چنڈی گڑھ

امریندر نے مرکز کی ریاستوں پر حاو ی ہونے اور یکطرفہ فیصلے تھوپنے کی مذمت کی

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

چندی گڑھ، 5اپریل،پنجاب کے وزیراعلی کیپٹن امریندر سنگھ نے ریاستوں پر حاوی ہونے کی کوشش اور ان کے حق چھیننے کی کوشش کرنے نیز جبراً زرعی قوانین نافذ کرنے اور راست ادائیگی جیسے یکطرفہ فیصلے تھوپنے کے لئے بھی مرکز کی مذمت کی۔انہوں نے آج یہاں کہاکہ ریاستوں کو پہلے کبھی ایسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور حکومت ہند صدیوں سے چلے آرہے نظام کو نام نہاد اصلاحات کے نام پر ختم کرنا چاہتی ہے۔ کسانوں اور آڑتیوں کا تعلق بہت پرانا ہے جن کو مرکزی حکومت کرنا چاہتی ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے اختیار کئے جارہے سخت موقف اور غیرمنطقی فیصلوں کو وفاقیت کی بنیادی روح کے خلاف قرار دیا۔ ان سے پہلے کے دور میں پنجاب سے متعلق کسی بھی پالیسی ساز فیصلے /ترقی سے امتعلق امور پر ان کو سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کا مکمل اعتماد اور حمایت حاصل تھی۔پنجاب ایگریکلچر یونیورسٹی، لدھیانہ کے دو روزہ کسان میلے کا ورچول افتتاح کرتے ہوئے وزیراعلی نے سیاہ زرعی قوانین پر کسانوں کی مکمل حمایت کی جو قانون مرکزی حکومت کی طرف سے آئین کے ساتویں شیڈول کی خلاف ورزی کرتے ہیں جس کے مطابق زراعت ریاستوں کا موضوع ہے۔ مرکز نے جان بوجھ کر ریاست کے حقوق چھیننے کی کوشش کرتے ہوئے جمہوریت کے بنیادی ڈھانچہ کو خطرے میں ڈالا ہے۔کیپٹن سنگھ نے کہاکہ مرکزی حکومت کو ان متنازعہ قوانین کو عملی جامہ پہنانے سے پہلے کسانوں کو اعتماد میں لینا چاہئے تھا۔ اگر مرکزی حکومت اس مسئلہ کا حل تلاش کرنے کے لئے ایماندار ہوتی تو وہ پنجاب حکومت یا کسانوں سے بات چیت کرتی کیونکہ پنجاب تنہا ہی قومی اناج ذخائر میں چالیس فیصدسے زیادہ کا تعاون کرتا ہے۔وزیراعلی نے واضح طورپر کہا کہ پنجاب کو اعلی سطحی کمیٹی کا حصہ اس وقت بنایا گیا جب انہوں نے مرکز کو خط لکھا۔ نتیجہ کے طورپر وزیر خزانہ منپریت سنگھ بادل اور اس وقت کے سکریٹری (زراعت) کے ایس پنو نے اس کے بعد ہوئی دو میٹنگوں میں حصہ لیا لیکن ان میں متنازعہ زرعی قوانین کا کوئی بھی ذکر نہیں ہوا۔وزیراعلی نے سطحی پانی کی سطح اور زمینی پانی کی کم ہوتی سطح کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کسانوں کو ڈرپ سینچائی نظام اختیار کرنے کے لئے کہا تاکہ ریاست کو مستقبل میں صحرا بننے سے بچایا جاسکے۔کم ہوتی پانی کی سطح نے ریاست کے سامنے بڑا چیلنج کھڑا کردیا ہے جس کا واحد حل دھان اور گیہوں کے فصل چکر سے نکلنا ہے۔زرعی تحقیق اور نئے طریقوں کی شروعات کے لئے پنجاب ایگریکلچر یونیورسٹی کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کیپٹن سنگھ نے کہاکہ اس یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر جیسے کہ ڈاکٹر کھیم سنگھ گل، ڈاکٹر کرپال سنگھ اولکھ، ڈاکٹر گلزار سنگھ کالکٹ کو تمام لوگ ہمیشہ یاد کرتے ہیں جو ہندستان کو اناج کی پیداوار میں خوانحصار بنانے کے لئے سبز انقلاب لائے اور پی ایل۔480مانگنے سے ہونے والی توہین سے بچایا۔بجلی کی پیداوار کے لئے دھان کے نظام کے استعمال کے لئے ایک قابل عمل ٹکنالوجی تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ریاست میں ایندھن کے استعمال کے لئے اینٹوں کی تیاری اور دھان کی پرالی سے بجلی پیدا کرنے کے لئے چھوٹے یونٹ قائم کرنے سے اس کی شروعات ہوگئی ہے لیکن ابھی مزید کام کرنا باقی ہے۔کووڈ کی دوسری لہر کے تئیں لوگوں کو بیدا کرتے ہوئے وزیراعلی نے کہاکہ لاپرواہ ہونے کی ضرورت نہیں اور کووڈ پروٹوکول کے مطابق ماسک پہنیں، مسلسل ہاتھ دھوئیں اور سماجی دوری قائم رکھنے سمیت تمام احتیاط برتنی چاہئے۔ ریاست میں کل ملاکر 2200 معاملات سامنے آئے ہیں اور 67اموات ہوئی ہیں۔ وہ ممبئی جیسی حالت نہیں بننے دیں گے جہاں روزمرہ 34000معاملات آتے ہیں۔اس موقع پر دیگر کے علاوہ ایڈیشنل چیف سکریٹری وکاس انیرودھ تیواری، پنجاب ایگریکلچر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر بلدیو سنگھ ڈھلوں اور گرو انگد دیو ویٹرنری اور اینیمل سائنسز یونیورسٹی لدھیانہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر اندرجیت سنگھ بھی موجود تھے۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper