دنیا بھر سے

پیرس میں استاد کا سر قلم، صدر نے حملے کو ’دہشتگردانہ کارروائی‘ قرار دے دیا

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Pairis  (German) on 17-Oct-2020

پیرس: فرانس کے دارالحکومت پیرس کے شمال مغربی علاقے میں ایک دہشت گردی کی کارروائی میں حملہ آور نے ایک استاد کا سر قلم کر دیا ہے جبکہ پولیس نے حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔حملہ آور نے مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے ایک سکول کے قریب حملہ کر کے سکول ٹیچر کو قتل کیا۔ اطلاعات کے مطابق سکول ٹیچر نے مبینہ طور پر اپنے طلبا کو پیغمبر اسلام کے متنازع خاکے دکھائے تھے۔فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں نے جائے وقوع کا دورہ کیا اور اس قاتلانہ حملے کو ‘اسلامی دہشت گردانہ حملہ’ قرار دیا ہے۔صدر میکخواں کا کہنا تھا کہ استاد کو اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ وہ ‘اظہار رائے کی آزادی کے متعلق پڑھاتے تھے۔’حکام کی جانب سے ہلاک ہونے والے استاد کا نام نہیں بتایا گیا۔چاقو بردار حملہ آور کو قاتلانہ حملے کے بعد پولیس کی جانب سے گرفتار کرنے کی کوشش کے دوران گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ پولیس کی جانب سے حملہ آور کی بھی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔فرانس میں یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے کہ جب 2015 میں چارلی ایبڈو کے دفتر پر حملے میں دو جہادیوں کی سہولت کاری کے الزام میں 14 افراد پر مقدمہ چل رہا ہے۔ اس واقعے میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔تین ہفتے قبل بھی ایک حملہ آور نے اس میگزین کے سابقہ دفاتر کے باہر حملہ کر کے دو افراد کو زخمی کیا تھا۔ایک چاقو بردار شخص نے ایک سکول ٹیچر پر پیرس کے نواحی علاقے کفلان سینٹے ہونورائن میں حملہ کرتے ہوئے اس کا سر قلم کر دیا ہے۔ حملہ آور نے قتل کے بعد وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن وہاں موجود لوگوں نے فوراً پولیس کو اطلاع دے دی۔پولیس کا جائے وقوعہ کے قریبی علاقے میں ہی حملہ آور سے سامنا ہو گیا اور جب انھوں نے اسے گرفتاری دینے کا کہا تو بتایا جاتا ہے کہ اس نے پولیس کو دھمکانے کی کوشش کی۔پولیس اہلکاروں نے حملہ آور کو گولی ماری اور اس کے کچھ دیر بعد وہ ہلاک ہو گیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ کو سیل کر دیا ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ایک عدالتی ذریعے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ایک کمسن شخص سمیت چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن کا تعلق حملہ آور سے تھا۔ایک ٹویٹ میں فرانسیسی پولیس نے شہریوں کو اس علاقے میں جانے سے منع کیا ہے۔فرانس کے لے مونڈے اخبار کے مطابق قتل ہونے والے سکول ٹیچر تاریخ اور جغرافیے کے استاد تھے اور وہ اپنی کلاس میں طلبا کے ساتھ آزادی اظہار رائے کے متعلق بات کر رہے تھے۔ انھوں نے پیغمبر اسلام کے متنازع خاکوں کے بارے میں بات کی تھی جسے چارلی ایبڈو میگزین نے شائع کیا تھا اور اس پر بہت سے اسلامی ممالک میں غم و غصہ پایا گیا تھا۔فرانسیسی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل رواں ماہ چند مسلمان والدین نے سکول انتظامیہ سے اس استاد کی جانب سے چارلی ایبڈو کے مقدمے کے بارے میں بحث کرتے ہوئے متنازع خاکوں کے استعمال کے متعلق شکایات کی تھی۔جمعے کو ہونے والے حملے پر ردعمل دیتے ہوئے چارلی ایبڈو میگزین نے ٹویٹ کیا کہ ’ملک میں عدم برداشت ایک نئی سطح تک پہنچ چکی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ ملک میں دہشت مسلط کیے بنا نہیں رکے گی۔‘پیرس میں بی بی سی کے نامہ نگار ہیو شوفیلڈ کا کہنا ہے کہ اگر اس ہلاکت کا مقصد ثابت ہو گیا تو یہ فرانسیسیوں کے لیے گہرا صدمہ ہو گا۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اسے صرف ایک وحشیانہ حملہ قرار نہیں دیں گے بلکہ اسے ایک استاد پر وحشیانہ حملہ قرار دیں گے جو صرف طلبا کو سمجھانے کی اپنی ذمہ داری نبھا رہا تھا۔فرانس کی پارلیمان میں قومی اسمبلی کے ارکان نے ہلاک ہونے والے استاد کی تعظیم میں کھڑے ہو کر خراج عقیدت پیش کیا اور اس حملے کو ایک ‘بہیمانہ دہشت گرد حملہ’ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔فرانس کے وزیر داخلہ جو مراکش کے دورے پر تھے اپنا دورہ مختصر کر کے واپس وطن لوٹ رہے ہیں، جبکہ فرانس کے وزیر تعلیم نے ٹویٹ کیا کہ ایک استاد کو قتل کرنا ملک پر حملہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ لواحقین کے غم میں شریک ہیں اور انھوں نے باہمی اتحاد سے ہی ہم ’اسلامی دہشت گردی‘ کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper