دنیا بھر سے

کیو اینون نامی سازشی نظریے کی یہ تحریک کیا ہے اور کہاں سے شروع ہوئی؟

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Washington  (America) on 17-Oct-2020

واشنگٹن:  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں فلوریڈا میں اپنی انتخابی مہم کے دوران ’کیو اینون‘ نامی سازشی نظریے کو رد کرنے سے انکار کیا۔ جب میامی میں ایک مباحثے کے دوران ان سے سوال ہوا کہ وہ ان بڑے دعوؤں کے بارے میں کیا سوچتے ہیں تو انھوں نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔صدر ٹرمپ نے رواں سال اپنی ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ تاثر دیا تھا کہ وہ کیو اینون کے سازشی نظریے سے منسلک تحریک کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ تحریک دنیا بھر میں، خاص کر امریکہ میں، انٹرنیٹ پر پھیل رہی ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ لوگ ’انھیں بہت پسند کرتے ہیں‘ اور ’ہمارے ملک سے پیار کرتے ہیں۔‘اس مہم کو سوشل میڈیا کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر کی جانب سے بڑے پیمانے پر روکا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں ہزاروں اکاؤنٹس اور ویب سائٹ لنکس کو بند کیا گیا ہے جو کیو اینون سے متعلق خیالات کی تشہیر کرتے ہیں۔بی بی سی کے مائیک وینڈلنگ کے مطابق کیو اینون ایک سازشی نظریہ ہے جس میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ صدر ٹرمپ حکومت، کاروبار اور ذرائع ابلاغ میں ’شیطان کو پوجنے والے پیڈو فائلز (بچوں کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنانے والے افراد)‘ کے خلاف ایک خفیہ جنگ کا آغاز کرچکے ہیں۔اس نظریے کو ماننے والے قیاس آرائی کرتے ہیں کہ اس جنگ کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ایک دن ہیلری کلنٹن جیسی معروف شخصیات کو گرفتار کیا جائے گا اور انھیں سزا ملے گی۔یہ مرکزی کہانی ہے جبکہ اس میں کیو اینون کے دعویداروں کے درمیان مختلف موضوعات پر اندرونی مباحثے بھی چلتے رہتے ہیں جو ایک دوسرے کے دعوؤں سے الگ ہوتے ہیں۔اس نظریے کو ماننے والے نئی خبروں، تاریخی واقعات اور شماریات سے اپنے خود کے نتیجے اخذ کرتے ہیں تاکہ ان کے خیالات کو تقویت مل سکے۔اکتوبر 2017 میں فور چین نامی مسج بورڈ پر ایک نامعلوم صارف نے اس حوالے سے پوسٹ ڈالی۔ اس پیغام میں صارف نے اپنا نام ’کیو‘ لکھا اور دعویٰ کیا گیا کہ اسے امریکی سکیورٹی کی منظوری ’کیو کلیئرنس‘ مل چکی ہے۔ان پیغامات کو ’کیو ڈراپس‘ یا ’بریڈ کرمبز‘ کے نام سے جانا جانے لگا۔ انھیں ٹرمپ کے بعض حامی اپنے نعروں میں خفیہ زبان میں لکھتے ہیں۔دراصل اس نظریے کو ہزاروں لوگ مانتے ہیں۔ 2017 سے ان پوسٹس پر سوشل میڈیا کی بڑی ویب سائٹس جیسے فیس بک، ٹوئٹر، ریڈٹ اور یوٹیوب پر کئی افراد ردعمل دے چکے ہیں۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران اعداد و شمار مزید بڑھے ہیں۔سوشل میڈیا کے اعتبار سے کیو اینون سے منسلک سازشی نظریوں پر ہزاروں لوگ یقین کرتے ہیں۔اور ان کی پذیرائی ان حالات میں بھی کم نہیں ہوئی جب ایسے کئی واقعات پیش آئے جو ان نظریوں کی تردید کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ابتدائی کیو پیغامات خصوصی استغاثہ رابرٹ مولر کی تحقیقات پر مرکوز تھے۔کیو اینون کی حمایت کرنے والے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ 2016 کے امریکی انتخابات میں روسی مداخلت پر مولر کی تحقیقات درحقیقت پیڈو فائلز پر ہوئی تھی جسے چھپایا گیا۔جب اس تحقیقات میں کوئی واضح انکشاف نہ ہوا تو سازشی نظریے بنانے والوں کا دھیان کہیں اور چلا گیا۔ان نظریوں کو ماننے والے سمجھتے ہیں کہ کیو کے پیغامات میں جان بوجھ کر غلط معلومات شامل کی جاتی ہے تاکہ سازشی نظریے کو غلط ثابت کرنا ناممکن بن جائے۔کیو اینون کے حمایتی ایک ساتھ ہیش ٹیگز بناتے ہیں اور اپنے دشمنوں کو بْرا بھلا کہتے ہیں جن میں سیاستدان، فنکار اور صحافی شامل ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ افراد ’پیڈو فائلز کی پشت پناہی‘ کر رہے ہیں۔بات صرف دھمکی آمیز آن لائن پیغامات کی نہیں۔ ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ کیو اینون کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے کہ اس سے اردگرد کسی کو ممکنہ نقصان ہوسکتا ہے۔دھمکی دینے یا آف لائن ایکشن لینے پر کئی حامیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ 2018 کے ایک مشہور کیس میں ایک مسلح شخص نے ہوور ڈیم کے پْل کو بند کر دیا تھا۔ میتھیو رائٹ نے بعد میں دہشت گردی کے الزام میں جرم قبول کر لیا تھا۔کئی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اکثر امریکیوں نے کیو اینون کے بارے میں نہیں سنا۔ لیکن کئی ماننے والے اسے صدر ٹرمپ کی حمایت کے لیے ایک بنیاد بناتے ہیں۔ماضی میں صدر ٹرمپ میں کیو اینون حامیوں کو ری ٹویٹ کیا اور گذشتہ ماہ ان کے بیٹے ایرک ٹرمپ نے انسٹاگرام پر ایک کیو اینون کی میم پوسٹ کی۔کیو اینون کے درجنوں حامی نومبر میں کانگریس کی دوڑ میں حصہ لے رہے ہیں۔ کچھ کے جیتنے کے امکانات کافی کم ہیں لیکن جورجیا کی مارجری ٹیلر گرین جیسے کچھ امیدواروں کے جیتنے کے اچھے امکانات نظر آ رہے ہیں۔یہ کافی حد تک ممکن ہے کہ کیو اینون کا کوئی حامی، یا ایسا کوئی شخص جو اس سازشی نظریے کے بارے میں نرم گوشہ رکھتا ہو، اگلی امریکی کانگریس میں بیٹھے گا۔یوٹیوب ان سوشل میڈیا ایپس میں سے ہے جس نے اس سازشی نظریے کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ کسی فرد یا کمپنی کو سازشی دعوؤں کا نشانہ بننے سے بچائیں گے، جیسے کیو اینون میں اس کے ذریعے پْرتشدد واقعات پر ابھارا جاتا ہے۔اس سے قبل ٹوئٹر اور فیس بک بھی کیو اینون کی حمایت میں پوسٹس ہٹا چکے ہیں۔ایف بی آر نے گذشتہ سال اسے ’سازش کی بنیاد پر ہونے والی گھریلو دہشت گردی‘ قرار دے کر کیو اینون کو ممکنہ خطرا تسلیم کیا تھا۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper