ہندوستان

متھرا شاہی عیدگاہ: پاپولر فرنٹ نے عرضی کو بتایا اقلیتوں کے لئے چیلنج

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | New Delhi (India) on 17-Oct-2020

نئی دہلی: پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے چیئرمین او ایم اے سلام نے شاہی عیدگاہ کو ہٹانے کی عرضی کو متھرا ضلعی عدالت کے ذریعہ منظور کئے جانے کے فیصلے پر سوال اٹھایا ہے۔ یہ عرضی فرقہ پرستی پر مبنی اور مسلمانوں کی عبادتگاہوں کے خلاف سنگھ پریوار کے واضح ایجنڈے کا حصہ ہے۔ سنگھ پریوار کے پاس مساجد کی ایک لمبی فہرست ہے جنہیں وہ منہدم کرنا چاہتے ہیں۔ بابری مسجد معاملے میں کامیابی پاتے ہی، انہوں نے عدالت میں ایک عرضی دائر کر متھرا عیدگاہ پر حملہ بولا تھا، لیکن نچلی عدالت میں انہیں کامیابی نہیں ملی۔ نچلی عدالت کا فیصلہ مبنی بر انصاف اور ملک کے قانون کے مطابق تھا۔ عبادتگاہ (خصوصی دفعات) قانون، ۱۹۹۱ کی دفعہ ۴ میں ۱۹۴۷ سے پہلے سے موجود کسی بھی عبادتگاہ کو تبدیل کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اس کے مذہبی کردار کو بعینہ برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق بابری مسجد معاملے میں سریم کورٹ کے فیصلے کو دوسرے دعووں اور ۱۹۴۷ کے بعد کے مقدموں کے لئے بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ لہٰذا متھرا ضلعی عدالت کا عرضی کو قبول کرنے کا فیصلہ غلط اور غیرمنصفانہ ہے۔ اس فیصلے کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے اور آنے والے مزید کئی سالوں کے لئے مذہبی برادریوں کے درمیان پُرامن بقاء باہم بھی متاثر ہوگا۔ یہی چیز بابری مسجد معاملے میں ہوئی تھی۔ بابری کی تاریخ دوبارہ نہیں دہرائی جانی چاہئے۔ ایک طرف اس فیصلے سے فرقہ پرست فسطائی طاقتوں کے حوصلے بلند ہوں گے اور وہ کسی بھی اقلیتی عبادتگاہ پر ایسے ہی دعوے کریں گے۔ دوسری جانب اس سے عدلیہ کی آزادی پر سے عوام کا اعتماد اٹھ جائے گا۔ او ایم اے سلام نے ملک کے پرامن مستقبل کا خواب دیکھنے والے تمام ہندوستانی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متھرا درخواست گذاروں کے دعوے اور عیدگاہ مسجد معاملے میں ضلعی عدالت کے رخ کی مخالفت کریں۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper