ہندوستان

ہاتھرس متاثرہ کی فوری مالی اور مستقل تحفظ دینے کا ٹیم کا مطالبہ

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir  Urdu News Network | New Delhi (India)  on 16-Oct-2020

نئی دہلی: ہاتھرس آبروریزی اور قتل کے متاثرہ خوف زدہ خاندان کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دہلی یونیورسٹی کے اساتذہ اور صحافیوں پر مشتمل ایک ٹیم نے ہاتھرس کا دورہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ متاثرہ خاندان خوف کے حصار میں ہے اورفوری مالی اور مستقل تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔وفیسر ہیم لتا مہیشور، ڈاکٹر رجت رانی مینو، ڈاکٹر بجرنگ بہاری تیواری، ڈاکٹرسیما ماتھر، ڈاکٹر پونم توشاڑ، فارورڈ پریس کے ہندی ایڈیٹر نول کشور کمار اور صحافی منوج پپل پر مشتمل ٹیم نے محسوس کیا ہے کہ متاثرہ خاندان بے حد خوف زدہ ہے اور کام کاج بند ہونے کی وجہ سے مالی پریشانیوں کا سامنا ہے۔ متاثرہ کی ماں کے نام پر اکاؤنٹ ہے جو اس وقت سیز ہے جس کی وجہ سے وہ پیسے نہیں نکال پارہے ہیں۔ ٹیم نے بتایا کہ متوفیہ کے گھر میں تعینات ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ کچھ دن پہلے ملزمین کے لوگوں نے اس پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ لہذا ان کی سیکیورٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اگر پولیس اہلکار کی بات درست ہے تو پھر متوفیہ کی بھابھی اور والد کا خوف بالکل معقول ہے، کیونکہ جب ایسی پولیس فورس کی موجودگی میں ملزمین کے لوگ حملہ کر کے انہیں دھمکیاں دے سکتے ہیں، پھر اگر پولیس موجود نہیں رہے گی تو وہ کیا کیا نہیں کرسکتے ہیں۔اسی کے ساتھ ٹیم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت متاثرہ فریق کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ اس کے لئے گاؤں میں پولیس چوکی قائم کی جائے۔ حکومت متاثرہ فریق کو فوری مالی مدد فراہم کرے۔ انہیں معاشی بحران درپیش ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ گاؤں بلگڈھی میں مقتولہ کے نام پر ہیلتھ سنٹر اور ہائی اسکول قائم کرے۔انہوں نے کہاکہ مقتولہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ 14 ستمبر کو پولیس نے تھانہ میں برا سلوک کیا ہے۔ رپورٹ درج کرنے میں بھی تاخیر ہوئی اور اسپتال بھیجنے میں بھی۔ اسی دوران، مقتولہ کے بھائی نے بتایا کہ اس کا اسپتال میں علاج نہیں ہو رہا ہے۔ اسی دوران، مقتول کی بہو نے بتایا کہ جب ہمیں اطلاع ملی کہ متاثرہ کی موت ہوگئی ہے تو ہم اس کی لاش کو گھر لانا چاہتے ہیں۔ تب پولیس افسر نے ڈانٹا اور دھمکی دیتے ہوئے ہوئے کہاکہ ”کبھی پوسٹ مارٹم کئے ہوئے لاش دیکھا ہے؟ متاثرہ کے لواحقین میں سے، ہم نے سب سے پہلے اس کی والدہ سے بات کی، جو صرف ایک ہی بات کہہ رہی تھی کہ میری بیٹی کے قاتلوں کو سزا دی جائے۔ پھانسی کی سزا دی جائے۔ میری بیٹی کو انصاف ملے۔ میڈیا میں یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ اور متاثرہ رات ساڑھے نو بجے کھیتوں میں گھاس کاٹنے گئی تھی جب اس کے بارے میں پوچھا گیا تو مقتولہ کی والدہ، اورخالہ نے صاف انکار کیا کہ یہ دن کے ساڑھے نو بجے تھے مقتولہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ“ان تینوں نے اکٹھا ہوکر پہلے کچھ گھاس کاٹا۔ تب بیٹی نے کہا کہ اماں تم گھاس کاٹو،مجھے بہت پیاس لگی ہے۔ میں پانی پینے جاتی ہوں مقتولہ کی والدہ کے بیان کے مطابق اس نے اپنے بیٹی کو پانی لانے کے لئے گھر بھیجا۔ اس کے بعد، دونوں نے گھاس کاٹنے لگے۔اس کے بعد یہ اندوہناک واقعہ رونما ہوا۔ مقتولہ کے والدہ، والد، بہن، بھائی، بھابھی اور خالہ سب نے کہا کہ ان کا واحد مطالبہ ہے کہ مجرموں کو جلد سے جلد سزا دی جائے اوران کی بیٹی کے ساتھ انصاف کیا جائے۔کنبہ کے دیگر افراد سے گفتگو کرتے ہوئے، ایسی ہی کچھ باتیں بھی منظرعام پر آئیں کہ گاؤں میں رہنے والے یہ بالمیکی خاندان اپنے آبائی پیشوں کو چھوڑ کر گاؤں سے باہر کمانے لگے ہیں۔ ایک وقت میں خنزیر پالنے والے اب بھینس، بکری اور مرغی پالتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ان کے معیار زندگی میں تبدیلی شروع ہوگئی۔ ممکن ہے کہ اس کی وجہ سے ملزم فریق متاثرہ فریق سے حسد کرنے لگے ہوں۔گاؤں کے کچھ لوگ باجرا اور دھان کی فصل کاٹ رہے تھے۔ گاؤں میں دلتوں کے صرف چار مکانات ہیں۔ گاؤں کے بیشتر مکانات پختہ ہیں۔ گھروں اور رہائش کو دیکھتے ہوئے، ٹھاکروں اور دلتوں میں زیادہ فرق نہیں تھا۔ لیکن معاشی اور معاشرتی سطح پر، فرق واضح طور پر نظر آتا ہے۔ مقامی لوگوں سے معلوم ہوا کہ گاؤں میں 4 مکان دلتوں کے، 2 گھر پرجاپتی ذات کے، ایک مکان نائی ذات کے، 20-25 مکان برہمنوں کے اور 40 کے قریب خاندان ٹھاکروں کے ہیں۔بل گڈھی گاؤں دوسرے دیہاتوں کے مقابلے ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، لیکن معاشی طور پر خوشحال گاؤں ہے۔ گاؤں میں برہمنوں کے مکان زیادہ خوشحال دکھائے دئے، کچھ مکانات پچوری برہمنوں کے تھے۔مجموعی طور پر، گاؤں میں ذات پات کا تسلط واضح طور پر نظر آرہا تھا۔ اس کا شکار خواتین بھی تھیں۔ نسلی آدرش کا اثر و رسوخ دونوں کمہاروں اور ٹھاکر ذات کی خواتین سے بات چیت میں بھی واضح تھا۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper