فن فنکار

ہاروی وائنسٹن نے قید کی سزا کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کردی

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Los Angeles (America)  on 07-April-2021

لاس اینجلس:لاس اینجلس،۷؍اپریل،’ریپ‘ کا جرم ثابت ہونے پر مارچ 2020 سے 23 سال قید کی سزا کاٹنے والے 69 سالہ ہولی وڈ پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن نے اپنی سزا کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کردی۔ہاروی وائنسٹن کو امریکی ریاست نیویارک کی عدالت نے ’ریپ‘ کا جرم ثابت ہونے پر مارچ 2020 کو جیل بھیج دیا تھا اور انہیں 23 سال تک قید کی سزا سنائی تھی۔ایک سال تک قید میں رہنے کے بعد اب ہاروی وائنسٹن نے نیویارک کی ہی اپیل کورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ ان کے کیس کا دوبارہ ٹرائل کیا جائے، کیوں کہ ان کے پہلے ٹرائل میں شواہد کو نظر انداز کیا گیا تھا۔خبر وںکے مطابق وکلا کے ذریعے داخل کرائی گئی درخواست میں ہاروی وائنسٹن نے اپنی سزا ختم کرنے اور دوبارہ ٹرائل کی درخواست کی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ جن تین خواتین گواہوں کی گواہی پر ہاروی وائنسٹن کو سزا سنائی گئی، ان میں سے دو خواتین کی گواہی کو صرف پروڈیوسر پر لگے الزامات جانچنے کے لیے اہم سمجھا جانا تھا مگر عدالت نے ان گواہوں کی گواہی پر فلم ساز کو سزا سنائی۔ہاروی وائنسٹن کے وکلا کا کہنا تھا کہ حیران کن طور پر جن گواہوں کی گواہی پر فلم ساز کو سزا سنائی گئی، ان خواتین نے پروڈیوسر کے خلاف فوجداری مقدمہ دائر ہی نہیں کر رکھا تھا۔فلم ساز نے درخواست میں کہا ہے کہ ان کو سزا سنانے والے ٹرائل میں حقائق کو نظر انداز کرکے انہیں سزا سنائی گئی اور یہ کہ پروڈیوسر اتنی بڑی سزا کے مستحق بھی نہیں تھے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ جس ریپ کیس میں ہاروی وائنسٹن کو سزا سنائی گئی، وہ کئی سال پہلے ہوچکا تھا، اس لیے اتنے پرانے کیس پر انہیں اتنی بڑی سزا نہیں سنائی جا سکتی۔ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ عدالت ہاروی وائنسٹن کی مذکورہ درخواست کو مسترد کرے گی یا اس پر سماعت کرے گی، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں اس متعلق واضح ہوجائے گا۔اگر ہاروی وائنسٹن کی نظرثانی کی اپیل منظور ہو جاتی ہے اور وہ مذکورہ کیس سے آزاد بھی ہوجاتے ہیں تو بھی ان پر ریاست کیلی فورنیا اور نیویارک کی دیگر عدالت میں جاری متعدد مقامات میں انہیں سزا ہوسکتی ہے اور ان کے خلاف دائر کیے گئے کم از کم 5 مقدمات ایسے ہیں جن میں ان پر فوجداری الزامات ہیں۔ہاروی وائنسٹن کو فوجداری الزامات کے تحت چلنے والے کیس ثابت ہونے پر 140 سال تک کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔ان پر لاس اینجلس اور نیویارک سمیت امریکا کی دیگر عدالتوں میں فوجداری اور سول مقدمات زیر سماعت ہیں اور ان پر کیسز کا آغاز اکتوبر 2017 کے بعد ہوا اور ان پر خواتین کی جانب سے الزامات لگائے جانے کے بعد ہی دنیا میں ’می ٹو مہم‘ شروع ہوئی تھی۔ان پر کم از کم 80 خواتین کے ریپ، جنسی استحصال اور ان پر تشدد کے الزامات ہیں مگر انہیں جو 23 سال کی سزا سنائی گئی تھی وہ صرف ایک خاتون کا ریپ کرنے کا جرم ثابت ہونے پر سنائی گئی تھی اور اب انہوں نے اس سزا کے خلاف بھی نظر ثانی کی درخواست دائر کردی، وہ اس وقت نیویارک کی جیل میں قید ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper