آرٹیکل

ماحولیاتی تحفظ کے لئے کوشاں ایک نو عمر طلب علم

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded  on 23-November-2020

وراد کوبل نامی طالب علم مہاراشٹرا کے ضلع سندھودوگرا میں واقع اچارا گاؤں کے رہائشی ہیں۔ ان کی عمرابھی کل 15 سال ہے۔ تاہم، جب وہ اپنے گاؤں کے ماحولیاتی نظام جیسے نازک مسائل کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں تو وہ اس قدر سنجیدہ ہوتے ہیں کہ ان کی عمر کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے ۔جوش و جذبے سے سرشار یہ نو جوان پوری سنجیدگی سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہتا ہے، ” درختوں، پرندوں اور جانوروں کو ضلع میں جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ ہزاروں درختوں کو پہلے ہی کاٹا جا چکا ہے جس کی وجہ سے گا ؤں کے آس پاس کا ماحول ناقابل برداشت ہوگیا ہے۔ بے وقت بارش، سیلاب اور سمندری طوفان اب نہ صرف ہمارے لئے نئے معمول بنتے جا رہے ہیں بلکہ ہم اس کے عادی بھی بن رہے ہیں

وراد نے کافی پہلے سے ماحولیات اور فطرت کے تیئں سنجیدہ ہیں ۔ برڈلن ٹرن نامی سمندری پرندوں کو انہوں نے اس وقت بچایا تھا جب ان کی عمر صرف بارہ سال تھی۔تقریبا تین سال قبل مغربی ساحل پر سمندری طوفان آیا تھا ۔اس دوران یہ بے یارو مددگار مہاجر پرندے زخمی ہوگئے تھے۔ ممکنہ طور پر بازیاب ہوئے پرندوں کو مان سون کی ہواؤں کے ساتھ کونکن کے ساحل کی طرف اڑا دیا گیا تھا۔ وراد اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں ،” طوفان کے فورا بعد میں ساحل سمندر کھڑاجوار کو دیکھ رہا تھا۔اچانک میں نے کچھ غیرمعمولی سرگرمی دیکھی۔ میں نے دیکھا کہ کچھ برڈلن پرندے ساحل پر اتر رہے ہیں، مگر جیسے ہی وہ ساحل پر اترتے ہیں کووں کا ایک جھنڈ ان پرندوں پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ وہ مہاجر پرندے اپنی دفاع نہیں کر پا رہے تھے۔ میں نے ان پرندوں کو اٹھایا اور پھر انہیں اپنے ساتھ لیکر گھر چلا گیا” ۔

وراد کو ان پرندوں سے متعلق کوئی بھی جانکاری نہیں تھی ۔ انہوں نے اس سے پہلے کبھی ان پرندوں کو نہ تو دیکھا تھا اور نہ ہی ان کے وجود کے بارے میں انہیں کوئی معلومات تھی۔ انٹرنیٹ پر تلاش کرنے کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ یہ کیریبین جزیروں میں پیدا ہوتے ہیں،خلیج فارس میں گھونسلے لگاتے ہیں اور خاص ایام میں بحر ہند میںسیروتفریح کرنے آتے ہیں۔ 32 سینٹی میٹر لمبی اور نوکیلی دم والے عنبر رنگ کے یہ پرندے کافی زخمی تھے اور سانس لینے میں دشواری محسوس کر رہے تھے۔ دوران گفتگو مذکورہ پرندوں کے بارے میں بتاتے ہوئے وراد کہتے ہیں ‘’’میں نے انہیں کھلایا پلایااور ان کے داغوں پر اینٹی سیپٹک لوشن لگایا۔ میں نے ایک ہفتہ ان کی دیکھ بھال کی اس کے بعد وہ اڑنے کے قابل ہو گئے۔سمندری پرندے زیادہ تر لوگوں کی نظروں سے دور سمندر میں رہتے ہیں لیکن عام پرندوں کے بالمقابل ان کا ذکر زیادہ ہوتا ہے۔‘‘

جلدہی پرندوں کو بچانے کا یہ کام مشن میں تبدیل ہو گیا۔ کونکون کے علاقے میں لاتعداد ترقیاتی سرگرمیوں کے نتیجے میں پرندوں کے لیے نہ صرف رہائش گاہ ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے بلکہ بہت سے دوسرے سمندری اور ساحلی پرجاتیوں کے ناپید ہونے کا خطرہ ہے۔ بہت سے پرندے شہروں اور قصبوں کے اطراف میں لٹکی ہوئی تاروں کبھی الجھ جاتے ہیں اور کبھی ان میں پھنس جاتے ہیں۔ ورادنہ صرف زخمی پرندوں کو بچاتے ہیں بلکہ ا ن کا مکمل علاج بھی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’ان کی بقا ایک پیچیدہ مسئلہ بن گیا ہے۔ میں ان کا خیال رکھنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن انہیں پھر اسی تکلیف دہ دنیا میں جانا پڑتا ہے۔‘‘

وراد کا مشن صرف پرندوں کے بچانے اور ان کی مدد کرنے تک ہی محدود نہیں ہے۔ وہ ساحلی اور سمندری حیاتیاتی تنوع سے متعلق بھی گہری واقفیت رکھتے ہیں۔ ماحولیات کے متعلق جانکاری رکھنے والا یہ نوجوان کہتا ہے’’ کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ انسان متشدد راستے اختیار کرتے ہیں جبکہ جانور اور پرندے انسانوں کے راستے پر چلتے ہیں ؟ میں نے دیکھاہے کہ ایک بلی ایک زخمی گلہری کی دیکھ بھال کررہی تھی۔انسانی قوت مدافعت فطرت پر منحصر ہے کیونکہ ہم بھی ماحول کا حصہ ہیں۔ہماری سرگرمیوں کا زمین کے سارے نظام پر اثر پڑتا ہے۔ دہلی کی ہوامیں اعلی سطحی کی آلودگی ہے جسکی وجہ سے وہاںلوگوںکو سانس لینے میںبھی پریشانی کاسامنا کرناپڑرہاہے۔ اسی لئے ہمارے ایکو سسٹم کو دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ ہم موجودہ زندگی کو ناکام طریقے سے بسر کرکے مستقبل کی زیادہ فکر کیوں کرتے ہیں؟ ہمیں جو ہمارے پاس موجود ہے اسے تسلیم کرنا چاہئے اور اسے محفوظ رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔‘‘

ماحولیات کوبہتر بنانے کی غرض سے انہوں نے خطے میںبہت سے درخت اور پودے بھی لگائے ہیں جن میںجم بھول، نیم، بنیان اور پیپل وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ وراد اور ان کی ٹیم نے حال ہی میں ممبئی-گوا ہائی وے کے ساتھ اچارہ بندر پر بھی متعدد اقسام کے پودے لگائے ہیں۔ وراد کے مکان کا پیچھے کا حصہ رنگین انڈوں کے گولوں سے بھرا ہوا ہے۔ ان گولوں کو نہایت ہی خوبصورتی کے ساتھ رنگ برنگے رنگوں سے رنگا گیا ہے۔ آپ ان رنگے ہوئے گولوں پرشیر کا چہرہ بھی دیکھ سکتے ہیں اور مکی ماؤس کی تصویربھی۔ گولوں پربنائی گئی یہ تصویریںحقیقت سے اس قدرقریب ہیں کہ آپ کواس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہو جائے گا کہ رنگوں سے بنائے گئے ہیں۔ بہر کیف،انہوں نے ’شیڈ ایگ‘ کے نام سے ایک ایسی انوکھی پہل کی ہے جس میں بیج کو بونے کے لئے انڈے کے خول کو استعمال کیا گیا ہے۔ خول کی پینٹنگ مکمل ہونے کے بعد اس میں کچھ مٹی بھر دی جاتی ہے اور مقامی پودے کی بیجوںاس میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ماچس کے خالی ڈبے کو رنگاجاتاہے اور انڈے کے خول کواس پرگوند کی مدد سے چپکا دیا جاتا ہے۔ ماچس کے ڈبے انڈے کے گولوں کے لیے ٹرے کا کام کرتے ہیں۔ ان گولوں کو بند کرنے سے پہلے ان میں تھوڑیے سے ناریل کے نرم ریشوں کوڈال دیا جاتا ہے۔ آخر میں انڈے کے گولوںکو گوند اور کاغذ کے ٹکڑوں کی مدد سے بند کردیا جاتا ہے۔

شاید آپ یہ سوچ رہے ہوں کہ آخر سجے ہوئے انڈوں کے ان گولوں کو کس کام میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس بات کا انکشاف خودودراد کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’اگر انڈے کے گولوں کو صحیح جگہ مل جائے تو وہ ترقی کی منازل طے کریں گے اور ایک دن ان میں سے پودا ضرور نکلے گا۔ آپ اسے اپنے دوستوں کو تحفے میں دے سکتے ہیں اورکسی کے یوم پیدائش کے موقع پر بھی اسے گفٹ کر سکتے ہیں۔ایک دن باکس سے باہرنکل کرپودے کی شکل میںیہ نہ صرف آپ کے باغ میں کوزینت بخشے گا بلکہ ماحولیات کے لیے بھی کافی معاون ثابت ہوگا۔‘‘

وراد نے مسافروں اور گاڑی چلانے والوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس مہم میں ان کی مدد کریں۔ مسافروں سے وہ کہتے ہیں کہ براہ کرم آپ انڈے کے گولوں کو لیں اور دوران سفر انہیں سڑک سے متصل جھاڑیوں پھینک دیں۔ لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ’’ہاں، آپ گاڑی چلاتے ہوئے بھی فطرت کی مدد کرسکتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم سب اپنا کام کرسکتے ہیں۔ آئیے انڈوں کے خول کو جھاڑیوں میں جگہ دیں۔ آپ بس اسے وہاںرکھنے کا کام کریںباقی مٹی، نمی اور ماحول اپنا کام انجام دیں گے۔‘‘ ورادکوابھی بارہویں جماعت کے امتحان کے بعد اپنے کیریئر کے بارے میں فیصلہ کرناباقی ہے لیکن اس سے پہلے انہوں نے جو کام کیا ہے وہ واقعی قابل تعریف ہے۔ وراد کے والدین ان کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ان پر اعتماد رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’وہ میرے منصوبوں پر خوش ہیں۔ میں اس سے بھی زیادہ پراعتماد ہوں، میں جو ابھی کر رہا ہوں وہ جاری رکھنا چاہتا ہوں۔‘‘

اس نو عمر میں ساحلی، سمندری اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے درکار ضروری نظریات، علم، جنون اور تجربہ سب کچھ موجود ہے۔ انکے علاوہ گریٹا تھونبرگ اور اسرا ہیرسی وغیرہ جیسے کم عمر ماہر ماحولیات بھی ہیں۔ جنہوں نے آلودگی سے پاک دنیا کی ہماری امیدوں کو جگا دیا ہے۔ یہ نوعمر اسکول کے کام کے علاوہ دیگر سماجی سرگرمیوں میں بھی مصروف ہیں اور کمال کی بات یہ ہے کہ انہیں اپنے والدین کی ہر طرح سے حمایت بھی حاصل ہے۔(چرخہ فیچرس)

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper