ملک بھر سے

مرحوم عائشہ کی خودکشی ایک دردناک واقعہ:انیس احمد رحمانی

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir  Urdu  News  Network  |  Saharanpur  (Uttar Pradesh)   on  02-March-2021

سہارنپور:  انیس احمد رحمانی خادم جامعہ ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ بدنا پور نے قوم کی بیٹی عائشہ کے دردناک خد کشی کے غمناک موقع پر کہاکہ عائشہ کی خودکشی سے آپ اور ہم کیا سمجھ رہے ہیںکیا نصیحت لے رہے ہیںعائشہ کی رحلت اس انسان کے لئے تو معمولی ہے جس نے کبھی کسی اولاد کو جنم نہ دیا ہو اور جنم دیا بھی ہو تو اسے اپنی جان سے زیادہ عزیز نہ رکھا ہو۔لیکن جس نے کسی اولاد کو جنم دیا اور اس کو پوری زندگی اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھا اور جب وہ پروان چڑھ چکے تب وہ داغ مفارقت دے جائے تو پتہ نہیں ایک زندہ انسان کا دل کیسے اس کو برداشت کر سکتا ہے۔عائشہ کے ماں نے بھی اسے نو ماہ اپنے پیٹ میں رکھا جنم دیا پتہ نہیں اسے پروان چڑھانے میں اس کے باپ نے کتنے در کے دھکے کھائے ہونگے اسکی راحت و سکون کے لئے ا کی ماں کتنی رات جاگی ہونگی کن تکالیف کا سامنا کیا ہوگا وہ ایک باپ اور ماں کے سامنے موجود ہیں۔ایک باپ کو اپنی بیٹی کا چہرہ دیکھ کر اسی وقت فکر سوار ہوجاتی ہے جب وہ چھوٹی سی منی ہوتی ہے کہ پتہ نہیں میری بیٹی کس گھرانے میں جائے گی۔اور اسے وہاں خوشی ملے گی یا نہیں۔ٹھیک اسی طرح عائشہ کے ماں باپ نے اسی فکر کے ساتھ اپنی پیاری سی بیٹی کو ایک مسلم نوجوان کے ہاتھوں میں دے دیا کیا معلوم تھا یہی بیٹا اس کا قاتل بنے گا۔کیا معلوم تھا یہی بیٹا اس کی موت کی وجہ بنے گا۔مال کی لالچ میں اتنے قیمتی انسان کو بھی مار دیا جاتا ہے۔عائشہ کی ویڈیو کا ایک ایک لفظ اس کی شدید تکالیف کی عکاسی کر رہا ہے’

لمحہء فکریہ ۔۔سب سے پہلے تو میں اس کے ماں باپ کو کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری بیٹی جب ہم کسی جگہ بیاہ دیتے ہیں تو وقتا فوقتا اس کی اندرونی حالات کا ہمیں جائزہ لیتے رہنا چاہئے اس لئے کہ بیٹی ڈر کے مارے اپنی تکالیف بیان نہیں کرتی ہیں اور وہ اپنی زندگی کی ایک ایک تکلیف کو برداشت کرتی رہتی ہے اور پھر اچانک کوئی سنگین قدم اٹھا لیتی ہیںپتہ نہیں کتنی عائشہ دنیا میں شوہر کے ظلم کو سہہ رہی ہوگی ! انیس احمد رحمانی خادم جامعہ ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ بدنا پور نے کہاکہ ایسے ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جن کو سن کو کلیجہ منہ کو آتا ہے بہت سے شوہر تو اپنی بیوی کی جسم فروشی بھی کرتے ہیں۔اور بہت سے شوہر تو جانور سمجھ کر اس کی ایسی پٹائی کرتے ہیں کہ کوئی جانور بھی اسے برداشت نہ کر سکے۔اس لئے ہمیں اپنی اولاد کی فکر کرتے رہنا چاہئے۔دوسری بات بیٹیوں کے لئے ہیں دنیا میں کتنی بھی تکلیف آجائے ہمیں کبھی ڈرنا نہیں چاہئے۔کبھی اپنے آپ کو کمزور محسوس نہیں کرنا چاہئے اگر آپ پر کوئی ظلم کر رہا ہے تو آپ کو خدا کا در کھٹکھٹانا ہے اور اس ظلم کو دور کرنے کے اسباب اختیار کرنا ہے۔اپنے ماں باپ کو اس کی اطلاع کرنی ہے اور اگر پھر بھی کوئی حل نہ نکلیں تو مسلم تنظیموں کا رابطہ کرنا چاہئے دار القضاء کا رابطہ کرنا چاہئے کبھی اپنے آپ کو کمزور سمجھ کر جان ہلاکت میں نہیں ڈالنا ہے۔بلکہ تکلیف کا مقابلہ کرنا ہے اگر ہم نے خودکشی کر لی تو ہم ہار گئے ہم نے اپنے والدین کو بھی تکلیف میں مبتلاء کیا اپنے بھائی بہنوں کی زندگی بھی تکلیف میں ڈال دی۔اور خدا کو بھی ناراض کر دیااس لئے کبھی بھی خودکشی کا قدم نہیں اٹھایا جائے اس لئے کہ حدیث میں بہت وعیدیں آئی ہیں خدا سخت ناراض ہوتا ہے۔تیسری بات ہر اس شوہر سے جو ظالم بن کر اپنی بیویوں پر ہاتھ اٹھاتے ہیں جہیز کا مطالبہ کرکے ان پر ظلم کرتے ہیں۔کل تمہاری بیٹی بھی کسی گھر میں جائیں گی کل تمہیں بھی حالات کا مقابلہ کرنا پڑے گا اگر دنیا میں چھوٹ بھی گئے خدا کو کیا منہ دکھاونگے۔کیا خدا کے عذاب چھوٹ پائیں گے۔ایک ایک ظلم کا بدلہ دینا ہوگا۔جہنم کی آگ میں جلنا پڑے گا۔اور ظلم کی سزا دنیا میں بھی بھگتنی پڑے گی اس لئے اپنی بیویوں پر ظلم کرنا بند کریں۔اللہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔خدا کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں ہے!

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper