رانچی

وزیر اعلیٰ لاہ کی کھیتی کو زراعت کا درجہ دینےکیلئے کوشاں

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

تاثیر نیوز نیٹورک 23فروری 2021
محمد شہباز احمد ، رانچی

رانچی: جھارکھنڈ کے دیہی علاقوں کی خواتین کسان لاہ اور لاہ کی کھیتی کے ذریعہ بہتر روزگار کی جانب گامزن ہیں ۔ لاہ کی کھیتی سے خواتین اپنے گاؤں میں رہ کر ہی اچھی آمدنی حاصل کر ریاست میں لاہ پیداوار کے اعداد وشمار میں مثبت تبدیلی لا رہی ہیں ۔ ریاستی سرکار نے دیہی خواتین کو لاہ کی سائنسی کھیتی سے جوڑ کر جدید ترین ٹریننگ کے ذریعہ آمدنی میں اضافے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کوشش سے ریاست کی 73 ہزار سے زیادہ دیہی خاندانوں کو لاہ کی سائنسی کھیتی سے جوڑا گیا ہے۔ جن میں زیادہ تر بہت غریب اور دوردراز علاقوں میں رہنے والے دیہی خاندان ہیں۔ سال 2020 میں تقریبا” دو ہزار میٹرک ٹن لاہ کی پیداوار دیہی خواتین کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ لاہ کی کھیتی کو زراعت کا درجہ دینے میں جڑے ہیں ۔ جس سے ریاست کی دیہی خواتین کو جنگلی پیداوار پر مبنی روزگار سے جوڑ کر آمدنی میں اضافہ کا کام ہو سکے۔وزیر اعلیٰ کا ماننا ہے کہ بھارت خودکفیل ملک تب ہی بنے گا ، جب دیہی علاقوں کی استحکام کاری ہوگی۔ کل تک جن خواتین کی زندگی گھر کی چہاردیواری میں گزرتی تھی او خود کی پہچان بنانے سے وہ محروم تھیں ۔ ریاستی سرکار ان خواتین کو روایتی پیشے میں ہی مقامی روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرا رہی ہے۔ اس سے خواتین کی جنگلی اشیاء کی صنعت کار کے طور پر پہچان بن رہی ہے۔ مغربی سنگھ بھوم کے گوئل کیرا بلاک کے روم کوٹ گاؤں کی رنجیتا دیوی ان خواتین میں سے ایک ہیں جو لاہ کی کھیتی سے سالانہ تین لاکھ روپئے تک کی آمدنی حاصل کر رہی ہیں ۔ رنجیتا کہتی ہیں کہ دور دراز علاقہ ہونے کی وجہ سے انکا روزگار خصوصی طور پر جنگل اور جنگلی پیداوار پر منحصر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جے ایس پی ایس سے لاہ کی جدید کھیتی سے متعلق ٹریننگ حاصل کیا۔ سرکار نے لاہ کا بیج بھی دستیاب کرایا ۔ اس سے انہیں اچھی خاصی آمدنی ہورہی ہے۔ گزشتہ سال رنجیاتا نے 300 کیلو بیہن لاہ بیج کی شکل میں لگایا ، جس سے انہیں 15 کوئنٹل لاہ کی اپج حاصل ہوئ اور اس سے انہیں تین لاکھ روپئے کی آمدنی ہوئی۔
ٹریننگ کے ساتھ بازار کی دستیابی
خواتین کسان استحکام کاری منصوبہ کے تحت خواتین کسانوں کو لاہ کی پیداوار، تکنیکی جانکاری، ٹریننگ اور فروختگی کے لیے بازار دستیاب کرایا جارہا ہے۔ خواتین کسان پیداواری گروپس کے ذریعہ لاہ کی اجتماعی کھیتی اور فروختگی کر رہی ہیں ۔ کسانوں کو مناسب بازار دستیاب کرانے کے لیے ریاست گیر پیمانے پر 460 کلیکشن سنٹر اور 25 دیہی ہیلپ سنٹر کام کر رہا ہے۔ ریاستی حکومت لاہ کی کھیتی کو زراعت کا درجہ دے گی۔ اس کا کم سے کم حمائتی قیمت بھی طے کرے گی۔ کسانوں کو خودکفیل بنانا سرکار کا عزم ہے۔ اس بابت کئی منصوبے چلائے جارہے ہیں ۔ جس کے ذریعہ کسانوں کو گرانٹ، قرض اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کرائ جارہی ہیں ۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper