فن فنکار

زائد العمری میں بھی خواتین پر جوان اور پرکشش دکھنے کا دباؤ رہتا ہے:سلمیٰ ہائیک

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

لاس اینجلس،۱۱؍جون – ہولی وڈ کی معروف اداکارہ 54 سالہ سلمیٰ ہائیک کا کہنا ہے کہ شوبز انڈسٹری میں خواتین کو زائد العمری کے باوجود کم عمر اور پرکشش دکھائی دینے کے لیے دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔
جلد ہی سائنس فکشن سپر ہیرو فلم ’دی اٹرنلز‘ میں سپر ہیروئن کے روپ میں ایکشن میں دکھائی دینے والی سلمیٰ ہائیک کے مطابق زائد العمری کے باوجود انہیں انڈسٹری میں رہنے کے لیے وزن نہ بڑھانے جیسے رویوں کو دباؤ لینا پڑ رہا ہے۔فیشن میگزین ’ان اسٹائل‘ کو دیے گئے انٹرویو میں سلمیٰ ہائیک نے کھل کر زائد العمری، خواتین کی جسامت اور فلم انڈسٹری کے خواتین سے متعلق مطالبات پر بات کی اور بتایا کہ کس طرح انہیں پورے کیریئر میں جسامت کی وجہ سے مسائل کا سامنا رہا۔سلمیٰ ہائیک کے مطابق میکسیکو نڑاد ہونے کی وجہ سے انہیں شروع سے ہی جسامت کی وجہ سے دباؤ کا سامنا رہا لیکن اب بڑھتی عمر میں بھی وہ ایسا ہی دباؤ محسوس کرتی ہیں۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کی عمر کافی بڑھ چکی ہے مگر لوگوں کا مطالبہ ہوتا ہے کہ خواتین کم عمر نظر آئیں اور ساتھ ہی وزن کے حوالے سے بھی خواتین پر دباؤ رہتا ہے۔
سلمیٰ ہائیک کے مطابق ’دی اٹرنلز‘ میں سپر ہیروئن کا کردار ادا کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنا وزن بڑھایا، جس کی وجہ سے انہوں نے متعدد زیر جامہ کمپنیوں کے اشتہارات کی شوٹنگ بھی ایک سال قبل ایک ہی ہفتے میں کروائی تھی، تاکہ وزن بڑھ جانے پر انہیں طعنے نہ دیے جائیں۔اداکارہ نے انٹرویو میں اپنے ابتدائی کیریئر سے متعلق بھی بات کی اور بتایا کہ انہوں نے 18 برس کی عمر میں میکسیکو سے ٹی وی سے اداکاری کا آغاز کیا تھا اور بعد میں امریکا منتقل ہونے پر بھی انہیں فلموں میں کردار لینے کے لیے جدوجہد کرنی پڑی۔
انٹرویو میں اداکارہ نے ایک مرتبہ پھر ہولی وڈ پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن کے ساتھ کام کرنے اور ان کی جانب سے نامناسب مطالبے کیے جانے کے واقعات کو بھی دہرایا اور اس بات پر افسوس کا اظہار بھی کیا کہ وہ کئی سال تک خاموش رہیں۔سلمیٰ ہائیک کے مطابق جب وہ ہاروی وائنسٹن کے ساتھ 2002 کی بلاک بسٹر فلم ‘فریڈا کے لیے کام کر رہی تھیں تب فلم ساز نے ان سے ایک ساتھ عریاں ہوکر نہانے اور مالش کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جو انہوں نے مسترد کردیا تھا۔اداکارہ کے مطابق ہاروی وائنسٹن کا مطالبہ نہ ماننے کی وجہ سے ہی ان سے ’فریڈا‘ کی شوٹنگ کے دوران ایک نامناسب اور عریاں منظر شوٹ کروایا گیا، جسے فلم میں شامل بھی نہیں کیا گیا اور مذکورہ منظر کی ویڈیو پر فلم ساز انہیں بلیک میل کرتے اور قتل کی دھمکیاں دیتے رہے۔خیال رہے کہ سلمیٰ ہائیک نے ’فریڈا‘ میں میکسیکو کی مصورہ فریڈا کوہلو کا کردار ادا کیا تھا، اسی فلم میں اداکاری کے آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد بھی کیا گیا تھا۔مذکورہ فلم کی شوٹنگ کے دوران ان سے ایک عریاں منظر شوٹ کروایا گیا تھا۔
، جسے بعد میں فلم کا حصہ بھی نہیں بنایا گیا تھا اور اسی معاملے پر پہلے بھی سلمیٰ ہائیک بات کر چکی ہیں لیکن ہاروی وائنسٹن ان کے الزامات کو مسترد کر چکے ہیں۔سلمیٰ ہائیک ان 100 سے زائد اداکاراؤں میں سے ایک ہیں، جنہوں نے ہاروی وائنسٹن پر جنسی ہراسانی اور استحصال کے الزامات لگا رکھے ہیں، اس وقت ہاروی وائنسٹن 23 سال کی قید کاٹ رہے ہیں، انہیں گزشتہ برس کے آغاز میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper