سیاست

تین گھنٹے کے اندر ہی وزیر تعلیم کو دینا پڑا استعفیٰ

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Patna (Bihar)  on 19-November-2020

پٹنہ: بہار کے نومنتخب وزیر تعلیم میوالال چودھری نے وزیر اعلی نتیش کمار کو اپنا استعفیٰ سونپ دیاہے۔ میوال لال پر بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں۔بہار کے وزیر تعلیم کے طور پر جمعرات کو عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد میوالال چودھری نے استعفیٰ دے دیا ہے ۔ معلومات کے مطابق میوالال چودھری پر لگے بدعنوانی کے الزامات کے بعد انہیں استعفیٰ دینا پڑا۔ واضح ہو کہ میوالال چودھری کو وزیر تعلیم بنانے کے اعلان کے بعد سے ہی ریاست کی سیاست گرما گئی تھی۔ سبور میں وائس چانسلر رہتے پروفیسروں کی تقرری میں دھاندلی ہوئی تھی۔ اس وقت کے وائس چانسلر میوالال چودھری پر الزام لگنے کے بعد گورنر کے حکم پر جانچ کی گئی تھی۔ ہائی کورٹ کے سابق جسٹس کی جانچ میں ان پرلگے الزامات سچ ثابت ہوئے تھے۔ اسی معاملے میں میوالال چودھری کے بھتیجے کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں مہا گٹھ بندھن کے لیڈر تیجسوی پرساد یادو شروع سے ہی وزیر تعلیم پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے ریاستی حکومت پر حملہ کر رہے تھے۔حالانکہ دوسری جانب میوا لال چودھری نے اپوزیشن کے الزامات کو بے بنیاد بتایا ۔ اس معاملے میں انہوں نے کہا کہ الزام لگانے والے پارٹی سپریموں بدعنوانی کے معاملے میں جیل میں ہیں تو دوسرے جیل کے دروازے پر کھڑے ہیں۔ اسی دوران آر جے ڈی کے رکن پارلیمنٹ اشفاق کریم نے وزیر تعلیم کو مبارکباد پیش کی ہے تو اس کے کئی سیاسی معنیٰ لگائے جانے لگے تھے۔ اس تناظر میں آر جے ڈی کے ممبر پارلیمنٹ نے ملاقات کو اخلاقی ملاقات بتایا تھا ۔ سابق وزیر تعلیم ڈاکٹر میوالال چودھری نے کہا ہے کہ مجھ پر لگے سارے الزامات بے بنیاد ہے۔ سارا معاملہ عدالت میں ہے۔ مہاگٹھ بندھن کے لیڈر تیجسوی پرساد یادو نے میوالال چودھری کو وزیر تعلیم بنائے جانے کو لیکر ریاستی حکومت پر حملہ کیا ہے۔ تیجسوی نے ٹویٹ میں الزام لگایا ہے کہ وزیر اعلی نتیش کمار نے اسسٹنٹ پروفیسر کی تقرری اور عمارت تعمیر میں بد عنوانی کے سنگین مقدمات کے ملزم کو وزیر تعلیم بنایا ہے۔ ان پر آئی پی سی کی دفعات 409،420،467، 468،471 اور 120بی کے تحت مقدمہ درج ہے۔ ریاستی حکومت سے سوال پوچھا کہ کیا میوا لال چودھری کو وزیر تعلیم بنا کر کیا بدعنوانی کرنے کا انعام اور لوٹنے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ ایک دیگر ٹویٹ میں تیجسوی نے نتیش حکومت پر طنز کیا ہے کہ جرم ، بدعنوانی اور فرقہ واریت کی بات کرتے رہیں گے یا اس پر عمل بھی کریں گے۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper