ملک بھر سے

*دنیا کو انسانیت سمجھانے والے پیارے نبیﷺ کیخلاف غلط بیانی سے ملک کو ہورہا نقصان: نظرعالم*

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Darbhanga (Patna)  on 13-April-2021

:،13؍اپریل ( پریس ریلیز)۔عام طور پر پُرسکون رہنے والا دربھنگہ شہر آج سر پہ ٹوپی، چہرے پر ماسک اور زبان پر ”یا رسول اللہ“ کا نعرہ لگانے والے دیوانوں سے پٹ گیا۔ معاملہ آقائے دو جہاں حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخی کا تھا اوراس کی قیادت آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے صدرکارواں نظرعالم کررہے تھے۔ 12 بجے دن میں کڑاکے کی دھوپ بھی عاشق رسول کے زوردار نعروں اور بلند حوصلوں کے آگے پگھل رہا تھا۔ مسلمانوں کے سیکڑوں مقدموں کے باوجود ابھی تک پاپی نرسنہانند کی گرفتاری نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں میں بے چینی ہے جو آج سڑکوں پر احتجاجی جلوس کے طور پرنظرآیا۔ایک طرف تومعاملہ پاپی نرسنہانند کی گستاخی کا تھا اوپر سے رمضان کے مہینے میں مسجدوں میں تالابندی سے مسلم نوجوانوں کا غصہ ساتویں آسمان پر ہے۔ بیداری کارواں کے صدرنظرعالم نے اس احتجاجی مارچ کی پرامن اور کامیاب ترین نمائندگی کی۔ انہوں نے میڈیال سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہم مسلمانوں کی زندگی پیارے نبی ﷺ کے احسانوں تلے دبی ہوئی ہے، ہمیں پوری دنیا میں جو کچھ بھی حاصل ہوا ہے سب انہیں کے صدقے میں ہے۔ ایسے میں اگر کوئی بھی کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو اگر آقا(ع) کے خلاف غلط اور گندی الفاظ کا جان بوجھ کر استعمال کرے گا تو ہم غیور مسلمان یہ کبھی برداشت نہیں کریں گے، اس لئے ہم آج سڑکوں پر آئے ہیں تاکہ ان پاپی اور انہیں سرپرستی دینے والے غنڈوں کو یہ پتہ چل جائے کہ آخر انہوں نے بہت بڑی غلطی کی ہے جس کی سزا انہیں ہم دلواکر ہی رہیں گے۔ ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ حکومتیں اس طرح کے پاپیوں کو جان بوجھ کر سرپرستی دے رہی ہے تاکہ وہ معصوم مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرتے رہیں اور جب مسلمان احتجاج کرے تو وہ بیچارے مسلمانوں پر ظلم کریں ساتھ ہی کورونا کا بہانہ یا امن و امان کا بہانہ بناکر ان پر کارروائی کریں۔ مسٹرنظرعالم نے حکومتوں کو دھمکاتے ہوئے کہا کہ حکومتیں تھک جائیں گی مگر ایسے پاپیوں کے خلاف اُٹھنے والے سر کبھی کم نہ ہوں گے، نہ ان پاپیوں کے خلاف اُٹھنے والی آوازیں دبا سکیں گے۔میں تمام مسلمانوں کی طرف سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یقینا یہ ہمارا ملک ہے ہم اس کے ذمہ دار شہری ہیں مگر پیارے نبی ﷺ کی عزت سے کھلواڑ کے بدلے ہمیں کوئی امن و امان، کوئی سمجھوتہ منظور نہیں ہے۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ ملک میں امن وامان ہو اور آپسی بھائی چارہ بنارہے مگر یہ تو وہ لوگ جواب دیں جو اس طرح کی گھناؤنی حرکتیں کرتے ہیں یا وہ جو ان پاپیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ بغیرچنگاری کوئی آگ نہیں لگتی، ایسے ناپاک لوگوں کو فوری گرفتارکرکے سخت سزا دی جائے۔ تبھی ہمارے دلوں کو سکون ملے گا، تبھی ہم بھی حکومت کو اپنا تعاون دے پائیں گے نہیں تو ہم بھی جھکنے والے نہیں ہیں۔ ساتھ ہی نظرعالم نے یہ بھی کہا کہ ایسے وقت میں جب ہرچناوی ریاستوں میں لاکھوں کی بھیڑ والی ریلیاں اور جلسے ہورہے ہوں، ملک کا وزیراعظم اور وزیرداخلہ سارے دستور قانون کی کھل عام دھجیاں اُڑا رہا ہو تو بھلا عام آدمیوں کو عبادت کرنے سے روکنے کا ہٹلرفرمان عوام کیوں مانیں۔ ہم نتیش حکومت کے اس فیصلے کی کھلی مخالفت کرتے ہیں اور اس فیصلے پر دوبارہ نظرثانی کرختم کرنے کی مانگ کرتے ہیں۔ یاد رہے مذہبی عقیدہ ملک کے لوگوں کو طاقت بخشتی ہے، عبادت سے لوگوں کو ہمت اورسکون ملتا ہے مگرنہ جانیں کیوں حکومت کو صرف عبادت گاہوں میں ہی کورونا دکھائی پڑتا ہے۔ آل انڈیا مسلم بیداری کارواں نے اپنے دونوں مطالبوں کا میمورینڈم دربھنگہ ضلع کلکٹریٹ کے ذریعہ سے ملک کے صدرجمہوریہ، وزیراعظم، وزیرداخلہ اور ریاست بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار تک پہنچانے کا کام کیا ہے۔ احتجاجی جلوس میں مولانا سمیع اللہ ندوی، مولانا اسعد رشید ندوی، مولانا عمادالدین، قاری سعید ظفر، مطیع الرحمن موتی، ہیرا نظامی، ذیشان اختر قاسمی، احمدبشر، محمدحسین، راجا خان، قدوس ساگر، محمد نورعین، محمدچاند، حافظ زیارت اللہ، محمدعلقم، محمدعثمان، عبداللہ، محمدآفتاب، احسان الحق آرزو، آس محمد سمیت ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper