آرٹیکل

قاتل کو جو نہ ٹوکے وہ قاتل کے ساتھ ہے

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded  on 19-November-2020

جب ایک ۲۰ سالہ معصوم لڑکی اپنے گھر کا کوڑا پھینکنے گھر سے باہر نکلتی ہے پر واپس نہیں لوٹتی، ستیش رائے نامی ایک حیوان صفت انسان جب گلناز کو شادی کا پیغام دیتا ہے تو وہ یہ کہہ کر منع کر دیتی ہے کہ ”میں مسلمان ہوں اور کسی بھی ہندو کے ساتھ نہ میں شادی کر سکتی ہوں اور نہ ہی افیئر” اس معصوم کے انکار کے بعد اس حیوان نے اس لڑکی کو جلا دیا اور فرار ہوگیا، میرے پاس اس معصوم پر ڈھائے گئے مظالم کو بیان کرنے کی نہ ہی سکت ہے اور نہ ہی الفاظ…. بس کچھ سوالات ذہن میں گردش کر رہے ہیں کہ سرکار اور میڈیا کیا کر رہی ہے؟ کیا یہ لو جہاد نہیں ہے؟ مودی، یوگی اور بی.جے.پی کے وہ تمام ذمہ داران آج خاموش کیوں ہیں جو لو جہاد کا نعرہ لگاتے پھرتے ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ گلناز کو اب تک انصاف نہیں ملا ،اور وہ ستیش نامی حیوان اب تک حراست میں کیوں نہیں لیا گیا؟ کیا صرف اس لیے کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی کہ گلناز ایک مسلمان تھی؟ میں حکومت میں ببیٹھے ہر شخص سے یہ سوال کرتا ہوں کہ یہی حادثہ اگر تمہاری بہن بیٹی کے ساتھ ہوتا کیا تب بھی تم خاموش رہتے ؟کہاں گئے وہ نام نہاد مسلم نیتا جو ووٹ مانگنے تو آجاتے ہیں مگر جب انصاف دلانے کی باری آتی ہے تو کسی چوہے کی طرح بل میں گھس جاتے ہیں،ابھی کچھ دنوں پہلے ایک اور ایسا ہی معاملہ منظر عام پر آیا تھا جس میں توصیف نامی ایک لڑکے نے ایک ہندو لڑکی سے شادی کے لیے زبردستی کی تھی جب لڑکی نے انکار کیا تو اس حیوان نے لڑکی کا قتل کر دیا، مجھے یاد ہیکہ اس معاملہ کے بعد سارے مسلمانوں کو تنقید کیا جانے لگا تھا اور یوگی نے یہ بات کہی تھی کہ ”لوجہاد کے خلاف جلد ہی ہم کوئی قانون نافذ کریں گے مگر ایسے لوگوں کو بخشیں گے نہیں” تو پھر آج کیا ہوگیا ہے کہ جب ایک مسلمان کی بیٹی کو جلا دیا گیا تو گویا حکومت کے زبان پر آبلے پڑ گئے ہیں نہ کسی نے کوئی ٹویٹ کیا نہ ہی بہار کی بنی نئی سرکار این۔ڈی۔اے نے کوئی قدم اٹھایا اور نہ ہی یوگی نے سامنے آکر یہ کہا کہ ہم انصاف دلائیں گے،سمجھ نہیں آتا کہ آخر ہم کونسی جمہوری حکومت میں رہ رہے ہیں کہ جہاں ہندو اگر کوئی فساد کرتا ہے تو اس کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا چاہے وہ ہاتھرس کا معاملہ رہا ہو یا پھر آصفہ اور آج گلناز کا گودی میڈیا مزے سے پیسہ کھاتی ہے اور ایسی خاموشی اختیار کرتی ہے جیسے قبر میں دفن کر دیے گئے ہوں لیکن اگر یہی کام کوئی شخص مسلمان کا لبادہ اوڑھ کر کرتا ہے تو اسے طرح طرح کے نام دیے جاتے ہیں پوری قوم کو بدنام کیا جاتا ہے، دھرم کی مخالفت کی جاتی ہے، میڈیا جم کر مسلمان اور اسلام کی دھجیاں اڑاتی ہے اور حکومت کا کوئی بھی نمائندہ ایسا نہیں ہوتا جو اس کے خلاف کچھ نہ بولتا ہو، ایسا نہیں ہیکہ میں لو جہاد کے حق میں بول رہا ہوں جو غلط ہے وہ غلط ہے شریعت مطہرہ بھی اس چیز کی اجازت نہیں دیتی، میرے کہنے کا مطلب یہ ہیکہ آخر یہ دوغلہ پن کیوں؟ جرم جرم ہوتا ہے چاہے مسلم کرے یا غیر مسلم، شرم آتی ہے ہندوستانی میڈیا پر کہ یہ سب مودی کی گود میں جا کر بیٹھ گئے ہیں جب سے یہ حادثہ ہوا ہے اس امید سے روزانہ نیوز دیکھ رہا ہوں کہ ہو سکتا ہے آج حادثے کے متعلق کچھ دکھایا جائے اور حکومت سے سوالات کیے جائیں کہ اب تک انصاف کیوں نہیں ملا مگر یہ گودی میڈیا کہاں سچائی دکھانے والی ہے یہ تو اتنے پیسے کھا چکے ہیں کہ سوالات کرنا ہی بھول گئے ہیں، معصوم کے گھر والے سڑک پر لاش کو لیکر انصاف کی بھیک مانگ رہے ہیں مگر وہاں نہ کوئی میڈیا پہونچتی ہے اور نہ ہی کوئی سرکاری نمائندہ آج اس حادثے کو 15 دن سے زائد ہوگئے ہیں لیکن انصاف کا الف بھی دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے، گھر والے آج بھی انصاف کی بھیک مانگ رہے ہیں افسوس کا مقام ہیکہ ایک جمہوری ملک میں رہنے کے باوجود بھی لوگوں کو انصاف کی بھیک مانگنی پڑ رہی ہے، اور پولس کیا کر رہی ہے؟ بس ایک ایف.آئی.آر فائل کر دیا اور حیوان کے خلاف اب تک کوئی قدم نہیں اٹھایا اور بیچارے یہ بھی کیا ہی کر سکتے ہیں یہ سب بھی تو حکومت کی جیب میں ہیں، ہندوستان میں رہتے ہیں اس کے کورٹ اور قوانین پر بھروسہ ضرور ہے مگر اس طرح حکومت کے وکلاء و وزراء اور کورٹ کی خاموشی دیکھنے کے بعد بس یہی الفاظ زبان پر آتے ہیں کہ ”اگر اسی کو جمہوریت کہتے ہیں تو پھر خدارا جمہوریت ختم کر دیجیے” اس حکومت سے کیا ہی امید کیا جائے..!یاد رکھیے وہ تمام لوگ بھی قاتل کے زمرے میں آتے ہیں جو قاتل کا ساتھ دیتے ہیں یا خاموشی اختیار کرتے ہیںسب برابر کے ذمہ دار ہیں کیونکہ ظلم پر خاموشی اختیار کرنا ظالم کو بڑھاوا دینا ہے اور یہ بات میں سب کیلییے کہہ رہا ہوں چاہے وہ حکومت میں بیٹھا مسلم ہو یا غیر مسلم چاہے وہ عام مسلم ہو یا غیر مسلم اگر آپ ظلم کے خلاف صرف یہ سوچ کر نہیں کھڑے ہو سکتے کہ انصاف تھوڑے ہی ملے گا بولنے یا لکھنے کا کیا فائدہ یا اگر آپ کی یہ سوچ ہیکہ جس کے ساتھ ہوا ہے وہ جانے ہم کیوں پڑنے جائیں تو پھر یا رکھیئے گا کہ وہ دن دور نہیں جب یہ آفت آپ کے دروازے پر بھی دستک دیگی کیونکہ جب پڑوسی کے گھر میں آگ لگے نا تو خود کے گھر کو محفوظ نہیں سمجھنا چاہیئے ، اس طرح کی ذہنیت سے خود کو پاک کریں اور انصاف کی مانگ کریں ،آپ نہ احتجاج کر سکتے ہیں نہ ہی انصاف دینا آپ کا کام ہے بس اتنا کیجیے کہ ٹویٹر پر جاکر #justiceforgulnaz ٹویٹ کیجیے،کیونکہ اب ٹویٹر ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جہاں آپ بغیر کسی روک ٹوک کے اپنی آواز اٹھا سکتے ہیںاور انصاف کی مانگ کر سکتے ہیں،ٹویٹر کے ذریعہ سے ہی یہ خبرہم تک پہونچی ہے ورنہ گودی میڈیا میں اتنی ہمت کہاں کہ وہ انصاف کی مانگ تک کر سکے۔ بس دعاگو ہوں کہ اے اللہ تو حاکموں کا حاکم ہے تو ججوں کا جج ہے تجھ سے بہتر انصاف کوئی نہیں دے سکتا اس معصوم کے گھر والوں کو انصاف دلا دے اور حیوان صفت انسانوں سے اس دنیا کو پاک کر دے اور ہماری سبھی مائوں اور بہنوں کی حفاظت کرے آمین ۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper