ریاست

شراب کی دکانات کوویڈ 19وبا کے پھیلنے کا ذریعہ بن گئیں:تلنگانہ ہائی کورٹ

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Telangana (Hyderabad)  on 08-April-2021

حیدرآباد:۔8اپریل،تلنگانہ ہائی کورٹ نے آج ریمارک کیا ہے کہ شراب کی دکانات کوویڈ 19وبا کے پھیلنے کا ذریعہ بن گئی ہیں۔عدالت نے ریاست میں کورونا کی صورتحال پر کیس کی سماعت کی۔اس موقع پر ریاست کے پولیس سربراہ نے کورونا کے رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری کے سلسلہ میں عدالت میں تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ڈی جی پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ کوویڈ کے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف 22ہزار معاملات درج کئے گئے ہیں۔2416معاملات ایسے افراد کے خلاف درج کئے گئے ہیں جنہوں نے سماجی دوری کے اصول پر عمل نہیں کیا۔سڑکوں پر تھوکنے والے افراد کے خلاف 6معاملات درج کئے گئے ہیں۔اس مرحلہ پر عدالت نے ریمارک کیا کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف محدود کارروائی کی گئی۔عدالت نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ آیا 1.16لاکھ افراد پر جرمانہ عائد کیاگیا؟عدالت نے اس مرحلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ریمارک کیا کہ پرانا شہر حیدرآبادمیں ہی دو دن جانچ کی گئی تو ایک لاکھ افراد قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے جائیں گے۔اس موقع پر عدالت نے ایک مرتبہ پھر کم آرٹی پی سی آرمعائنوں کے سلسلہ میں حکومت پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہاکہ مرکزی حکومت کے رہنمایانہ خطوط کے مطابق آرٹی پی سی آر کے معائنوں کی تعداد 70فیصد ہونی چاہئے۔عدالت نے اس سماعت کے دوران شراب کی دکانات،پبس اور تھیٹرس میں عوام کے ہجوم پر تشویش کا اظہارکیااور ریمارک کیا کہ شراب کی دکانات کورونا وائرس کا ذریعہ بن گئی ہیں۔ساتھ ہی عدالت نے مشورہ دیا کہ دوسری ریاستوں سے تلنگانہ آنے والے افراد کے کورونا معائنے کروائے جائیں۔عدالت نے ماہرین کی کمیٹی کی تشکیل کی بھی ہدایت دی۔سرکاری وکیل نے کہا کہ سیرو سروے لینس کا کام اندرون 6ہفتے مکمل کرلیاجائے گا جس پر بنچ نے کہاکہ سیرو سروے لنس کے عمل کے اختتام کے بعد عدالت میں اس کی رپورٹ پیش کی جائے۔عدالت نے کہاکہ لاک ڈاون نہ ہونے کی صورت میں کنٹینمنٹ زونس پر سختی سے عمل کیاجائے۔عدالت نے سرکاری اور پرائیویٹ دفاتر میں کوویڈ کی ٹیکہ اندازی کے انتظامات کی تفصیلات پر بھی سوال کیا۔اس پر اس ماہ کی 14تاریخ کو رپورٹ پیش کرنے کی بنچ نے ہدایت دی اور اس معاملہ کی آئندہ سماعت 19اپریل تک ملتوی کردی۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper