اسلام

والدین : حصول جنت کے لئے رازہائے سربستہ

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded  on 05-November-2020

اللہ رب العزت نے اپنی عبادت وبندگی کے ساتھ ساتھ اپنے والدین کے ساتھ بھی حسن سلوک اور اطاعت وفرما نبرداری کاحکم دیا ہے۔خصوصیت کے ساتھ جب وہ بوڑھے ہوجائیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ عزوجل قرآن مقدس میں والدین کے تعلق سے ارشاد فرماتا ہے۔”اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اسی کی ہی عبادت کرو اور والدین کے ساتھ احسان کرو،اگرتمہارےسامنےبڑھاپےکوپہنچ جائے۔ایک یا دونوں ،تو انہیں اف نہ کہنا اور نہ ہی انہیں جھڑکنا،ان سے تعظیم کی بات کرنا اور انکے لیے نرم دلی سے عاجزی کا بازو پھیلانا اور عرض کرنا کہ اے میرے رب! میرے والدین پر رحم فرما،جیسے انہوں نے مجھے بچپن میں پرورش کیا۔” اس مقدسہ ہمیں درس ملتا ہے کہ عبادت و ریاضت کے ساتھ ساتھ ماں باپ کی اطاعت وفرمانبرداری بھی ضروری ہے اس لئے کہ جس رب نے ہمیں نماز ، روزہ ، حج ، زکوات ، تلاوت قرآن ، تسبیحات وتہلیلات اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا جہاں حکم دیا ہے وہی اپنے بندوں کو اپنے والدین کے ساتھ فرمانبر داری اور حسن سلوک کا بھی حکم دیا ہے۔توجس طرح ہم نماز وروز ودیگر احکام خداوندی کی پابندی لازم و ضروری سمجھتے ہیں اسی طرح ان لازم و ضروری احکام میں ماں باپ کی اطاعت وفرمانبرداری بھی اور انکے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ بھی لازم و ضروری ہے۔اس لیے ان ساری عبادتوں کی قبولیت کا عظیم ترین ذریعہ ماں باپ کی رضامندی اور انکی خوشنودی کا ہونا لازم و ضروری ہے۔والدین کی فرمانبرداری کے تعلق سے اب چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں ہوسکتا ہے کہ ہماری بصارتوں سے گزرنے کے بعد ہمیں بھی اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک اور فرمانبرداری کی توفیق مل جائے اورہماری عاقبت سجتی اورسنورتی نظر آئے۔چند احادیث مقدسہ:-1.ماں،باپ کے نافرمان کا فرض اور نفل ایک بھی قبول نہیں ہوتا۔(ابن عاصم)2.منجملہ کبائر کے ایک گناہ یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین پر لعنت کرے۔(بخاری ومسلم)3.ماں،باپ کے نافرمان کو جنت میں داخل نہ کرنے کا اللہ تعالیٰ نے ذمہ لے لیا ہے‌۔(حاکم)4.کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔(بخاری ومسلم)5.ماں باپ کا نافرمان جنت میں نہیں جاےگا۔اسی طرح دیوث اور وہ عورت جو عورت ہوکر مردوں کی وضع اختیار کرے۔(نسائی)6.شرک، ماں باپ کی نافرمانی۔میدان جہاد سے بھاگنا یہ ایسے مذموم فعل ہیں کہ انکی موجودگی میں کوئی نیک عمل قبول نہیں ہوتا۔(طبرانی)7.ایک حدیث میں ارشاد ہے ہر گناہ کے بدلے میں عذاب اور ہر جرم پر گرفت کو مؤخر کیا جاسکتا ہے۔لیکن ماں باپ کی نافرمانی کرنے والے کاگناہ ایسا سخت ہے کہ اس کا مواخذہ مرنے سے پہلے بھی کیا جاسکتا ہے۔(حاکم)8.حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جنت کی خوشبو پانچ سو اولادکو بھی چاہیے کہ وہ بوڑھے ماں باپ کو اپنے اوپر بوجھ نہ سمجھیں،بلکہ انکی خدمت، فرما برداری اوران کے ساتھ حسن سلوک کامظاہرہ کرنا اپنی نیک بختی اور سعادت مندی تصور کریں انھیں والدین کی رضا میں اللہ رب العزت کی رضا ہے ۔اور خود سوچیں کہ اگر آج یہ بوڑھے ہیں،تو کل ہم بھی بوڑھے ہونگےبرس کی راہ تک پہنچتی ہے۔مگرماں باپ کانافرمان ایسا بدنصیب ہے کہ وہ اس ہوا سے محروم رہےگا (طبرانی) 9.ایک شخص نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں نماز پڑھتا ہوں روزہ رکھتا ہوں اور زکوۃ دیتا ہوں۔ مجھے کیا اجر ملے گا سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت میں نبیوں وصدیقوں شہیدوں کے ساتھ ہوگا بشرطیکہ تو ماں باپ کا نافرمان نہ ہو۔(احمد۔ طبرانی)10. جنت کے دروازوں میں سے بہترین باپ ہے تیرا جی چاہے اس کی حفاظت کر یا اس کو ضائع کردے۔(بخاری ومسلم) 11.حضر ت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رزق کی کشادگی اور عمر کی زیادتی کا خواہش مند ہو اس کو چاہیے کہ صلہ رحمی کرے اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کریں( احمد)12.ایک صحابی نے دریافت فرمایا والدین کا کیا حق ہے؟آپ نے فرمایا وہ تیرے لئے جنت بھی ہیں اور جہنم بھی۔یعنی انکی رضا تیرے جنت ہے اور انکی ناراضگی تیرے لئے جہنم ہے۔ 13.حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ وسلم نے کسی سے عرض کیا میں ہجرت کی بیعت کرنے آیا ہوں۔ جب میں چلا ہوں تو ماں باپ کو روتا ہوا چھوڑ کر آیا تھا۔فرمایافوراواپس جا اور ان کو جس طرح رلایا ہے اسی طرح ہنسا۔ (ابوداؤد شریف)14.حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ایک شخص نے جہاد کی اجازت طلب کی ۔فرمایا تیرے ماں باپ زندہ ہیں؟ اس نے عرض کیا جی ہاں زندہ ہیں فرمایا انہیں کی خدمت میں جہاد کا ثواب موجود ہے ۔(بخاری ومسلم)15.حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیاکہ بہترین عمل کونسا ہے جو اللہ رب العزت کو سب سے زیادہ محبوب ہے فرمایا وقت پر نماز پڑھنا۔ میں نے عرض کیا اس کے بعد فرمایا ماں باپ سے حسن سلوک کرنا۔عرض کیا پھر کون سا عمل فرمایا اللہ عزوجل کے راستے میں جہاد کرنا (بخاری ومسلم)16.حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک صحابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا میں جہاد میں جانا چاہتا ہوں مجھے مشورہ دیجئے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما تیری ماں ہے؟ اس نے کہا ہاں ماں تو ہے فرمایا اسی کے پاس رہ جنت اس کے پاؤں کے نزدیک ہے۔(نسائی)17.بڑے بڑے گناہوں میں ایک بڑا گناہ یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی دے ۔ لوگوں نے عرض کیا حضور یہ کیوں کر ممکن ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین کو گالی دے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے دوسرے کے ماں باپ کو گالی دینا ایسا ہی ہے جیسے اپنے ماں باپ کو گالی دی۔ کیونکہ جب تم دوسرے کے ماں باپ کو برا کہو گے تو یقیناً اس کے بدلہ میں تمہارے ماں باپ کو برا کہے گا (بخاری و مسلم وابو داؤ)18.ایک شخص نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تیری ماں۔اس نے پھرعرض کیا: پھر کون؟ آپ نے فرمایاتیری ماں۔اس نے پھر عرض کیا: پھر کون:آپ نے فرمایا تیری ماں۔اس نے چوتھی مرتبہ پھر عرض کیا: پھر کون:آپ نے فرمایا تیرا باپ۔(مشکوۃ)حج مبرور:-حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہےجو بچہ اپنے والدین کی طرف ایک دفعہ نظر محبت سے دیکھے، اللہ تعالی اس کےعوض ایک حج مقبول کا ثواب لکھتا ہے۔عرض کیا گیا اگرچہ دن میں سو مرتبہ دیکھے،فرمایاہاں چاہے سو مرتبہ دیکھے۔اللہ سب سے بڑا اور سب سے اعلیٰ ہے۔ (مشکوۃ)سات حج:-حکایتوں میں ہے کہ ایک شخص نے اپنی بوڑھی والدہ کو اپنےکاندھوں پر بٹھا کر سات مرتبہ حج کروایا۔ جب آخری مرتبہ طواف سے فارغ ہوا،تو میزاب رحمت کے سامنے کھڑے ہوکر بارگاہ خداوندی عزوجل میں عرض کیا”اے اللہ ! میں نے اپنی والدہ محترمہ کو کندھوں پر بٹھا کر سات مرتبہ حج کروایا ہے ،کیا میں نے اپنی ماں کا حق ادا کردیا ہے؟توپھر کسی کہنے والے کی آواز اس سعادت مند بیٹے کے کانوں میں آئی ۔والدہ کوکاندھوں پر بٹھا کر سات حج کرواکرکہنےوالے کہ میں نے ماں کا حق ادا کردیا ہے،ابھی تو توایک رات کا بھی حق ادا نہیں کر سکا۔جنت ماں کے قدموں میں:-ایک شخص حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کرنے لگا کہ یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم! میں جہاد کرنا چاہتا ہوں اورآپ سے مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کیا تیری ماں زندہ ہے؟اس نے عرض کیا:ہاں!” آپ نے فرمایا اسے لازم پکڑو،کیونکہ جنت اسکے قدموں میں ہے۔(مشکوتہ) اسکا مطلب یہ ہے کہ آپنے فرمایا کہ جاؤ اپنی والدہ کی خدمت کرو،جنت تمہاری والدہ کے قدموں میں ہے۔آپ کا فرمان تمام امت مسلمہ کے لئے مطلقاً ہے۔آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ اگر تمہاری والدہ روزہ،نماز،حج ،تلاوت قرآن اور تقویٰ شعار ہے تبھی اس کے قدموں میں جنت ہے۔بغیر کسی تخصیص کے آپنے ارشاد فرمایا:جنت تمہاری ماں کے قدموں میں ہے۔افسوس صد افسوس یہی والدین ہیں کہ اپنی اولاد کو پیٹ سے لےکر جنم تک اور جنم سے لیکر اپنی آخری سانس تک اپنی اولاد سے اتنی شفقت ومحبت کرتے ہیں جنکی کوئی نظیر پیش نہیں کیا جا سکتاجیساکہ روز روشن کی طرح عیاں ہیں، کہ یہی وہ ماں ہیں جنھوں نے نو مہینہ پیٹ میں رکھ کر زندگی اور موت سے لڑائی کرکے اس دھرتی پر جنم دیا،دو سے ڈھائی سال تک دودھ پلایا،ناجانے اپنی ماں کے آنچل کو کتنے دفعہ ہم نے نجاست سے آلودہ کیا،ہماری تکلیف کی خاطر کتنوں دفعہ ہوسپیٹل کا سامنا کرنا پڑا،اپنی اولا د کے چہرے پر خوشی دیکھنے کے لئے کتنے ڈاکٹرس،حکیم ،مولانا،اور باباوں کے دربار کا رخ کیا،کتنے مزارات کے چکر کاٹےاور کتنی منتیں کیں،یہیں نہیں بلکہ اپنے بچے کےخوردونوش اور لباس کا خیال رکھتے ہیں،یہ خود اچھا نہیں کھاکے بچوں کو عمدہ کھلانے کی کوشش کرتی رہی ،خوداچھا نہیں لباس زیب تن کرکے انہیں زرق برق لباس پہنانے کی فکر مند رہی کتنی راتیں انکے لئے قربان کیا انکے پرورش کے لئے کتنے دن وقف کر ڈالی۔واہ رے ماں آپکا کائنات میں کوئی جواب نہیں۔پھر باپ بھی باپ ہی ہوتا ہے جو اپنی اولاد کی خوشی کے لئے ہر گھڑی ہرلمحہ فکرمند رہتاہے اپنی ہر آرزوئیں اولاد کے لئے قربان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ان ساری قربانیوں اور احسانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اولادکو بھی چاہیے کہ وہ بوڑھے ماں باپ کو اپنے اوپر بوجھ نہ سمجھیں،بلکہ انکی خدمت، فرما برداری اوران کے ساتھ حسن سلوک کامظاہرہ کرنا اپنی نیک بختی اور سعادت مندی تصور کریں انھیں والدین کی رضا میں اللہ رب العزت کی رضا ہے ۔اور خود سوچیں کہ اگر آج یہ بوڑھے ہیں،تو کل ہم بھی بوڑھے ہونگے۔آج اگر ہم انکی خدمت کریں گےتو کل ہماری اولاد بھی ہماری خدمت کرےگی۔اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہمیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے طفیل سے اپنے والدین کی فرمانبرداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper