ریاست

اجین: بستی کے تین سو مکانوں کے درمیان سے ہر دن گزرتی ہیں کووڈ متاثر لاشوں کی گاڑیاںرشتہ داروں نے بچوں کو کر دیا ہے کمرے میں بند

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Ujjain (Madhya Pradesh)  on 04-May-2021

اجین :، 4 مئی۔ اندور روڈ پر پرشانت دھام کے نزدیک موتی نگر ا?باد ہے۔ یہاں پر تقریباً 300 جھوپڑی، کچے مکان ہیں۔ ان میں تقریباً ڈیڑھ ہزار لوگ سکونت پذیر ہیں۔ باشندوں میں بزرگوں سے لیکر بچے تک شامل ہیں۔ یہ تمام لوگ ان دنوں دہشت میں ہیں۔ ان کی دہشت کی وجہ کورونا وائرس نہیں بلکہ کورنا پازیٹو/ نگیٹو/ مشتبہ لوگوں کی لاشوں کو لیکر جانے والی وہ گاڑیاں ہیں جو تقریباً 100 میٹر کی دوری پر واقع سی این جی شبداہ گرہ میں روزانہ صبح سے دیر رات تک لے جائی جاتی ہیں۔یہاں رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم اور ہمارے بچے اب تقریباً پورے دن گھروں میں بند رہتے ہیں۔ اس کی اہم وجہ کورونا پازیٹو/ نگیٹیو/ مشتبہ لوگوں کی لاشوں کو لیکر صبح سے رات تک ا?نے والی گاڑیاں ہیں۔ ڈر لگتا ہے کہ گھروں کے سامنے سے نکلنے والی ان گاڑیوں کی وجہ سے کہیں وائرس کا انفیکشن بستی کو اپنی زد میں نہ لے لے۔ اس طرف کسی افسر کی توجہ نہیں جاتی ہے۔ نہ ہی بستی کے درمیان سے شبداہ گرہ تک جانے والی گاڑیوں کی وجہ سے اس راستے کو روزانہ سینٹائز کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف خاندان کی خواتین و مرد جب مزدوری کے لئے جاتے ہیں تو گھر کے باہر تالا لگا کر بچوں کو اندر بند کر کے جاتے ہیں تاکہ ان کی غیر موجودگی میں بچے سڑک پر نہ کھیلنے لگیں۔ گاو?ں کے باشندے اشوک پوروال کا کہنا ہے کہ وہ خود گھر بیٹھے کورونا پازیٹو ہوگیا۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ گھر کے باہر سے صبح سے رات تک گاڑیاں لاش لیکر جاتی ہیں۔ کسی پازیٹو لاش کا وائرس ہوا سے اس کے جسم میں ا?گیا ہوگا۔ اب وہ ٹھیک ہے لیکن خاندان صدمے میں ہے۔ ہم ڈر سے کھلی ہوا میں سانس بھی نہیں لے پاتے ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper