آرٹیکل

ویکسین کاپہلاتجربہ سیاستدانوںپر

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded  on  11-January-2021

ملک بھرمیں کوروناوائرس کی زدمیں لاکھوں کڑوںلوگ دنیاسے رخصت ہو گئے، کوروناوائرس کی جنگ سے ہارگئے ،کسی نے کبھی سوچابھی نہیں تھاکہ دنیامیں ایسی تباہی وبربادی کابھی سامناکرناپڑے گا،جس سے روزمرہ کی زندگی دوچارہوگی،دوست واحباب کے جھرمٹ میں اپنے پرائے لوگ بھی کوروناوائرس کی لپیٹ میں آجائیں گے،تاریخ کے صفحات میں درج ہوچکاہے کہ ۲۰۲۰ غم کاسال ثابت ہوا،کتنی مائوںنے اپنے بچوں کوکھویاہے ،کتنے بچے والدین کی سایہ سے محروم ہوگئے ،کتنی خواتین بیوہ ہوگئیں،دنیابھرمیں لاکھوں کی تعدادمیں لوگ اپنی جان گنواچکے ہیں نہ جانے کتنے لوگ اس مرض سے پریشان ہوکرخودکشی کرناہی اپنے لئے عافیت سمجھا،انگنت لوگ روزگارسے محروم ہیں، ان کے کھانے پینے پرلالی پڑنے لگے ،کمزرولوگ مزدورطبقہ دربدرکی ٹھوکرکھانے پرمجبورہیں، کہیں روزگارکے اسباب وذرائع کی امیدنہیںآگے اس ملک کی عوام کا اللہ ہی محافظ ہے۔

دنیابھرمیں ایک کوروناوائرس پرکنٹرول پایا نہیں ،مہلک وباختم ہوابھی نہیں،ملک ویکسین کی ہی تگ ودومیں تھا کہ کوروناوائرس کادوسراقسم نکل گیا ، اس دفعہ دوسرے کوروناکی پہچان یورپ سے کی گئی ہے ،اس پرتحقیق اورکنٹرول کرنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے ،دنیابھرمیں یورپ سے آنے جانے والے مسافروں پر خاص طورپردھیان رکھاجارہاہے ،یورپ کے اکثروبیشترمسافروں میں دوسرے کوروناکی شناخت کی گئی ہے، ان مسافروں کوکورنٹائن کیاجارہاہے، سفرکرنے سے پہلے اورسفرکرنے کے بعد ۷۲ گھنٹہ پرکوروناجانچ کرناضروری قرادیاگیا ہے ایک ہفتہ کورنٹائن کرنے کے بعد ہی اپنے گھرجانے دیاجارہاہے۔

ہندوستان میں بھی برڈ فلوکی آہٹ شروع ہوگئی ،دہلی ،گجرات کیرلا،مدھیہ پردیش ،ہریانہ اترپردیش سمیت سات صوبوں سے برڈ فلوکامعاملہ سامنے آیاہے ،ملک کی راجدھانی دہلی میں دودنوں میں پچاس سے زیادہ کوے مرنے کی خبر ہے ،نمونے کومدھیہ پردیش اورچنڈی گڑھ کے لیب میں جانچ کے لئے بھیج دیاگیاہے، ابھی رپورٹ آناباقی ہے، تاہم امید لگایاجارہاہے کہ برڈفلوکی وجہ سے کوے کی موت ہورہی ہے،وہیں مرکزی سرکارصوبوں کوہدایت جاری کرکے برڈفلوپردھیان مرکوزرکھنے کاصلاح ومشورہ بھی دیاہے، تاکہ بروقت برڈ فلوکوبڑھنے سے روکاجاسکے، پولٹری فارم کے ذمہ داروں کوچیکن اورانڈے کی سپلائی روکنے اورجانچ پڑتال کرنے کی بات کی ہے ،برڈفلوکی خوف ودہشت کی وجہ سے چیکن اورانڈے کے کھپت میں کمی آگئی ہے اورملک کے کئی جگہوں پرچیکن اورانڈے کے کھانے پرپابندی عائدکردی گئی ہے ،غازی پورچیکن بازار اورکانپورکے چڑیاگھرکوبندکردیاگیاہے اوراس پرسخت نگرانی رکھی جارہی ہے۔

نئے سال کی آمد پرہندوستان کے سائنسدانانوں کی روزوشب کی محنت کی وجہ سے دوویکسین تحفہ کے طورپر ملاہے اوردونوںکومرکزی سرکارسے منظوری مل چکی ہے ،بھارت ویکسین حیدرآباداورکوشیلڈویکسین پونے کاشامل ہے،کوروناویکسین کوآتے ہی ملک کی سیاست میں پھرسے اچھال آگیااوراسے بی جے پی کاکوروناویکسین قراردیاگیا،سماج وادی پارٹی کے مکھیااکھلیش یادوکوروویکسین لینے سے ہی انکارکردیا،وہیں دوسری طرف کانگریس پارٹی کے دوسنیئرلیڈر جے رام رمیش اورششی تھرورنے کہاہے کہ جلد بازی میں لیاگیافیصلہ ہے ،ابھی تیسرے مرحلے کاٹرائل چل ہی رہاہے کہ اسے منظوری دے دی گئی اوراپوزیشن پارٹیوں کومنہ کھولنے کاموقع مل گیا،آخرمرکزی سرکارکواتنی جلدبازی بھی کیاتھی کہ ایک ساتھ دودوویکسین کو لانچ کردیاگیا،کہیں ایساتونہیں کہ ملک میں لوگوںکی تعدادکوکم کرنے کے لئے یہ قدم اٹھایاگیاہو،چونکہ بی جے پی ،آرایس ایس کے نظریہ فکرسے ملک کی عوام واقف ہوچکی ہے،مرکزی سرکارکے کسی بھی فیصلے سے ملک کی عوام خوش نہیں ہے۔

کوروناویکسین تومنظرعام پرآگیاہے اوربہت جلدہی کوروناویکسین لگانے کاعمل شروع ہوگا لیکن سوال اٹھتاہے کہ سب سے پہلے کوروناوائرس کاویکسین کسے لگایاجائے گا،یہ بھی ملک کے مختلف چینلوں پرڈبیٹ اوربحث ومباحثہ کاموموضوع بناہواہے اورکوروناوائرس کے مریضوں کوویکسن کاشدت سے انتظارہے جوزندگی بچانے میں مفید ثابت ہوگا ،ملک کے مشہورطبی دانشوروں کے حساب سے سب سے پہلے تین کڑور طبی عملے اورصف اول کے اہلکاروں کولگایاجائے گا،اس کے بعد پچاس سال سے اوپروالے لوگوںاورپچاس سال سے کم مریضوں کودیاجائے گاجسے ٹیکہ لگاناضروری سمجھاجائے گااوراس کی شناخت آدھارکارڈ اورپہچان پترکے ذریعہ سے کیاجائے گااوران پرخاص نگرانی رکھاجائے گا،کیااچھاہوتاکہ کوروناوائرس کاپہلاتجربہ ملک کے سیاستدانوں پرکرناچاہئے ،اگروہ بچ گئے توویکسین اچھی ہوگی اگروہ نہ بچے توکم سے کم ملک بچ جائے گا،ملک کے لئے سب سے بڑاوائرس کی شکل میںسیاسی لوگ زہریلاکیڑاکے مانندہیں،پولرائزیشن کی سیاست کرنے والے سیاسی لوگوں کاملک سے خاتمہ ہو،اگروائرس ختم ہوجاتاتو ملک کی فضابھی صاف ستھراہوگااورملک کی عوام امن وسکون اورخوشحال فضامیں سانس لے سکے گی۔

 

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper