فن فنکار

بھارتی اداکارہ ا و رکن اسمبلی نصرت جہاں کی شادی ختم کرنے کی تصدیق

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

مغربی بنگال،۱۰؍جون- ریاست مغربی بنگال سے 2019 میں لوک سبھا یعنی ایوان زیریں کی رکن منتخب ہونے والی اداکارہ نصرت جہاں روحی نے اپنی شادی ختم ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے حیران کن دعوے کر ڈالے۔نصرت جہاں روحی بنگالی، تامل اور تیلگو سمیت بھارت کی دیگر زبانوں میں بننے والی فلموں سمیت ہندی زبان میں بننے والے ڈراموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں۔
نصرت جہاں روحی ٹولی وڈ یعنی تامل، تیلگو، بنگالی اور مراٹھی زبان میں فلمیں بنانے والی انڈسٹری کی مقبول ترین اداکارہ ہیں۔سال 2019 کے عام انتخابات میں انہوں نے آل انڈیا ترینیمول کانگریس (اے آئی ٹی سی) کے ٹکٹ پر انتخابات جیتے تھے۔رکن پارلیمنٹ منتخب ہوتے ہی انہوں نے اپنے دیرینہ دوست نکھل جین سے منگنی کی تھی جب کہ جون میں رکن اسمبلی کا حلف لینے سے قبل ہی انہوں نے شادی بھی کی تھی۔نصرت جہاں نے ترکی میں انتہائی قریبی دوستوں اور رشتہ داروں کی موجودگی میں شادی کی تھی۔اداکارہ و رکن اسمبلی کو حال ہی میں اس وقت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا جب کہ خبریں تھیں کہ ان کا بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کے مغربی بنگال کے سیاستدان یش دسگپتا سے معاشقہ چل رہا ہے۔بی جی پی سیاستدان سے تعلقات کی خبریں آنے کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں نے نصرت جہاں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں پہلے شوہر سے طلاق لینے کا مشورہ دیا تھا۔سوشل میڈیا پر کافی تنقید کے بعد اب نصرت جہاں نے بیان جاری کرتے ہوئے جہاں پہلے شوہر سے علیحدگی اور شادی ختم ہوجانے کی تصدیق کی، وہیں انہوں نے اپنی شادی سے متعلق حیران کن دعوے بھی کر ڈالے۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق نصرت جہاں نے 9 جون کو جاری کردہ بیان میں تصدیق کی کہ انہوں نے نکھل جین سے کافی عرصہ قبل ہی علیحدگی اختیار کرلی تھی، تاہم وہ ان سے طلاق نہ تو لے سکتی ہیں اور نہ وہ انہیں طلاق دے سکتے ہیں۔
اداکارہ و رکن اسمبلی کے مطابق چوں کہ ان کی شادی ترکی میں ہوئی تھی تو انہوں نے شادی بھی وہاں کے قانون کے مطابق کی تھی جو کہ بھارتی قانون کے مطابق شادی نہیں تصور کی جاتی۔نصرت جہاں کا کہنا تھا کہ بھارتی قانونی کے مطابق اگر کوئی بھی بھارتی بیرون ملک شادی کرتا ہے تو اسے ‘اسپیشل میرج ایکٹ’ کے تحت شادی کرنی ہوگی، تاہم انہوں نے مذکورہ ایکٹ کے تحت نہیں بلکہ ترکی کے قانون کے مطابق شادی کی تھی۔نصرت جہاں نے بتایا کہ ان کے اور نکھل جین کے درمیان جو تعلق رہا وہ ایک طرح ‘لو ان ریلیشن شپ’ یعنی شادی کیے بغیر جنسی تعلقات استوار کرنا تھا، اس لیے مذکورہ ضوابط کے تحت طلاق نہیں لی جا سکتی اور انہیں ضرورت بھی نہیں ہے۔اداکارہ و رکن اسمبلی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ نکھل جین سے کافی عرصہ قبل ہی الگ ہوگئی تھیں۔
، کیوں کہ انہوں نے ان کے ساتھ دھوکا کیا اور غلط بیانی کرکے ان کی دولت بھی لوٹی۔نصرت جہاں نے سابق شوہر یا پارٹنر کو دھوکے باز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے خلاف پیسے اور دوسرا سامان ہتھیانے کے خلاف پولیس میں مقدمہ بھی دائر کریں گی۔خیال رہے کہ نصرت جہاں مسلمان جب کہ نکھل جین ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔اگرچہ تاحال وہ رکن اسمبلی ہیں، تاہم اس کے باوجود وہ شوبز سرگرمیوں میں بھی متحرک دکھائی دیتی ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper