راجستھان

آئی ایم سے وابستہ 12 دہشت گردوں کو عمر قید کی سزا ، ایک بری

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

(ہ س)۔ سیشن کورٹ اول نے جے پور سمیت دیگر مقامات پر دہشت گردانہ حملے کرنے کی سازش کے الزام میں دہشت گرد تنظیم انڈین مجاہدین کے 12 دہشت گردوں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے تمام ملزمان پر مجموعی طور پر 91 لاکھ 25 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے اس معاملے میں عدالتی تحویل میں رہنے والے مشراف اقبال کو بے قصور قرار دیا ہے۔استغاثہ کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ 2013 میں انڈین مجاہدین کے ذریعہ سلیپر سیل بناکر ریاست کے بڑے شہروں اور سیاحتی مقامات پر دہشت گردی کے واقعات کو انجام دینے کی پختہ اطلاع ملی تھی۔ راجستھان اے ٹی ایس کے ذریعہ معلومات کی تصدیق کے بعد ، جے پور کے موتی ڈونگری گنیش مندر ، برلا مندر ، ورلڈ ٹریڈ پارک اور بھر ت پور کے گنگا مندر اور لکشمن مندر کے ساتھ مرکزی بازار میں بم دھماکوں کے حقائق سامنے آئے۔دہلی سے گرفتارہوئے دہشت گردوں سے ملے ان پٹ کے بعد ، راجستھان اے ٹی ایس اور ایس او جی نے جے پور ، جودھ پور اور سیکر سمیت دیگر مقامات سے ایک درجن سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ ان کے قبضے سے بم بنانے کا سامان بھی برآمد ہوا۔معاملے کو لے کر 28 مارچ ، 2014 کو اے ٹی ایس نے ایف آئی آر درج کر 17 ستمبر 2014 کو 13 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی۔محمد عمار یاسر ، محمد سجاد ، محمد عاقب ، محمد عمر ، عبدالوحید غوری ، محمد وقار ، عبد الماجد ، محمد معروف ، وقار اظہر ، برکت علی ، محمد ثاقب انصاری ، اشرف علی خان کو سزا سنائی گئی ہے۔اس کیس سے متعلق سرکاری وکیل لیاقت خان نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے کیس کا ازالہ کرنے سے متعلق ہدایات جاری کی تھیں۔ اس مقدمے کو جلد از جلد نمٹانے کے لئے ملزم کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی جس میں سپریم کورٹ نے 26 مئی کو اس کیس کو جلد از جلد نمٹانے کے لئے کہا تھا۔اس کی وجہ سے اس کیس کی باقاعدہ سماعت گذشتہ ڈھائی ماہ سے جاری تھی۔ اس دوران ، استغاثہ کے ذریعہ کل 178 گواہ اور پانچ سو سے زیادہ دستاویزات عدالت میں پیش کئے گئے۔اس مقدمے کے دیگر 6 دیگرملزمان محمد معراج الدین ، تحسین اختر ، محمد عطا ، ضیاءالرحمن ، اقبال بھٹکل اور ریاض بھٹکل شامل ہیں۔ اس میں سے ضیاءالزحمن دہلی کی تہاڑ جیل ، اقبال اور ریاض بھٹکل پاکستان میں ہیں ، جبکہ باقی تین مفرور ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper