اسلام

انبیاء کی عبادت گاہ مسجد اقصیٰ نوحہ کناں

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded  on  24-November-2020

دنیا کے سرزمین پر دوگھر سب سے پرانے اور اولین میں سے ہیں، ایک خانہ کعبہ جو مکۃ المکرمہ میں ہیں، اور اسی جگہ سے زمین کی ابتداء بھی ہوئی ہے، اس کی کیفیت یہ ہوئی کہ پانی میں چند بلبلے پیدا ہوئے، پھر یہ بلبلے سختی کی روپ لی، اور مٹی کی ایک شکل لی، پھر اللہ تعالی نے اس کو چاروں طرف برابر برابر پھیلا دیا، یہی زمین کہلائی اور یہی ابتدائی حصہ اللہ کا گھر کہلایا، اور فرشتے طواف کرنے لگے، پھر حضرت آدم علیہ السلام معرض وجود میں آئے، اور اس جگہ اللہ کے گھر کی تعمیر فرمائی، اس کے بعد سے طواف کا سلسلہ شروع ہوا۔ خانہ کعبہ کے چالیس سال بعد حضرت آدم علیہ السلام نے مسجد اقصٰی کی تعمیر فرمائی، اور یہی مسجد تمام انبیاء کی مسجد اور قبلہ قرار پائی، یہاں تک اللہ کے آخری رسول ﷺ کے بھی اولین قبلہ مسجد اقصٰی ہی رہا، اور سترہ ماہ تک آپ بھی مسجد اقصٰی ہی کیطرف رخ کرکے نماز پڑھی، مسجد اقصٰی کو یہ فضیلت حاصل رہی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اولین نبی تھے، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ جو آخری نبی تھے، سبھی کا قبلہ مسجد اقصٰی ہی رہا، پھر سترہ ماہ بعد آپ ﷺ کے قبلے میں تبدیلی ہوئی، اور خانہ کعبہ کو تا قیامت قبلہ بنانے کا حکم من جانب اللہ ہوا۔

الغرض دونوں قبلوں کی تعمیر حضرت آدم علیہ السلام سے ہی سے شروعات ہوئی، اور آنے والے انبیاء کو حکم ہوا کہ مسجد اقصٰی کیطرف رخ کر کے نماز پڑھیں، اللہ تعالی نے جنت سے دو پتھر اس دنیا کو عنایت کیا، ایک حجر اسود جو مکۃ المکرمہ کے بیت اللہ میں ہے، اور دوسرا پتھر مسجد اقصٰی میں، جو یہی پتھر نمازیوں کیلئے قبلہ قرار پایا، بیت الحرام میں جو پتھر ہے وہ چھوٹا سا ہے، مگر اقصٰی میں جو پتھر ہے وہ کا فی بڑا سائز میں ہے، اور یہی قبلہ قرار پاتا ہے، جو مسجد اقصٰی کے صحن میں ہے، اور یہ چٹان ایک غار پر لٹکی ہوئی ہے، اس غار میں ایک وسیع جگہ ہے، زینے سے اتر کر لوگ وہاں عبادت کرتے ہیں، الغرض مکۃ المکرمہ میں اس سرزمین کو قبلہ بنا گیا، جہاں پر کعبہ ہے، مگر اقصٰی میں پتھر کو قبلہ بنایا گیا، جو جنت سے اتارا گیا، اور یہ دونوں پتھر حجر اسود اور صخرا (چٹان) حضرت آدم علیہ السلام جنت سے لیکر دنیا میں آئے تھے، اقصٰی میں پتھر کو قبلہ کا شرف حاصل ہوا، اور مکہ المکرمہ میں کعبہ کی زمین کو قبلہ کا شرف حاصل ہوا، اقصی کا جو پتھر ہے بڑی فضیلت والا پتھر ہے، روایتوں میں آتا ہے یہ پتھر زمین پر ٹکا ہوا نہیں ہے، بلکہ فضاء میں معلق ہے، جنت سے آیا ہوا ہے، تمام انبیاء کرام کا قبلہ ہے، جنت کے چار نہر اسی صخرا سے جاری ہے، زمین کے سارے میٹھے پانی اسی سے جاری ہیں، اور میدان حشر یہیں قائم ہوگا، لوگوں کا حساب وکتاب یہیں ہوگا،

الغرض یہ سب فضائل اس خضرا چٹان کے ہیں (رواہ مسند احمد مستدرک حاکم)۔

بیت المقدس جس قدر محترم تھا لوگوں کی نگاہوں میں معزز تھا، آج یہودیوں کی نگاہوں میں اتنا ہی غیر محترم ہوکر رہ گیا، ہر شب وروز اسکو ختم کرنے کے درپہ ہے، یہود چاہتا ہے کہ بیت المقدس گراکر اسکی جگہ ہیکل سلیمانی (عبادت گاہ سلیمانی) کی تعمیر کی جائے، یہود کے ربی (علماء) شب وروز اس بات کے خواہش مند ہیں کہ جلد از جلد اس عمارت کو گراکر اپنی عبادت گاہ کی تعمیر کریں، اور مسلمانوں کو قعر مزلت میں ڈھکیل دیں، یہی وجہ ہے کہ یہودی گروپ مسلمانوں کی زمین ہڑپ رہے ہیں، اور اس پر اپنا قبضہ جمائے ہوئے ہیں، بیت المقدس تک کی زمین یہودیوں کی تحويل میں جاچکی ہے، یہودی مسیح دجال کی آمد کے منتظر ہیں، ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو فلسطین سے بالکلیہ صفائی کر کے اپنا ہیکل سلیمانی کی تعمیر کر سکیں گے، پوری دنیا میں یہود انتہائی شدت پسند مانی جاتی ہے، اور یہ قوم موسی علیہ السلام کی امت کہلاتی ہے، حضرت موسی علیہ السلام کو بھی اس قوم نے بہت پریشان کیا، اور ستایا، ہٹ دھرمی، ظلم وجور، بیمانی، بدعہدی، یہ سب خبائث ان کی سرشٹ میں داخل ہیں، اور حضرت موسی علیہ السلام بھی ان کی خصائل خبیثہ سے تنگ تنگ رتے تھے، یہاں تک کہ حضرت موسی علیہ السلام کو اپنی قوم سے کہنا پڑا کہ ائے میری قوم مجھے کیوں ستاتے ہو؟ مجھے کیوں پریشان کرتے ہو؟ مگر جس کی فطرت میں کجی ہو وہ کس طرح مان سکتی ہے۔ اور اپنی بے ہودہ حرکتوں سے باز آسکتی ہے؟ پھر آخر میں بنی اسرائیل میں حضرت عیسی علیہ السلام آئے، انہوں نے بھی تبلیغ کی اور اپنی قوم کو سمجھاتے رہے، مگر قوم مان کر نہ دی اور حضرت عیسی کو پریشان کرتے رہے، یہاں تک کہ سبھوں نے مل کر حضرت عیسی علیہ السلام کے قتل کے درپہ ہوگئے، اور اپنی دانست میں حضرت عیسی علیہ السلام کو صولی پر چڑھا دیا، الغرض بنی اسرائیل ایسی قوم تھی جو اپنے انبیاء کو بھی نہ بخشا، ان پر ظلم ستم کرتے رہے، دنیا کے تمام اقوام میں بنی اسرائیل ھٹ دھرم قوم مانی جاتی ہے، اور متشدد قوم مانی جاتی ہے، ان میں پیسے کی ہوس، اور عورتوں کی ہوس، اور حکمرانی کی ہوس، ظلم وتشدد کی ہوس دیگر اقوام کے مقابلہ میں زائد از زائد پائی جاتی ہے، اقصی جس کو پہلی عبادت گاہ قرار دی گئی ہے، اس کو تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی معبد گاہ کا درجہ حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ اسی حصہ کو میدان حشر بنایا جائے گا، اللہ کا عرش اسی سرزمین پر قائم ہوگا، اور میزان یہیں قائم کیا جائے گا، حوض کوثر یہیں بہے گا، حساب و کتاب یہیں شروع ہوگا، الغرض پوری دنیا کی سلطنت کی راجدھانی اقصیٰ قرار پائے گا، جو جہاں ہوگا اسکو حساب وکتاب کیلئے یہیں آنا پڑے گا، اور یہیں سے جنت وجہنم کا فیصلہ سنایا جائے گا۔

مسجد اقصی میں نبی اکرم ﷺ کی آمد

یہ وہی مسجد اقصی ہے، جہاں خاتم النبیں، سید المرسلین، محبوب رب العالمین، کی معراج کی شب میں تشريف آوری ہوئی ہے، اور آپ نے تحیۃ المسجد کی دو گانہ ادا فرمائی ہے، فرشتوں کے سردار حضرت جبرئیل علیہ السلام، نبیوں کے سردار حضرت محمد ﷺ کو لینے کیلئے براق لے کر در دولت پر تشريف لائے، پھر خانہ کعبہ تشريف لائے، حضرت جبرئیل ومیکائیل نے آپ کے سینے مبارک کو چاک کیا، اور دل کو نکال کر زمزم کے پانی سے دھویا گیا، پھر براق پر سوار ہو کر دونوں فرشتوں کی معیت میں مسجد اقصی پہنچے، حضرت جبرئیل نے براق کو دیوار میں سوراخ کر کے باندھ دیا، اور تحیۃ المسجد دوگانہ نماز ادا فرمائی، بیت المقدس کے نگراں کا بیان ہے کہ میں روزانہ رات میں تمام دروازے بند کر کے جاتا تھا، مگر اس رات تمام دروازے بند تو کردئے، اور ایک دروازہ ہزار کوشسوں کے باوجود بند نہ ہوسکا، صبح آکر دیکھا تو ایسا لگا کہ کسی شخصیت کی آمد ہوئی، اور کوئی جانور باندھا گیا ہے، اس لئے کہ دیوار میں سوراخ موجود تھا۔

آپ ﷺ جب نماز سے فارغ ہوئے، زمین سے آسماں تک ایک سیڑھی گرائی گئی، اور برقی انداز میں سکنڈوں میں آسمان اول میں پہنچ گئے، وہاں کے فرشتوں نے آپ کا استقبال کیا، اور وہاں پر موجود انبیاء علیہ السلام نے آپ کا استقبال کیا، اور مرحبا کہا، ہر ایک آسماں پر اسی طرح کیفیت رہی، پھر ساتویں آسمان پر پہنچے تو دیکھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بیت المعمور سے ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے ہوئے ہیں، آپ خود حضرت ابراہیم کہ خدمت میں تشريف لئے گئے، انہوں نے بھی آپ کے آمد پر مرحبا اور خوش آمدید کہا، پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام کی معیت میں سدرۃ المنتہیٰ کے پاس پہنچے، یہ ایک درخت ہے، جس کے پتے ہاتھی کے کان کی طرح بڑے بڑے ہیں، سونے کے پرندے نچھاور ہیں، اور اسی جگہ بیت العمور ہے، جہاں ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں، اور طواف کرتے ہیں، مگر دوسری بار ان کو موقع نہیں ملتا، اور اسی سدرہ کے پاس رفرف کرسی موجود تھی، جو اپنی چمک ودمک میں بے نظیر تھی، یہ اللہ کی طرف سے پیش کردہ کرسی تھی، جو آپ کے اعزاز کیلئے بنائی گئی تھی، اللہ کے رسول ﷺ آگے بڑھے تو حضرت جبرئیل پیچھے ہٹے، تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ جبرئیل ساتھ کیوں چھوڑ رہے ہو؟ فرمایا یا رسول اللہ ایک قدم بھی آگے بڑھاؤں گا تو میرے پر جل کر خاک ہو جائیں گے، اللہ کے رسول رفرف پر تشريف فرما ہوئے، اور بادل کا ایک ٹکرا اللہ تعالی کے پاس پہنچا دیا، اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ کی خدمت میں “التحیات للہ والصلوات والطیبات” کا نذرانہ پیش فرمایا، اللہ نے جواب دیا، “السلام علیک ایہا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ” آپ نے فرمایا، “السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین” فرشتوں نے سنا تو کہا، “اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمد عبدہ ورسولہ” یہی کلمات نماز کے جلسہ میں داخل کئے گئے، تاکہ جب بھی بندہ نماز میں یہ کلمات جلسہ میں پڑھیں تو اللہ کے رسول کے تحیۃ اور سلام دل میں موجزن کرنے لگے، اللہ اور رسول کے مابین کیا کیا باتیں ہوئیں یہ راز ظاہر نہ ہوسکا، بس اتنا معلوم ہوا کہ پچاس وقت کی نمازیں تحفے میں دی گئیں، اللہ کے رسول مسرت وشادمانی میں تحفہ نماز لیکر واپس ہوئے کہ چھٹے آسمان پر حضرت موسی علیہ السلام سے ملاقات ہو گئی، دریافت فرمایا کیا ملا، فرمایا پچاس وقت کی نماز ملی، اللہ رحمت فرمائے، حضرت موسی پر امت محمدیہ کو پچاس کی بوجھ سے محفوظ فرمادیا، اور اللہ کے رسولﷺ سے فرمایا کہ آپ واپس تشريف لے جائیں اور تخفیف کی درخواست پیش کریں، چنانچہ آپ ﷺ واپس تشريف لے گئے اور تخفیف کی درخواست پیش کریں تو پانچ نماز کم کردی گئی، پھر حضرت موسی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی آپ نے فرمایا کہ پانچ وقت کی نماز کم کر دی گئی ہے، حضرت موسی نے فرمایا یارسول اللہ آپ دوبارا تشريف لے جائیں اس میں بھی تخفیف کرائیں، چونکہ مجھے بنی اسرائیل کا تجربہ ہے وہ دو وقت کی نماز بھی ادا نہیں کرتے تھے، آپ تشريف لے گئے پھر پانچ وقت کی نماز کم کر دی گئی، پس اس طرح حضرت موسی کی درخواست پر تشريف لے جاتے رہے اور پانچ وقت کی نماز رہ گئی، اللہ نے فرمایا جاؤ میرا کوئی بندہ پانچ وقت کی نماز پڑھے گا اس کے کھاتے میں پچاس وقت کی نماز کا ثواب لکھا جائے گا۔اب

اللہ کے رسول ﷺ واپس ہورہے ہیں اس شان سے واپس ہورہے ہیں، کہ ہر آسمان پر جو بھی پیغمبر ہیں، آپ کو الوداع کرنے کیلئے جارہے ہیں، اور بیت المقدس پہنچ رہے ہیں، وہاں پہنچ کر حضرت جبرئیل نے آذان دیں، اور آپ ﷺ صبح کی دوگانہ نماز پڑھائیں، اور تمام انبیاء آپ کے پیچھے نماز آدا کیں، نماز فجر کے بعد تمام انبیاء نے اپنا اپنا تعارف پیش کیا، آخر اللہ کے رسول ﷺ نے اپنا تعارف نامہ پیش کیا، میں محمد ﷺ ہوں، میں آخری رسول ہوں، اللہ نے مجھے خاتم النبین بنایا، مقام شفاعت عطا فرمایا، حوض کوثر مجھے دیا جائے گا، میری امت کو تمام امت پر افضلیت دی گئی، اللہ نے مجھے اپنی زیارت سے شرفیاب فرمایا: اس کے بعد مجلس ختم ہوئی، اور تمام انبیاء اپنے اپنے مقام پر تشريف لے گئے، اور اللہ کے رسول براق پر سوار ہو کر حضرت جبرئیل اور میکائیل کی معیت میں مکۃالمکرمہ صبح کے اندھیرے میں پہنچ گئے۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper