتی کونسل نے اپنے بیان میں کہا کہ شمال ’ہمارے شہری کے قتل اور ان کی لاش جلانے کا کوئی جواز نہیں پیش کر سکتا، خاص طور پر جب ان نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔‘حکام کا کہنا تھا کہ انھوں نے تمام تر خفیہ معلومات کا جائزہ لیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ انھیں یہ معلومات کہاں سے ملیں۔بی بی سی کی سیؤل میں نامہ نگار لورا بیکر کہتی ہیں کہ شمالی کوریا کے حکام ملک کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے ممکنہ طور پر اپنے بس میں موجود تمام اقدامات کر رہے ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ حکام 10 اکتوبر کو حکمران جماعت ورکرز پارٹی کے قیام کی 75 ویں سالگرہ منانے کے لیے ایک بڑی فوجی پریڈ منعقد کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔شمالی کوریا پر مہارت رکھنے والے خبر رساں ادارے کوریا رسک گروپ کے سی ای او چیڈ او کیرل نے ٹوئٹر پر کہا: ‘اس پریڈ سے وائرس [پھیلنے] کا بہت بڑا خطرہ موجود ہے۔ لگتا ہے کہ اس خطرے سے متعلق ذہنی کیفیت کا گولی مار کر ہلاک کرنے کی پالیسی کی وجہ ہے۔’شمالی کوریا نے جنوری میں وائرس کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے چین سے اپنی سرحد بند کر دی تھی۔جولائی میں شمالی کوریا کے ریاستی میڈیا نے کہا تھا کہ ملک میں ہنگامی صورتحال کو بلند ترین سطح پر لے جایا گیا ہے۔جنوبی کوریا میں امریکی افواج کے کمانڈر رابرٹ ابرامز نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ شمالی کوریا نے چین کے ساتھ سرحد پر ایک سے دو کلومیٹر کا ایک نیا ‘بفر زون’ قائم کیا ہے اور یہ کہ ملک نے سرحد پار کرنے والے کسی بھی شخص کو ‘گولی مار کر ہلاک کرنے’ کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper