آرٹیکل

یہ قدم قدم بلائیں یہ سواد کوئے جاناں

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded  on  08-December-2020

وطن عزیز ہندوستان سیاسی سماجی اور معاشی طور پر پچھلے چند سالوں سے مستقل تلاطم کا شکار ہے ۔ ایک کے بعد ایک سماجی سیاسی اور معاشی جھٹکوں نے ملک کے تانے بانے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔معیشت کو تو ایسے جھٹکے بیٹھے بیٹھائے دئے گئے کہ کروڑوں لوگ بے روز گار ہو گئے اور کروناکی آمد سے تو دس کروڑ تک بے روز گاری جا پہونچی ہے جیسا کہ بتایا جا رہا ہے اگر یہ آنکڑا غلط بھی ہو توبھی ایک ملک میں دو چار کروڑ لوگوں کی بے روز گاری بھی کوئی کم بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ پہلے مسلمان سڑکوں پر تھے پھر ملک بھر میں کرونا کا لاک ڈاؤن پسرا ہوا تھا۔ یہ ذرا ڈھیلا ہوا تو اب کسان سڑکوں پر ہیں اور پورے ملک میں ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔ ہم ان امور کا قدرے تفصیل سے جائزہ لینے کی کوشش کریں گے کہ آخر ماجرا کیاہے ان قدم بہ قدم بلاؤں اورمحبوب ملک کی گلیاروںمیں تہہ بہ تہہ اندھیروں کا آخری سرا کہاں ہے نیز اہل ملک کو اور خصوصاً ہم مسلمانوں کو اس صورتحال میں کیا کر نا چاہیے ۔

ہنگامہ خیزی کی ابتدا نوٹ بندی سے ہوئی ۔نوٹ بندی چند گھنٹوں کی شارٹ نوٹس پر عائد کی گئی اور ا س نے پورے ملک میں ایک بھونچال بر پا کر دیا۔ بتایا یہ گیا تھاکہ اس اقدام سے بلیک منی ملکی معیشت سے آؤٹ ہو جائے گی ساتھ ہی متعدد فوائد بھی گنوائے گئے لیکن ہوا صرف یہ کہ ملکی معیشت کلین بولڈ ہو کر آج تک پویلین میں بیٹھی ہوئی ہے۔پورے ملک کو مہینوں لائن میں رکھنے والے تو شائد یہ بھول ہی گئے کہ انھوں نے کبھی نوٹ بندی بھی کی تھی۔ معیشت کو استحکام بخشنے کے نام پر کی گئی یہ نوٹ بندی اس نوجوان کے عمل سے مشابہ ہے جو اپنے جوڑوں اور ہڈیوں کو طاقت پہونچانے کے لیے بلندو بالا عمارت سے چھلانگ لگا دے اور ہڈی پسلی ایک کراکے آئی سی یو میں داخل ہو جائے۔بعینہ یہی صورتحال اِس وقت نوٹ بندی کے بعد ہماری معیشت کی بھی ہے ۔

اس کے بعد ایک زبردست سماجی ہڑبونگ ملک بھر میں این آر سی اور سی اے اے کو لے کر مچا ۔پہلے مسلمان اور پھر بیک ورڈ کلاس برادران وطن بھی میدان میں آگئے ۔ کل قضیہ یہ تھا کہ آسام کی این آر سی میں دوگنے سے بھی زیادہ ہندو پھنس گئے جبکہ مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی جبکہ یہ سارا کھیل بزعم خویش ملک سے مسلمان بنگلہ دیشی در اندازوں کو نکال باہر کر نے کے لیے کھیلا گیا تھا لیکن اس میں مسلمان کم ہندو زیادہ پھنسے۔ بارہ پندرہ لاکھ ہندؤں کو غیر ملکی ثابت کر چکنے کے بعد بی جے پی کو ہوش آیااور سی اے اے کا قانون لایا گیا کہ جو ہندو این آر سی میں پھنس جائیں گے انھیں سی اے اے کے ذریعہ شہریت دے دی جائے گی لیکن یہاں بھی پینچ یوں پھنسا کہ این آر سی کے ذریعہ جنھیں دوبارہ شہریت ایک غیر ملکی کے طور پر دی جائے گی انھیں دو سنگین قباحتوں کا سامنا ہو گا ایک یہ کہ غیر ملکی ثابت ہو تے ہی وہ اپنی ان ساری جائداد وںسے ہاتھ دھو بیٹھیں گے جن کے وہ ایک ہندوستانی شہری کے طورپر مالک تھے ۔دوسرے یہ کہ جو یہاں پشتوں سے آباد ہے وہ یہ کیوں تسلیم کرے گا کہ وہ ایک غیر ملکی ہے ۔این آر سی اور سی اے اے پر جس بڑے پیمانے پر( نام نہاد اعلی ہندو ذاتوں کو چھوڑکر) نچلے طبقے اور سیکولر مزاج ہندؤں نے حکومت مخالف مظاہروں میںمسلمانوں کے شانہ بشانہ شر کت کی اس نے حکومت کی چولیں ہلادیں تھیں ،اگر کرونا جیسی خطرناک بیماری نے دستک نہ دی ہوتی تو ملک کے طول و عرض میں ہر ریاست اور ہر علاقے میں مستقل ہونے والے یہ مظاہرے نہ جانے کیا صورت اختیار کرتے ۔پھر مزید یہ کہ حکومت نے کرونا جیسی عا لمگیر وبا کے تعلق سے نہ صرف یہ کہ اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کی بلکہ ہندو مسلم کر کے ہندؤں کی ناراضگی سے خود کو محفوظ رکھنے کی بھی کو شش کی ۔

کرونا آج بھی پورے شدو مد سے جلوہ فگن ہے اگر الیکشن نہ ہوتے تولاک ڈاؤن کا طلسم بھی نہ ٹوٹتا۔ لاک ڈاؤن کا طلسم ٹوٹنا تھا کہ عوام پورے شدو مد کے ساتھ ایک بار پھر سڑکوں پرہیں ۔ اس بار کسان حکومت کے ذریعہ لائے گئے زرعی بلوںکے خلاف آپے سے باہر ہے ۔حکومت این آرسی اور سی اے اے پر بھی یہی کہتی رہی کہ مسلمانوں کوصرف بھرم ہے کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے ۔اب کسانوں کے تعلق سے بھی یہی کہہ رہی ہے کہ کسان صرف بھرم میں مبتلا ہیں حالانکہ بھرم گول مول باتوں پر ہو سکتا ہے پارلیمان میں پاس کیے گئے بل یا ایکٹ پر نہیں جہاں سب کچھ بہت واضح اور متعین طور پر لکھا ہو تا ہے۔

ان تمام تر تفصیلات سے جو چیز مطلوب و مقصود ہے وہ صرف ملکی حالات اور انداز حکومت کی ایک جھلک پیش کرنا تھا اور یہ وضاحت کرنی تھی مستقبل میں حالات کس رخ پر آگے بڑھیں گے اور اس میں ہم مسلمانوںکا کردار کیا ہوگا ۔یہ کہنا کہ ہندوستان میں سیکولرزم کی بساط لپیٹی جاچکی ہے موجودہ حالات میں شاید صحیح نہ ہو گا لیکن سیکولرزم مستقبل میں ملک کے اندر کوئی بہت مؤثر رول ادا کر پائے گی اس کی امید رکھنا فضول ہے کیونکہ ہم پندرہ فیصد کے نام نہاد اعلی طبقے کے خلاف پچاسی فیصدکی جس اکثریت کے ساتھ میدان میں تھے وہ در حقیقت اسی پندرہ فیصد کے عقیدت مند ہیں ۔ طبعی طور پر یہ ممکن نہیں کہ ہم کسی ایسے مظلوم کی مدد کریں جو ظالم کی گود میں بیٹھا ہو ۔ جن بچھڑے طبقات کو ہم اپنی سیکولر سیاست کا قدر مشترک سمجھتے ہیں وہ اپنے بد تر حالات میں بھی اعلی ذاتوں کی عقیدت اور پیشوائی کا دم بھر تے ہیں ۔آپ بچھڑے طبقات کے صاحبان اقتدار سے لے کر عام فرد تک کا مشاہدہ کر لیجیے اعلی ذاتوں سے عقیدت اور احترام ان کی خاندانی روایات اور تہذیب کا حصہ ہے ۔حد تو تب ہو گئی جب انھوں نے یو پی بہار جیسی کلیدی ریاستوں میں جب انھوں نے اپنے محاذ ، اپنی پارٹی ،اپنی برادری حتی کہ اپنے لیڈرکے خلاف اس نام نہاد اعلی طبقہ کو ووٹ کیا جس کے مظالم کا وہ صدیوں سے رونا رو رہے ہیں۔ میں یہ باتیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور یہاں اس لیے دوہرا رہا ہوں تا کہ ہر ایک پر یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ آج ملک کو جو پے در پے ایک سے بڑھ کر ایک مصیبتوں کا سامنا ہے اس کے لیے کوئی اور نہیں بلکہ سیکولر خیمہ کے وہ گروہ اور برادریاں ہیں جنھوں نے نام اپنااِس خیمہ میں لکھوا رکھا ہے اورکام وہ دوسرے خیمہ کا کرتے ہیں ۔پندرہ فیصدکے پچاسی فیصد پر غالب آنے کی اس کے علاوہ کوئی اور وجہ ہو ہی نہیں سکتی کہ ملک کے بچھڑے طبقات عقیدت کے زیر اثر ووٹ دینے کے لیے اعلی طبقے کے خیمے میں جا پہونچے ہیں ۔،حیدرآباد کے حالیہ چناؤ میں بچڑے طبقات کی عقیدت مندی کوذراسی آنچ کیا دکھادی گئی جن کی چار سٹیں تھیں وہ اڑتالیس ہو گئیں ۔

ایسے میں مسلمانوں کے پا س اسکے علاوہ کوئی حل نہیں بچتا کہ ہم صرف اورصرف اپنا دیکھیں اور اپنے بارے میں سوچیں ہمارے مسائل ملی آبرو مندی کے ساتھ جیسے بھی حل ہوں حل ہو جائیں ہمیں اپنی بقیہ توانائی اپنی ترقی اور ملت کی تعمیر پر صرف کرنی چاہیے ۔جو توانائی ہم نے گذشتہ ستر سالوں میں سیکولرزم کی آبیاری اور بیک ورڈ فارورڈ قضیہ کی مزدوری میں صرف کی ہے اگر وہ توجہ اور تگ و دو ہم خود کے لیے کرتے تو شاید ہمارے مسائل باقی ہی نہ بچتے ۔ ہم دوسروں کی مزدوری بڑے شوق سے اس امید پر کرتے رہے کہ وہ ہمارے مسائل حل کریں گے ہمیں یہ اطمینان بھی تھا کہ ہم مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن ہم یہ تاڑ نہ سکے کہ ان مظلوموں کو مظلومیت کی عادت اور چاکری کی لت پڑی ہوئی ہے ۔ جب تک یہ اپنی ان عادتوں سے ابدی توبہ نہ کریں ان کے مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے ۔ ہم پندرہ فیصد کے خلاف پچاسی فیصد میں شامل ہو کر سیکولر محاذمیں شریک ہوئے تھے لیکن ہماری بد نصیبی یہ تھی کہ ہم جن کے ساتھ محاذ میں آئے وہ سرے سے کسی محاذکے لائق ہی نہیں تھے ،ان کی سابقہ مظلومیت اور چاکری ہی ان پر زیادہ جچتی ہے ۔وہ اپنی پارٹی اور حکومتوں سے کھونٹا تڑا کر اسی عقیدت کی بھٹی میں ایک بار پھر کود گئے جس کا خمیازہ مسلمانوں کو یہ بھگتنا پڑا کہ ملک بیس فیصد مسلمانوں کے خلاف اَسی فیصد غیر مسلم کے محاذ میں عملاً تبدیل ہو چکا ہے ۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper