جموں اور کشمیر

خواتین پر جنسی اور گھریلو تشدد کے واقعات میں حیران کن اضافہ ۔۔۔ذمہ دار کون؟

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

جاویداحمد ۔۔سرینگر
خواتین پر جنسی اور گھریلو تشدد کے واقعات ،میںحیران کن اضافے نے عوامی سطح پر شدید بے چینی اور اضطرابی کیفیت میں مبتلا کردیا ہے آج معاشرے میں جدھر بھی نظر ڈالیں خواتین پر گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور یہ مسائل دیمک کی طرح ہماری معاشرتی اور معاشی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ خواتین پر تشدد کے مسئلے کو ہی لے لیجیے جو خاموشی کے پردوں کو چاک کرنے میں ابھی تک ناکام ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ ہماری خواتین کی بڑی تعداد تشدد جیسے انسانیت سوز طرز عمل اور رویوں کا شکار ہیں۔نہ ہی محراب اور منبر سے اس مسئلے پر بات کی جاتی ہے اور نہ میڈیا کو سیاسی موضوعات اور کوریج سے فرصت ملتی ۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان حصول اقتدار کی جنگ جاری ہے انھیں عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں خواتین پر ہونے والا کسی بھی قسم کا تشدد ان کی جسمانی، نفسیاتی اور ذہنی صحت کو ناصرف متاثرکرتا ہے۔بلکہ عوامی زندگی میں حصہ لینے کے لئے ان کی صلاحیت کو ختم کردیتاہے۔اور اس تشدد کے اثرات آنے والی نسل تک منتقل ہوتے ہیں۔ خصوصاً بچوں کی نفسیات، تر بیت اور نشوونما پر خواتین کے تشدد کا بہت منفی اثر پڑتا ہے۔خواتین پر تشدد خاندانوں اور کمیونٹیز کو نسل در نسل نقصان پہنچاتا ہے اور معاشرہ میں پائے جانے والے دیگر تشدد کی تقویت کا باعث بنتا ہے۔خاندانوں پر خواتین اور لڑکیوں پر تشدد جہاں براہ راست اخراجات کا بوجھ کاباعث بنتا ہے وہیں تشدد کا شکار خاتون معاشرے میں اپنی حیثیت کھودیتی ہے اور ا±ن کے کام کا معیار اور مقدار اس سے متاثر ہوتے ہیں آمدن میں مسلسل کمی سے مزید مالی دباوپڑتا ہے جو فرد ، خاندان اور معاشرتی بہبود پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جموں و کشمیر کے تمام اضلاع سے خواتین پر تشدد کے منظر عام پر آنے والے واقعات میں تیزی آرہی ہے اَن گنت کیسز سامنے ہی نہیں آتے اور گھروں کی چاردیواری کے اندر ہی دبا دیئے جاتے ہیں۔ چاہے وہ خواتین پر جسمانی تشدد ہو،نفسیاتی یا پھر معاشی۔خواتین خود بھی اس کے بارے میں کم ہی زبان کھولتی ہیں۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ملک بھر میں خواتین کے تحفظ کے لئے متعدد قوانین بنائے گئے ہیں ۔ لیکن اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ تحفظ کے متعدد ترقی پسند قوانین کی موجودگی کے باوجود وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خواتین پر تشدد کے کیسز میں اضافہ ہوتا جارہا ہے عورت جو ایک خوبصور ت معاشرہ تعمیر کرنے میں ایک اہم رول ادا کرتی ہے ایک مہکتا ہوا چمن بنانے میں اسی عورت کا کردار ہوتا ہے ماں کی صورت میں بہن کی صورت میں بیٹی کی صورت میں عورت ایک پیار بھری دنیا بنا تی ہے طویل وقت تک ایک گھر سے نکل کر دوسرے گھر میں بہو کی صورت میں جاتی ہے جہاں اسے ایک نیا ماحول اور ایک نئی دنیا سے روبرو ہونا پڑتا ہے اس نئے ماحول میں اسے رنگنے کے لئے تھوڑا وقت لگتا ہے ۔اور آخر پر اس کا گھر سسرا ل ہی ہوتا ہے لیکن ستم ظریفی یہ کہ کئی گھروں میں معمولی نوک جھونک طلاق پر ختم ہوتی ہے اس پر طرہ یہ کہ اگر کسی عورت کا کئی سال تک بچہ نہیں ہوتا تو سسرال کی جانب سے اسے تنگ طلب کیا جاتا ہے حالانکہ اولاد کی نعمت ایک ایسا معمہ ہے جو صرف اللہ کے دست قدرت میں ہے لیکن یہاں پر مذہب کے بلند بانگ دعوے کرنے والے افراد بہک کر اپنی اس بہو کو ذمہ دار ٹھہراتی ہیں نتیجے میں طعنو ں کے نشتر اس عورت کے وجود کے ساتھ ساتھ اسکے ذہن کو بھی چھلنی کردیتے ہیں اور ایک دن صبر کا پیمانہ ٹوٹ جاتا ہے اور اس بہو کی لاش مل جاتی ہے اس معاملے میں ذمہ دار کس کو ٹھہرایا جاتا ہے آج تک اس معاملے کی تحقیقات تشنہ حل رہ جاتی ہے دوسرا پہلو ان واقعات کا یہ دیکھنے کو ملا کہ شادی بیاہ کے اوقات میں جہیز کا مطالبہ تو نہیں کیا جاتا لیکن شادی کے کئی سال گزرنے کے بعد یہ معاملہ بھڑک اٹھتا ہے اور جہیز کے طعنوں سے ایک بہو کو شکار ہونا پڑتا ہے ۔اس پر طرہ یہ کہ آج تکہ کسی نہ اس معاملے پر آواز نہیں اٹھا ئی یہاں موجود سینکڑوں غیر سرکاری تنظیمیں فلاح و بہبود اور دیگر کاموں کا ڈیزائین پیش کرکے کروڑوں روپے اینٹھ لیتے ہیں لیکن خواتین پر جنسی تشدد کے بڑھتے واقعات کے خلاف دو الفاظ بھی سامنے نہیں آتے۔اور محراب و منبر سے بھی علماءحضرات اس حوالے سے تقاریر کرنے سے قاصر نظر آرہے ہیں کیونکہ انکے مذہبی اختلافات اور الفاظی جنگ سے انہیں فرصت نہیں مل رہی ہے جبکہ ان کا کردار بھی یہ بنتا تھا کہ وہ اختلافات کو یک طرف رکھ کر اس عورت کے بارے میں دو الفاظ بولیں جس نے انہیں جنم دیا ہے انتظامیہ اور پولیس ملزمان کے خلاف کاروائی کرتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ پولیس اور کورٹ کچہری کے ڈر سے کوئی اس قبیح قدم کو اٹھانے سے روکے لیکن مذہبی اعتبار سے عورت کی عزت نفس بحال رکھنے کے لئے علماءدین پر ایک بڑی ذمہ داری بنتی ہے جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں سال رواں کے دوران خواتین پر تشدد کے قریب چار واقعات رونما ہوئے حال ہی میں اننت ناگ کے مومن آباد علاقے میں ایک شادی شدہ خاتون کی لٹکتی لاش پائی گئی جس کے بعد میکے سے آئے ہوئے مشتعل افراد نے اسکے سسرال کا گھر جلادیا جس گھر میں اس کی شادی ہوئی تھی وہ امیرانہ ماحول میں رہتا تھا ۔زندگی کے تمام آرام و آسائش کے سامان میسر تھے لیکن اس شادی شدہ خاتون نے کس بنا پر پھانسی لگا لی اس کی تحقیقات ہورہی ہے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس عورت نے ایک غلط قدم اٹھا یا لیکن ان محرکات کو بھی جاننا ضروری ہے جن کے باعث اس نے یہ قدم اٹھایا اسی طرح جنوبی کشمیر کے مٹن علاقے سے سوشل میڈیا کے ذریعے ایک ادھ جلی عورت کی گفتگو بھی وائرل ہوئی جس میں اسے یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ اسے سسرال کے چند افراد نے مٹی کا تیل چھڑک کر جلا دیا ۔مذکورہ عورت کئی دن تک موت وحیات کی کشمکش میںمبتلا رہ کر آخر پر زندگی کی جنگ ہار گئی اس واقعے میں پولیس نے اسکے سسرال والوں کو مورد الزام ٹھہراکر گرفتار بھی کرلیا ۔اسکے جنازے پر اسکے بھائی نے بتایا کہ کئی سال پہلے اسی شادی ہوئی پہلے پہل سب ٹھیک چل رہا تھا لیکن بعد میں جہیز کو لیکر نوک جھونک نے جھگڑے کی صور ت اختیار کرلی اس کے بھائی کا مزید کہنا تھا کہ وہ اپنے شوہر سے بے پناہ محبت کرتی تھی اور میکے میں رہ کر چوری چھپے اپنے شوہر سے فون پر بات کرتی تھی لیکن اسکے شوہر نے بیوی کی محبت کو نہیں سمجھا ۔یہ صرف ایک واقعہ نہیں ہے بلکہ متعدد واقعات ایسے جو سامنے نہیں آتے لیکن اس صورت حال میں معاشرے کے تمام طبقوں پر انفرادی اور اجتماعی طور پر یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ خواتین پر بڑھتے تشدد کے واقعات کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper