سیاست

زرعی قوانین ایم ایس پی اور منڈی کے نظام کو متاثر نہیں کریں گے: تومر

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir  Urdu News Network | New Delhi (India)  on 16-Oct-2020

نئی دہلی: زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر نریندر سنگھ تومر نے حال ہی میں متعارف کرائے گئے زرعی قوانین کوجمعہ کے روز انقلابی بتاتے ہوئے کہا کہ ہیں کم از کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) اور موجودہ منڈی کے نظام پر ان کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔مسٹر تومر نے یہاں انڈیا انٹرنیشنل فوڈ اینڈ ایگری ہفتے کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کے ذریعہ حال ہی میں پیش کئے گئے انقلابی زرعی قوانین کا ملک میں ایم ایس پی اور موجودہ منڈی کے نظام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، بلکہ کاشتکاروں کو آزادی ملنے اور متبادل بازار دستیاب ہونے سے اب کسان اپنی پیدوار منڈی کے احاطے سے باہر بھی کسی کو، کبھی بھی، کسی بھی مناسب قیمت پر فروخت کرکے زیادہ منافع حاصل کرنے کرسکیں گے۔سی آئی آئی کے زیر اہتمام ایگرو اور فوڈ ٹیک کے 14 ویں ایڈیشن کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت ہند زراعت اور فوڈ سیکٹر کی مستقل ترقی کے لئے پرعزم ہے۔ اسی لئے متعدد اصلاحات اور اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ نئی اصلاحات کے تحت ’ایک ملک ایک بازار‘ اور فارم گیٹ کے بنیادی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں آئیں گی اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔زرعی قوانین کی مخالفت کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اپنے ذاتی مفادات کی وجہ سے غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں اور انہیں گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ ایم ایس پی اور منڈی سسٹم جاری رہنے کے ساتھ ہی نئے التزام کے تحت کنٹریکٹ کاشتکاری کا معاہدہ ہوگا وہ صرف کسانوں کی فصل کے لئے ہی ہوگا، زمین کسانوں کی ہی رہے گی۔مسٹر تومر نے کہا کہ ہندوستانی کھانے اور گروسری مارکیٹ دنیا کا چھٹا سب سے بڑا بازار ہے۔ ہندوستانی فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری ملک کی فوڈ مارکیٹ کا 32 فیصد ہونے کے ساتھ ملک کا سب سے بڑا صنعتی شعبہ ہے۔ نوجوانوں کی زیادہ استعمال کی عادتیں اسے اور بھی بڑا بنا رہی ہیں۔سی آئی آئی کے ڈائریکٹر جنرل چندرجیت بینرجی نے کہا ’’حکومت ہند نے 2022 تک زرعی آمدنی کو دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کے مطابق سی آئی آئی نے اس وژن کو پورا کرنے کی سمت میں زراعت میں اپنی سرگرمیاں ہموار کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے حال ہی میں لائی گئیں زرعی اصلاحات صحیح سمت میں اٹھائے گئے اقدامات ہیں۔ اس سے کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے میں مدد ملے گی ۔انہوں نے کہا کہ ’ایک ملک، ایک بازار‘ کا تصور ملک میں زرعی مارکیٹنگ کے بارے میں ایک نیا باب رقم کرے گا۔سی آئی آئی کے صدر ادے کوٹک نے کہا کہ ہندوستان میں زراعت، زمین کے استعمال اور پانی پر توجہ دینے سے پیداوار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ویلیو ایڈیشن اور کم بربادی کے لئے بازاروں کو صحیح لنکج فراہم کرنا ضروری ہے۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper