اسلام

بھروسہ اللہ پر کیجئے …دولت اور اسباب پر نہیں!

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded  on  11-December-2020

توکل علی اللہ کس کو کہتے ہیں ؟توکل علی اللہ کا مطلب ہے اللہ پر بھروسہ اور اعتماد کرنا۔اعتماد اور بھروسہ کرنے کا کیا مطلب ہوتا ہے اس کو سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ہر آدمی سمجھتا اور جانتا ہے کہ کسی پر بھروسہ اور اعتماد کرنے کا کیا مطلب ہوتا ہے۔سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کسی پر بھروسہ کس طرح کیاجائے ؟ کسی کی بات پر بھروسہ کیا جائے یا نہیں کیاجائے ؟عام طور پر جب انسان ایک دوسرے سے وعدہ کرتا ہے تو وعدہ لینے والا اس شک میں رہتا ہے کہ پتہ نہیں وعدہ کرنے والا اپنا وعدہ نبھائے گا یا نہیں ؟ ساتھ ہی اس بات کا بھی اندیشہ ہوتا ہے کہ پتہ نہیں وہ اپنی نیک نیتی کے باوجود اپنا وعدہ پورا کرنے کی قدرت رکھتا ہے یا نہیں ؟ یعنی وعدہ کرنے والے پر بھی شبہہ اور اُس کی صلاحیت پر بھی شبہہ۔ اسی شک اور شبہہ کے نتیجے میں آدمی ،آدمی کے وعدے پر مکمل اعتماد اور بھروسہ نہیں کرپاتاہے۔ وہ ایک آدمی کے وعدہ کر نے کے بعد کسی خاص کام کے لئے دوسرا متبادل انتظام بھی کرتا ہے تاکہ وعدہ کرنے والا اپنا وعدہ پور ا نہ کر ے تو اُس کو نقصان نہ اٹھانا پڑے اور دوسرے انتظام کے تحت اُس کی ضرورت پوری ہو جائے۔انسانی کمزوری اور مجبوری کے تحت انسان کے وعدے پر انسانوں کے بھروسے اور اعتماد کاجو انداز ہوتا ہے کیا اللہ تعالیٰ کے وعدے کو بھی ویسا ہی سوچنا اورسمجھنادرست ہوگا ؟ نہیں ہرگز نہیں ! ایسا کرنے کا مطلب ہے کہ آدمی اللہ کی قدرت کا قائل نہیں ہے اور اُس کو اللہ کی طاقت کا اندازہ نہیں ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی اعلیٰ صفات پر ایمان نہیں رکھتا ہے۔اللہ پر جیسا ایمان ہونا چاہئے وہ اس سے بھی محروم ہے۔اللہ پر توکل کرنے کے لئے انسان کو جس ایمان و یقین کی دولت چاہئے اُس کو حاصل کرنے کے لئے مندرجہ ذیل باتوں کو سمجھنا ہوگا:(۱)دنیا میں اُس کی پیدائش اللہ کے سواکسی دوسری طاقت کا کارنامہ نہیں ہے۔ جس نے پیدا کیا ، زندگی دی اور دنیا میں لانے تک کا انتظام کیا ، وہ پروردگار کیا دنیا میں انسان کی بنیادی ضرورتوں سے بے پرواہو جائے گا ؟ دنیا میں رزق دینے کا وعدہ اللہ نے کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ روزی دینے کے معاملے میں وہ اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان کوئی بھید بھاؤ نہیں کرتا ہے۔اپنی تمام مخلوق کو یکساں طور پروہ روزی پہنچاتا ہے اور اُن کی ساری ضرورتیں پوری کرتا ہے۔(۲)انسان جب دودھ پیتا بچہ تھا اور ہر لمحہ نگرانی اور مدد کا محتاج تھا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے اُس کے ماں باپ اور اہل خاندان کے دل میں اُس کے لئے محبت کا دریا بہا دیا جس کے نتیجے میں اُن لوگوں نے تکلیف پر تکلیف اٹھا کر اُس کی زندگی اور کامیابی کی کوشش کی۔جس مہربان مالک نے انسان کو زندہ، باقی اور قائم رکھنے کا اتنا عمدہ اور شاندار انتظام کیا ،وہ پروردگار کیا اب اُس سے غافل ہو جائے گا ؟(۳)وہ صرف روزی کا انتظام ہی نہیں کرتا ہے بلکہ تمام مخلوق تک روزی پہنچانے کی قدرت بھی رکھتا ہے اور پہنچاتا بھی ہے۔وہ اپنی تمام مخلوق تک جس طرح سے روزی پہنچاتا ہے اُس کا تھوڑا سا تجربہ انسان کو حیران کر دیتا ہے اوراُس کو اللہ تعالیٰ کی بے پناہ قدرت کا قائل بنا دیتاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا ایمان اللہ پر مستحکم ہوتا ہے کہ جو پروردگار ساری دنیا کو روزی دے رہا ہے کیا وہ اس کو روزی نہیں دے گا جبکہ وہ اپنے رب کا فرماں بردار بھی ہے ؟(۴)روزی اور رزق سے مراد صرف کھانا اور پانی ہی نہیں ہے بلکہ اس سے مراد زندگی کی وہ تمام جائز اور بنیادی ضرورتیں ہیں جن کے بغیر انسان کی زندگی زمین پرممکن ہی نہیں ہے۔انسان کو اپنی زندگی میں جتنی چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے یا پڑے گی اُن سبھوں کو اللہ تعالیٰ ہی پیدا کر رہا ہے۔اُس کے سوا کوئی دوسرا اس کام میں اُس کا شریک نہیں ہے۔انسان نے اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں کی شکل و صورت بدل کر اُن کو اپنے طریقے سے استعمال کرنے کا فن اور ڈھنگ سیکھ لیاہے۔ ایسا کرنے کے لئے عقل و شعور اور صلاحیت و استعداد بھی اُسی مہربان پروردگار کی دی ہوئی ہے۔یہ لیاقت اور قابلیت بھی کسی اور کی بخشی ہوئی نہیں ہے۔(۵)قرآن میں اللہ تعالیٰ بار بار کہتاہے کہ انسان اپنی ذات یعنی اپنے جسم کو دیکھے، اپنی مادی ضرورتوں کو دیکھے اور غور کرے کہ ان کی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ نے کیا انتظام کیا ہے۔پھر اپنی ذات سے باہر کی دنیا کو دیکھے۔اللہ تعالیٰ نے آسمان، زمین، سورج، چاند، ستارے، سیارے،کہکشائیں، بادل، بارش،ہوا، پانی، پہاڑ، آگ، غلے، پھل، میوے،دودھ،گوشت، سبزیاں،علا ج کے لئے جڑی بوٹیاں، پیڑ، پودے، پھل، پھول، سونا،چاندی،تانبا،پیتل، لوہا ،پتھر، ہیرے،جواہرات، موتی، مونگے،چر ندے، پرندے، درندے،کیڑے ،مکوڑے،گرمی ،سردی،برسات،ندی، نالے، دریا، جھرنے، سمندر، غرض اتنی چیزیں پیدا کی ہیں کہ اُن کا شمار کرنا بھی آدمی کے لئے ممکن نہیںہے۔ یہ سب کچھ انسان ہی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔(۶)انسان ان سب چیزوں کو دیکھ کر یہ سوچے کہ جس مہربان ،رحم کرنے والے پروردگار نے اُس کے لئے اتنے انتظامات کیے ہیں وہ اُس سے غافل کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ اپنا وعدہ کیسے بھول سکتا ہے۔و ہ انسان کے لئے ظالم اور جابر کیسے بن سکتا ہے؟ وہ تو رحمن اور رحیم، غفور اور کریم ، ستار اور غفار ہے۔اگر ان باتوںپر غور کرنے کے بعد بھی انسان کو اپنے خدا پر اعتماد کرنے کی توفیق نہیں ہوتی ہے تو پھر اُسے بد نصیب ہی کہاجائے گا اور ایسے انسان پر حسرت و افسوس کے سوا اور کیا کیا جاسکتا ہے۔توکل علی اللہ اور تدبیر کا کیا رشتہ ہے ؟حقیقت سے ناواقف کچھ لوگ ایسا سمجھتے ہیں کہ تدبیر اور کوشش کرنا توکل علی اللہ کے خلاف ہے۔ توکل علی اللہ کا مطلب ہے کہ انسان سارے معاملات اللہ پر چھوڑ دے اور کسی معاملے میں بھی خود کوئی کوشش نہ کرے۔ایسی غلط بات وہی لوگ کہتے اورسمجھتے ہیں جنہوں نے نہ تو قرآن کو سمجھ کر پڑھا ہے اورنہ ہی رسول اللہﷺ کے ارشادات کو جانا ہے اور نہ ہی دنیا کی حقیقت کو پہچانا ہے۔دنیا اور کائنات اللہ تعالیٰ نے ایسی بنائی ہے کہ یہاں جب تک کوئی ذریعہ نہیں پیدا ہوگا کوئی کام نہیں ہو سکتاہے۔انسان کی پیدائش کے لئے ماں باپ کا ہونا ضروری ہے۔ شوہر اور بیوی کے میل کے بغیر بچہ نہیں پیدا ہوگا۔زمین کی مٹی کے بغیر غلہ نہیں پیدا ہوگا۔ زمین میں غلہ پیدا کرنے کی صلاحیت کے لئے آسمان سے بارش کا ہونا اور سورج کی حرارت کا ملنا لازمی ہے۔ہوا نہ ہوتو انسان کا جینا دشوار ہو جائے۔ سماج کے لوگ اگر ایک دوسرے کی مدد نہ کریں او رامداد باہمی کے اصول کو نہ اپنائیں تو انسان کا جینا محال ہو جائے ۔دنیا کا سارا کاروبار اور ترقی و خوشحالی انسانوں کی متحدہ اور متفقہ کوششوں کا ہی نتیجہ ہے۔خود غرض اور الگ تھلگ رہنے والے لوگ نہ تو اپنی ذات کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ دنیا کی بھلائی کا کوئی کام کر سکتے ہیں۔انسان انسان کے کام آنے کا ذریعہ اور وسیلہ بنتا ہے، تب ہی انسان کے سارے کام ہوتے ہیں۔ دنیا میں وسیلہ اور ذریعہ کے بغیرجب کوئی کام نہیں ہوسکتا ہے تووسیلہ اور ذریعہ تلاش کرنے کے لئے تدبیر اور کوشش کرنابھی ضروری ہے۔جب کوشش اور تدبیر کے بغیر زندگی کی گاڑی ایک انچ آگے نہیں بڑھ سکتی ہے تو توکل علی اللہ کا مطلب کیسے یہ ہوسکتا ہے کہ انسان تدبیر اور کوشش نہ کرے ، ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے اور اللہ کی مدد کی راہ دیکھتا رہے۔دنیا کی تمام ترقی اور خوش حالی انسان کی کوشش اور محنت و مشقت نیز تدبیر اور حکمت کا ہی نتیجہ ہے۔ توکل علی اللہ کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان کوشش اور تدبیر نہ کرے۔تدبیر اور کوشش انسان کو کرنی ہے لیکن اس کا نتیجہ اور انجام انسان کی خواہش اور مرضی کے مطابق ہو ایسا ضروری نہیں ہے۔اگرکوشش اور تدبیر کامیاب ہو گئی تو سمجھنا چاہئے کہ ایسا اللہ کے فضل اور کرم سے ہوا اور کوشش اور تدبیر ناکام ہو گئی تو یہ سمجھنا چاہئے کہ اللہ کو ایسا ہونا منظور نہیں تھا۔اللہ کو منظور تھااس لئے کوشش کامیاب ہو گئی۔ اور اللہ کو منظور نہیں تھا اس لئے کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔تدبیر اور کوشش پر ہی مکمل بھروسہ کرلینا اور اللہ کی قدرت اور مشیت کے قانون کو نظر انداز کر دینا در اصل توکل علی اللہ کے خلاف ہے۔تدبیر اور کوشش کرنے کا حکم خود اللہ نے دیا ہے اور اس کے رسول ﷺنے اس کی تاکید کی ہے۔ جب انسان کوشش اور تدبیر کرتا ہے تو وہ اللہ اور رسولﷺ کے حکم کی تعمیل کرتا ہے۔اللہ اور رسولﷺ کے حکم کی تعمیل کرناتوکل علی اللہ کے خلاف کیسے ہو سکتا ہے ؟ اللہ پر ایمان اورتوکل علی اللہ کے نتیجہ میں انسان اپنی تدبیر کو کامیاب ہوتا دیکھ کر اتراتا نہیں ہے اور تکبر میں مبتلا نہیںہوتا ہے۔ اور اپنی تدبیر اور کوشش کو ناکام ہوتا دیکھ کر مایوس اور پست ہمت نہیں ہوتاہے۔اللہ پر ایمان اورتوکل علی اللہ انسان کو غلط راہ پر چلنے سے روکتے ہیں۔توکل علی اللہ نہیں ہونے کی وجہ سے انسان یہ غلطی بھی کرتا ہے کہ وہ اپنا ہر کام اپنی مرضی کے مطابق ہوتے دیکھنا چاہتا ہے۔وہ اس حقیقت کو بھول جاتا ہے کہ اس کے چاہنے سے دنیا نہیں چل رہی ہے ۔دنیاکا نظام اللہ کی مشیت کے مطابق چل رہا ہے۔اللہ کی مشیت اور اُس کا قانون ساتھ دے گا تب ہی انسان کی کوشش کامیاب ہوگی، ورنہ اُ س کی بہترین کوشش اور تدبیر ناکام ہو جائے گی۔توکل علی اللہ اور تدبیر کا رشتہ ویسا ہی ہے جیسے کسان کھیت میں بیج بو کر بارش کا انتظار کرتا رہتا ہے۔ بیج بونا اُس کا کام تھا بارش برسانا اللہ کا کام ہے۔ کسان اگر اہل ایمان ہے تو بیج بو کر اللہ سے دعا اور فریاد کرے گا کہ مالک میں نے اپنا کام کر لیا اب تیری رحمت اور مدد کا انتظار ہے۔تورحم کر اور مدد فرما۔اس کے خلاف ایمان سے محروم کسان یہ سوچے گا کہ بارش نہیں ہوئی تو کیا ہوا بورنگ کے پانی سے وہ کھیتی کرلے گا۔وہ اللہ کی جگہ اپنی قوت پر بھروسہ کرتا ہے۔وہ خود کو اللہ کی مدد کامحتاج نہیں سمجھتا ہے ۔ اُس کایہ رویہ توکل علی اللہ کے خلاف ہے۔توکل علی اللہ کا اعلیٰ ترین درجہ ؟توکل علی اللہ کے الگ الگ درجات ہیں۔ہر انسان اپنی عقل و فہم اور یقین و ایمان کے اعتبار سے ایک درجہ کا حقدار بنتا ہے۔کوئی سب سے نیچے والے درجہ پر رہتا ہے، کوئی سب سے اوپر والے درجہ پر اور کوئی ان دونوں کے بیچ کے کسی درجہ پر۔ انسان کے عمل اور یقین کے مطابق یہ درجات گھٹتے اور بڑھتے رہتے ہیں۔ ایک وقت میں کوئی انسان توکل کے معمولی مقام پر ہوتا ہے لیکن وہی انسان کسی وقت توکل کے اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتا ہے اور پھرکبھی نیچے آ جاتا ہے۔کسی دوسرے آدمی کے ساتھ معاملہ اس کے خلاف بھی ہوتا ہے۔لیکن اللہ کے کچھ خاص بندے ایسے ہوتے ہیں جو توکل کے ایک اونچے مقام پر پہنچ کر اُس سے نیچے نہیں آتے ہیں بلکہ اُن کے درجات میں ترقی ہی ہوتی رہتی ہے۔توکل علی اللہ کے سب سے اونچے مقام پر نبی، رسول اور پیغمبر ہوا کرتے ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper