دنیا بھر سے

فائزر کی ویکسین عام فریزر میں بھی دو ہفتے تک کارا?مد رہ سکتی ہے

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir  Urdu  News  Network  |  New York  (America)   on  20-February-2021

نیویارک: کرونا کی ویکسین پر کام کرنے والی فارماسوٹیکل پارٹنر کمپنیوں فائزر اور بائیو این ٹیک نے جمعے کے روز بتایا ہے کہ کمپنیوں کی جانب سے کی جانے والی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ان کی کرونا وائرس کی ویکسین اگر عام فریزر میں رکھی جائے تو دو ہفتوں تک کارآمد رہ سکتی ہے۔فائرز کی ویب سائٹ پر دیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں کمپنیوں نے یہ نیا ڈیٹا ادویات پر کنٹرول کے امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کو جمع کروا دیا ہے کہ ان کی کرونا وائرس کی ویکسین منفی 15 سے منفی 25 درجہ حرارت میں رکھی جائے تو بھی کارآمد رہ سکتی ہے۔ یہ درجہ حرارت عموماً فارماسوٹیکل فریزر اور ریفریجریٹرز کے ہوتے ہیں۔یہ نئی معلومات اس حوالے سے اہم ہے کہ فائزر اور بائیو این ٹیک کی کرونا ویکسین کی ترسیل میں ایک رکاوٹ یہ تھی کہ یہ ویکسین انتہائی ٹھنڈے فریزر میں ہی کارآمد رہ سکتی تھی اور اسے مارکیٹ میں عام بکنے والے فریزر میں نہیں رکھا جا سکتا تھا۔ اس ضرورت کی وجہ سے فائزر کی ویکسین کی ترسیل کی لاگت کافی بڑھ جاتی ہے اور اسے کم ترقی یافتہ علاقوں تک پہنچانا ممکن نہیں ہوتا۔کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے ایف ڈی اے کو یہ معلومات جمع کروائی ہیں تاکہ اس ویکسین کی ترسیل کے طریقہ کار کو تبدیل کیا جا سکے۔ بائیو این ٹیک کے سی ای او اوگر شاہین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں کمپنیوں کی پہلی ترجیح یہ ہے کہ اس ویکسین کی محفوظ، موثر اور دنیا کے ضرورت مند ترین افراد تک رسائی ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اس نئی معلومات سے ادویات فروخت کرنے والے سٹورز اور ویکسین سینٹرز کو قدرے آسانی ہو گی۔اسرائیل میں ہونے والی ایک نئی تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ فائزر اور بائیو این ٹیک کی ویکسین پہلی خوراک کے بعد 85 فیصد موثر ہوتی ہے۔جمعرات کے روز برٹش میڈیکل جنرل دی لینسٹ میں چھپنے والی اس تحقیق میں 7 ہزار اسرئیلی طبی ورکرز نے حصہ لیا جنہیں شیبا میڈیکل سینٹر میں ویکسین دی گئی تھی۔ محققین کو پہلی خوراک کے دینے کے 15 سے 28 روز بعد کرونا وائرس کی علامات میں 85 فیصد کمی دیکھنے میں ملی۔اس کے علاوہ مجموعی طور پر بغیر علامات والے افراد کو ملا کر 75 فیصد میں بیماری میں کمی دیکھنے میں آئی۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper