آرٹیکل

حسن اخلاق واقعات کی روشنی میں

Written by Taasir Newspaper

تاثیر اردو نیوز نیٹورک
19 می 2021

ہم نے سیرت کی کتابوںمیں ایک بہت ہی دلچسپ واقعہ پڑھاہےکہ ایک بوڑھی خاتون ہمارےنبی کریم ﷺ کے جسم اطہرپر کوڑاپھیکاکرتی تھی مگرایک دن وہ بیمارہوگئی اوراتفاقاآپ اس راستےسےتشریف لےجارہےتھے تووہ کوڑانہیں پھیکی جب اس کی اطلاع آپ ﷺ کوملی کہ اس خاتون کی طبیعت خراب ہے توآپ فورااس کے پاس تشریف لےگئے اوراس کی عیادت فرمائی تووہ بوڑھی خاتون یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ میں توہمیشہ ان کےاوپرکوڑاڈالتی تھی، ہمیشہ میں اسےتکلیف اوربرابھلاکہتی تھی، آج یہ میری عیادت کوآیابس اسی اخلاق کودیکھ کر وہ اسی وقت دامن اسلام میں آگئی ۔

اسی طریقے سےمکہ والوں نے ایک بوڑھی عورت کو ہمارےنبی ﷺ کےتعلق سے اتناڈرایااوردھمکایاکہ وہ آپ کی خوف اوردہشت سے مکہ چھوڑکرجارہی تھی اورسفرکی طرف کوچ کرچکی تھی سامان بھاری ہونےکی وجہ سے وہ ایک چوراہےپرکسی گاڑی یامعاون کاانتظارکررہی تھی کہ آپ ﷺ اس طرف تشریف لےگئے تودیکھاکہ بوڑھی عورت سازوسامان کیساتھ کہیں جانےکیلئے کھڑی ہے آپ اس سے کچھ سوالات پوچھتےہیںبوڑھی اماں آپ کہاں تشریف لےجارہی ہے اوراس بوڑھی عورت کاسامان اپنے کاندھوں پراٹھاکر اس بوڑھی عورت کیساتھ چلتےہیں اوراس کواپنے مقام تک چھوڑدیتےہیں جب واپس ہونےلگتےہیں تووہ بوڑھی خاتون احسان مندانہ طورپر نام اور احوال زندگی پوچھتی ہے توآپ سکون واطمینان کیساتھ جواب دیتےہیںکہ بوڑھی اماں جس محمد کے خوف اور دہشت سےآپ نے مکہ چھوڑاہے میں وہی محمد ہوں تویہ سن کر حیران ہوجاتی ہےکہ جس محمد ﷺ کی وجہ سےمیں مکہ شہرچھوڑکر آئی ہوں اس کااخلاق یہ ہے بس وہ فوراکسی ہچکچاہٹ کے اسلام کے دامن میں پناہ لےلیتی ہے یقینایہ اسلام کی تعلیم اخلاق کریمانہ کانتیجہ ہے اورآپﷺ تو نرم ہی نرم تھے ۔

حضرت انس ؓسے زیادہ قریب رسول اکرم ﷺ کی سیرت و کردار اور اخلاق واعمال کے مشاہدے کا موقع ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو میسر آیا تھا کیوں کہ وہ آپ ﷺ کی رفیقہ حیات تھی اور آپﷺکے ہر ظاہری اور خانگی معمولات و عادات سے واقف تھیں۔ ایک مرتبہ چند صحابی رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ اے امّ المومنین ! حضور ﷺکے اخلاق اور معمولات بیان فرمائیے توحضرت عائشہ صدیقہؓ نے جواب دیا کہ کیا تم لوگوں نے قرآن نہیں پڑھا؟ کان خلق رسول القرآن ”رسول اکرمﷺ کا اخلاق قرآن تھا۔ یعنی قرآنی تعلیمات آپ ﷺکے اخلاق و کردار میں رچی اور بسی ہوئی تھی۔ اور حضور اکرم ﷺ ان سے ذرا بھی منحرف نہ تھے ۔ خود قرآن کریم میں آپ کے بلند اخلاق و کردار کی شہادت دی گئی ہے کہ ”بیشک آپ ﷺ اخلاق کے اعلیٰ پیمانہ پر ہیںرشتہ داروں میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ جو بچپن سے جوانی تک آپﷺ کی خدمت میں رہے تھے ، وہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ طبیعت کے نرم اور اخلاق کے نیک تھے ، طبیعت میں مہربانی تھی سخت مزاج نہ تھے ۔ کسی کی دل شکنی نہ کرتے تھے ، بلکہ دلوں پر مرہم رکھتے تھے ۔ آپ ﷺرحمدل تھے ۔

اس سلسلہ میں ایک واقعہ یہ بھی ہےکہ حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ فرماتے ہیں کہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ جب آخری حج سے تشریف لارہے تھے تو ہم لوگ اسٹیشن پر شرف زیارت کے لیے گئے ،اس وقت حضرت کے متوسلین میں سے ایک شخص محمد عارف جھنگ سے دیوبند تک ساتھ گئے ،ان کا بیان ہے کہ ٹرین میں ایک ہندو جنٹلمین بھی تھا، جس کو قضائِ حاجت کے لیے جانا تھا،لیکن جا کر الٹے پائوں بادل ناخواستہ واپس آیا،حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ سمجھ گئے ، فوراً لوٹا لے کر پاخانہ گئے اور اچھی طرح اسے صاف کر کے واپس آگئے ،پھر اس ہندو دوست سے فرمانے لگے :آپ قضائِ حاجت کے لیے جانا چاہتے تھے تو جائیے !بیت الخلاءبالکل صاف ہے قصہ مختصر وہ اٹھا اور جاکر دیکھا تو پاخانہ بالکل صاف تھا،بہت متاثر ہوااور قضائِ حاجت کے بعد بھر پور عقیدت سے عرض کرنے لگا: یہ حضور کی بندہ نوازی ہے ، جو سمجھ سے باہر ہے اس واقعہ کو دیکھ کر ٹرین میں سوار خواجہ نظام الدین تونسوی مرحوم نے ایک ساتھی سے پوچھاکہ یہ کھدر پوش کون ہے ؟ جواب ملاکہ یہ مولانا حسین احمد مدنی ہیں تو خوا جہ صاحب فوراً حضرت مدنیؒ سے لپٹ گئے اور رونے لگے ، حضرت مدنی ؒ نے پوچھا کہ کیا بات ہے ؟ تو کہاسیاسی اختلاف کی وجہ سے میں نے آپ کے خلاف فتوے دیے اور برابھلا کہا،آج آپ کے اعلیٰ کرداراور اخلاق کو دیکھ کر تائب نہ ہوتا تو شاید مر کرسیدھا جہنم میں جاتا۔ اس پر حضرت مدنی ؒ نے فرمایا:میرے بھائی!میں نے تو حضور ﷺ کی سنت پر عمل کیا ہے اور وہ سنت یہ ہے کہ حضور ﷺ کے یہاں ایک یہودی مہمان نے آپﷺکے بستر مبارک پر رات کھا کر پاخانہ کر دیااور صبح اٹھ کر جلدی چلا گیا،اور اپنی تلوار وہیں بھول گیا،جب اپنی بھولی ہوئی تلوار لینے آیا تو کیا دیکھتا ہے کہ حضورﷺبنفس نفیس اپنے دست مبارک سے بستر دھو رہے ہیں، حضورﷺکے اِن اعلیٰ اخلاق کو دیکھ کر وہ یہودی مسلمان ہو گیالہٰذا آج ہمیں ضرورت ہےکہ ایمان کے بعد اخلاص کے ساتھ اخلاق سے پیش آنے کی۔

شیخ عائشہ امتیازعلی
متعلمہ !انجمن اسلام گرلزہائی اسکول ناگپاڑہ

About the author

Taasir Newspaper