دنیا بھر سے

یو اے ای: کووِڈ-19 کے علاج کے لیے اونٹوں کی اینٹی باڈیزکا سائنسی مطالعہ

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Dubai (UAE)  on 04-May-2021

دبئی :،۴؍مئی – متحدہ عرب امارات میں سائنس دانوں نے کووِڈ-19 سے متاثرہ انسانوں کے علاج کی غرض سے اونٹوں کی اینٹی باڈیز کو بروئے کار لانے کے لیے ایک تحقیقی مطالعہ شروع کیا ہے۔
اس مطالعے میں دبئی کی سنٹرل ویٹرینری ریسرچ لیبارٹری کے سربراہ ڈاکٹر الریچ ورنرے اور ان کی ٹیم نے کووِڈ-19 وائرس کے مردہ سیمپل اونٹوں کے اجسام میں داخل کیے ہیں۔اس تجربے کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ کیا اس سے صحرائی جانور میں اینٹی باڈیزپیدا ہوتے ہیں تاکہ انھیں انسانوں کے علاج میں استعمال کیا جاسکے۔اس سے پہلے اونٹ مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سینڈروم (مرس) کا شکار ہوچکے ہیں۔کرونا وائرس سے پہلے مشرق اوسط میں یہ وائرس پھیلا تھا۔اس سے نظام تنفس متاثرہ ہوتا تھااور اس سے متعلق بیماریاں پھیلی تھیں۔اس کے علاوہ نظام انہضام کے بگاڑ اور گردے ناکارہ ہونے سے لوگوں کی اموات ہوئی تھیں۔
تاہم اب تک کے مطالعات کے مطابق اونٹ نئے کروناوائرس سے محفوظ ہے۔ڈاکٹر الریچ ورنرے اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ’’اونٹوں میں وائرس کوقبول کرنے والا خلیہ نہیں جبکہ انسانوں اور دوسرے جانوروں میں یہ موجود ہے اور اسی سے گزر کر وائرس ان کے نظام اخل ہوتا نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’’مرس-کووِڈ اونٹوں میں داخل ہوسکتا ہے لیکن اس سے وہ بیمار نہیں پڑتے جبکہ کووِڈ-19 اونٹوں کے نظام تنفس کے خلیوں میں داخل ہی نہیں ہوسکتا۔
یہ ایک بڑا دلچسپ معاملہ ہے کہ انسانوں کے علاوہ آبی نیولے اور چھوٹی بڑی بلیاں کووِڈ-19 کا شکار ہوسکتی ہیں۔ان میں شیر اور چیتے بھی شامل ہیں۔یہ تمام جانور دوسرے انسانوں اور جانوروں میں کووِڈ-19 کی منتقلی کا سبب بن سکتے ہیں۔‘‘اب تک کووِڈ-19 بعض جانوروں میں پایا گیا ہے۔سان ڈیاگو کے چڑیا گھر میں گوریلے بھی اس وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔سرے ، برطانیہ میں ایک بلی ،برونکس،امریکا کے ایک چڑیا گھر کے ایک شیر میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔ان کے علاوہ بارسلونا کے چڑیا گھر کے چار شیروں اور کنٹیکی کے چڑیا گھر میں ایک برفانی چیتے کاکووِڈ-19 کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔تاہم سائنس دانوں اور عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ جانوروں سے انسانوں میں کووِڈ-19 منتقل ہونے کا خطرہ کم ہے۔ڈاکٹر ورنرے نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ’’ان کے اونٹوں پر تحقیقی مطالعے سے کووِڈ-19 کے پھیلنے اور اس کے علاج سے متعلق مزید سوالوں کے جواب ملیں گے اور اس سے مہلک وائرس کے علاج میں بھی مدد ملے گی کیونکہ اس تجربے کی روشنی میں ایک دن اونٹوں کی اینٹی باڈیز (خون) کو کووِڈ-19 سے متاثرہ انسانوں کے علاج کے لیے استعمال میں لایا جاسکے گا۔‘‘

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper