دنیا بھر سے

پاکستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں شدت کیوں؟

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Islamabad (Pakistanl) on 17-Oct-2020

اسلام آبا د: پاکستان میں سیکیورٹی فورسز پر حالیہ دنوں میں حملوں میں ایک مرتبہ پھر تیزی آئی ہے اور تجزیہ کاروں کی نظر میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں مختلف عوامل شامل ہیں جن میں افغانستان میں کئی عسکریت پسند گروپوں کا الحاق، بیرونی ہاتھ، طالبان امن معاہدہ اور خطے کے حالات شامل ہیں۔گزشتہ روز قبائی علاقے شمالی وزیرستان اور صوبہ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ایک کیپٹن سمیت 20 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ اور ستمبر کے مہینے سے سے اب تک ڈیڑھ ماہ کے دوران بلوچستان میں پانچ اور وزیرستان میں ایسے سات واقعات پیش آچکے ہیں۔رقبے کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کے ضلع گوادر کی تحصیل اورماڑا کے قریب کوسٹل ہائی وے پر دہشتگردوں نے گوادر سے کراچی جاتے او جی ڈی سی ایل کے قافلے پر حملہ کر دیا۔پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق دہشت گردوں سے جھڑپ میں ایف سی کے 7 اہلکار اور 7 سکیورٹی گارڈ ہلاک ہو گئے جب کہ شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک کے قریب سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر دہشت گردوں کے حملے میں ایک افسر اور 5 فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ دہشت گردوں نے فورسز کے قافلے کو سڑک کنارے نصب بارودی سرنگ سے نشانہ بنایا۔بلوچستان میں گزشتہ کئی برسوں سے عسکریت پسند چھوٹے پیمانے پر ملکی سیکیورٹی اداروں پر حملے کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں بلوچستان میں دیگر قوم پرست، بعض فرقہ ورانہ اور مذہبی دہشت گرد تنظیمیں بھی پرتشدد کارروائیاں میں ملوث رہی ہیں۔دفاعی تجزیہ کار لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کہتے ہیں کہ افغان امن مذاکرات جاری ہیں لیکن کئی گروپس کا آپس میں الحاق ہوا ہے اور وہ اپنی کارروائیاں پاکستانی علاقوں میں بڑھا رہے ہیں۔ کئی دہشت گرد گروپوں نے سرحد پار پناہ لی ہوئی ہے اور وہ وہاں سے پاکستانی علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں اور کچھ بیرونی ہاتھ بھی اس کو ہوا دے رہے ہیں۔ الگ الگ قوتیں وزیرستان اور بلوچستان میں آپریٹ کر رہی ہیں۔ماہرین پاکستان میں ہونے والے بعض حملوں کا ذمہ دار بھارت کو قرار دیتے ہیں، لیکن بھارت کی طرف سے ایسے الزامات کی بارہا تردید کی جا چکی ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان ماضی میں بلوچستان میں ہونے والی بعض کارروائیوں میں بھارت کو موردالزام ٹھراتے ہیں اور اس کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کلبھوشن یادیو کی مثال دی جاتی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper