کھیل

پہلوان سشیل کی مشکلات میں اضافہ دہلی کی عدالت نے قتل کیس میں پولیس تحویل میں 25 جون تک توسیع کی

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی ، 11جون ۔ چھترسال اسٹیڈیم میں جونیئر نیشنل ریسلر ساگر کے قتل کے الزام میں گرفتار پہلوان سشیل کمار کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ دہلی کی عدالت نے جمعہ کے روز سشیل کی پولیس حراستمیں 25 جون تک توسیع کردی۔سشیل کی 9 دن کی تحویل ختم ہوگئی تھی۔ اس کے بعد انہیں میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ رتیکا جین کے سامنے پیش کیا گیا۔ بین الاقوامی پہلوان پر قتل ، قتل کی کوشش اور اغوا کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ اسی دوران ، سشیل کے وکیل بی ایس جاکھڑ نے پولیس کی کام کرنے کے انداز پر سوالات اٹھائے ہیں۔ میڈیا رپورٹ میں ان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سشیل کو جرم قرار دیا جارہا ہے۔ چھترسال اسٹیڈیم میں ہوئے دو دھڑوں کے مابین جھگڑے کے دوران سشیل پہلوانوں کو سمجھانے اور ان کے درمیان صلح کرانے گئے تھے۔ جاکھڑ نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ واقعے کے بعدموقع پر پہنچی پولیس کے سامنے پہلے کسی بھی زخمی پہلوان نے سشیل کا نام نہیں لیا ۔ اسپتال کے ایم ایل سی (ڈاکٹر مشتبہ معاملات میں علاج سے پہلے متاثرہ شخص کا بیان لیتے ہیں)میں کہیں بھی سشیل کے نام کاذکر نہیں ہے۔ زخمیوں میں ایک پہلوان ساگر کی موت کے بعد پولیس نے سشیل کا نام جوڑ دیا اور ان کے خلاف اغوا اور قتل کے مقدمات بھی شامل کردیئے۔
قابل ذکر ہے کہ جونیئر پہلوان ساگر کے قتل کی ویڈیو بھی منظرعام پر آگئی ہے۔ اس میں اولمپیئن سشیل کمار دوستوں کے ساتھ ساگر کو ہاکی اسٹک سے پیٹتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق اس ویڈیو کو واقعے کے دن اپنے دوست کے موبائل سے خود سْشیل کمار نے شوٹ کروایا تھا تاکہ ریسلنگ سرکٹ میں ان کاخوف بنا رہے۔تصویروں میں زخمی پہلوان 23 سالہ ساگر دھنکھڑزمین پر لہولہان پڑاہوادیکھا جا سکتا ہے۔ ملزم سشیل کمار اور تین دیگر افراد نے اسے گھیر رکھا تھا۔ تمام کے ہاتھ میں ہاکی اسٹک دیکھی جاسکتی ہے۔ ساگر اسپتال میں علاج کے دوران چل بسا۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ جھگڑا پراپرٹی کے تنازعہ کو لے کر ہوا تھا۔پولیس کے مطابق 4 مئی کو رات 1.15 سے 1.30 بجے کے درمیان ، چھترسال اسٹیڈیم کے پارکنگ ایریا میں پہلوانوں کے دو گروپوں کے درمیان تصادم ہوا۔ اس دوران فائرنگ بھی ہوئی۔ اس میں 5 پہلوان زخمی ہوئے۔ ان میں ساگر (23) ، سونو (37) ، امت کمار (27) اور 2 دوسرے پہلوان شامل تھے۔
ساگر اسپتال میں علاج کے دوران زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ وہ دہلی پولیس میں ہیڈ کانسٹیبل کا بیٹا تھا۔
بتایا جارہا ہے کہ یہ جھگڑا ایک پراپرٹی کے تنازعہ کو لے کر ہواتھا۔ پولیس نے موقع سے 5 گاڑیوں کے علاوہ ایک بھری ہوئی ڈبل بیرل گن اور 3 زندہ کارتوس برآمد کئے تھے۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper