آرٹیکل

امریکی جمہوریت شرمسار

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded  on  12-January-2021

موجودہ دور میں اس امر سے سبھی اتفاق کرتے ہیں کہ یو-ایس -اے نہ صرف عالم کا سب سے طاقتور ملک ہے بلکہ صدیوں سے وہ جمہوریت کی علامت اورمحافظ رہاہے۔ اگر’’1776کے امریکی اعلان‘‘کاجائزہ لیاجائے تو ہمیں پتہ چلے گاکہ اس ملک کا قیام ہی جمہوریت کی بقاء اورعوام کے اختیارات کی بحالی کیلئے ہوا تھا۔ اِس ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایک ایسا کم عقل اور ناعاقبت اندیش انسان صدر ہوا جس نے اپنے افعال اورکارکردگی سے اِس عظیم ملک کو شرمسار کردیا ۔ امریکہ میں اقتدار کی منتقلی ہمیشہ پرامن اور غیرمتنازعہ رہی ہے لیکن پچھلے دنوں جب امریکی کانگریس (پارلیمان) میں صدارتی نتیجے کو منظوری ملنی تھی اُسی دن ٹرمپ نواز حامیوں نے پارلیمنٹ پر حملہ کردیا جس نے باہری دنیا کو حیرت زدہ کردیا۔اِس دوران امریکی قانونی نظام اتنا لچر دکھا کہ کانگریس کے اندر موجود ارکان کی جان خطرے میں پڑگئی۔ حفاظتی دستہ بہت دیر میں پہنچا ۔ سکیورٹی پولیس آنے کے بعد اُنہیں کانگریس ارکان کو پارلیمنٹ عمارت کے اندر محفوظ مقام پر لے جانا پڑا۔ معتبر ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے اُن مظاہرین کو امریکی پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کیلئے اُکسایا تھا۔انہوں نے اپنی شکست قبول نہیں کی۔ اُ ن کا خیال تھا کہ ووٹو ں کی گنتی میں دھاندلی ہوئی تھی۔ انہوں نے کئی جگہوں پر عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایالیکن ہر جگہ پر عدالت نے اُن کی عرضداشت کو مسترد کردیاتھا۔ٹرمپ کا اعتراض یہ بھی تھاکہ بعد میں آنے والے پوسٹل بیلٹ کے ووٹوں کی گنتی نہیں ہونی چاہیے تھی جبکہ کووڈکے ماحول میں بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ دیے ۔ اُن ووٹوں کو گنتی میں شامل نہ کرنا غیرمناسب اورغیرجمہوری عمل ہوتا۔

اگرڈونالڈ ٹرمپ کے صدارتی دور کا جائزہ لیاجائے تو پتہ چلے گا کہ وہ تقسیم کی سیاست پر ہمیشہ عمل پیرا رہے ہیں۔کبھی انہوں نے کچھ خصوصی مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلہ پر پابندی عائد کی ،توکبھی سیاہ فام شہریوں کے ساتھ تفریق کی۔ نتیجے کے طور پر پولیس کی سختیوں کے خلاف سیاہ فام امریکیوں نے مظاہرہ کیا اوروقتاًفوقتاً تشدد کی وارداتیںہوتی رہیں۔امریکہ کی تاریخ میں ایسا پُرآشوب دور پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ پارلیمنٹ میں 12گھنٹوں کی ہنگامہ آرائی سے ٹرمپ کے دور میں کمزور ہوتی ہوئی جمہوریت اورعوام کے اختیارات پر حملے اجاگرہوگئے لیکن آخر کار ڈونالڈٹرمپ صدارتی انتخاب کے نتیجے کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے اوراس طرح گزشتہ دوماہ سے جاری سیاسی بحران اورغیریقینی سیاسی حالات کا خاتمہ ہوا۔ امریکی جمہویریت کی ایک اچھی بات یہ ہے کہ وہاں کے عوام ہندوستان کی طرح’ شخصیت پرستی ‘میں یقین نہیں رکھتے، جمہوری اقدار کا دامن نہیں چھوڑتے اور وہاں کی میڈیا اورعدلیہ غیرجانبدار ہوتی ہے۔ دوسری طرف اگراپنے ملک ہندوستان کی جمہوریت کا موازنہ امریکی جمہوریت سے کیاجائے توہم لوگ کافی پسماندہ دکھیں گے۔ ہمارے ملک میں 98فیصد میڈیا گودی میڈیا میں تبدیل ہوچکاہے۔ ہمارے آئینی ادارے عدالتِ عظمیٰ، الیکشن کمیشن اورسی-بی-آئی وغیرہ حکومت کے ماتحت بن چکے ہیں اور ان ہی کے نقشِ قدم پر چلنے کیلئے تیار ہوچکے ہیں۔علاوہ ازیں فرقہ واریت ہمارے ملک کی جمہوریت کو دیمک کی طرح نقصان پہنچارہی ہے۔

امریکہ میں چونکہ جمہوریت کی جڑیں کافی گہری ہیں اس لیے وہا ں کے عوام ، میڈیا اورسیاسی جماعتوں کے لوگوں نے اس حادثہ کی پرزور مذمت کی ہے۔ یہاں تک کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی اپنی ریپبلکن پارٹی کے اراکین نے بھی اُن کی حرکتوں کی مذمت کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کی۔ امریکی نائب صدر مائک پینس نے بھی ٹرمپ کی اس بات کو ماننے سے انکار کردیا کہ وہ الیکشن کے نتائج پر دوبارہ غور کریں۔انہوں نے ایمانداری کاثبوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایسا نہیں کرسکتے کیوں کہ یہ غیرآئینی قدم ہوگا۔ امریکی سوشل میڈیا ٹیوٹر ،فیس بک اورانسٹاگرام نے بھی ٹرمپ کے اکاؤنٹ کو اِس وجہ سے معطل کردیا کہ انہوں نے اس حملے پر شرمندگی کا اظہار کرنے کے بجائے حملہ آور بھیڑکی تصاویر سوشل میڈیا پر نشر کرکے اپنے حامیوں کا حوصلہ بڑھایا ۔حد یہ ہے کہ اب امریکی کیبنٹ امریکی آئین کی 25ویں ترمیم کے تناظر میں ٹرمپ کو’ آؤٹ آف کنٹرول‘قرار دے کر اُن کو عہدے سے ہٹانے کے بارے میں غور کررہی ہے۔دنیا کے تمام ممالک کے وزرائے اعظم اورصدور (بشمولیت اپنے ملک کے وزیراعظم)نے اِس واقعہ کی پرزور مذمت کی ہے۔بحرحال موجودہ صورت حال یہ ہے کہ امریکہ میں جمہوریت کو درپیش خطرات پر قابو پالیاگیاہے اورجوبائیڈن کی صدارت کی توثیق ہوگئی ہے۔امریکہ میں جمہوریت کی جڑیں اتنی مضبوط ہیں کہ وہاں جب جب اِ س طرح کے بحران پیدا ہوئے وہاں کے عوام ، ذرائع ابلاغ اورآئینی اداروں نے اپنی متحدہ کوششوں سے اُس پر قابو پالیا۔ صدر نکسن کا زمانہ اگر یاد کیاجائے توانہیں بھی میڈیا کی وجہ سے منھ کی کھانی پڑی تھی یا اب موجودہ الیکشن کو لیں توٹرمپ نے جب جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تووہاں کے ٹی-وی چینلوں نے درمیان میں ہی پروگرام روک دیے اورجھوٹے بیانات کو دکھانے سے انکار کردیے۔ اِن واقعات سے ہمارے ملک کی میڈیا، عوام ،آئینی ادارے اورحکمراں بہت کچھ سبق حاصل کرسکتے ہیں ۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper