رحیم یار خان مندر پر حملے میں پولیس نے تماشا دیکھنے کے سوا کچھ نہیں کیا: سپریم کورٹ

اسلام آباد،7اگست – سپریم کورٹ آف پاکستان نے رحیم یار خان کے علاقے بھونگ میں مندر پر حملے کے ملزمان کو فوری گرفتار کرنے حکم دیا ہے۔عدالت نیحملے پر اکسانے والوں کے خلاف کارروائی اور مندر کی بحالی کے اخراجات ملزمان سے ہر صورت وصول کرنے کے بھی احکامات دیے ہیں۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے گزشتہ روز اس معاملے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے پنجاب کے انتظامی افسران کو طلب کیا تھا۔
جمعے کو نوٹس کی سماعت کے دوران آئی جی پنجاب، چیف سیکریٹری پنجاب اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔اس موقعے پر چیف جسٹس گلزار احمد نے آئی جی پنجاب انعام غنی اور چیف سیکریٹری سے جواب طلب کیا کہ مندر پر حملہ ہوا تو انتظامیہ اور پولیس کیا کر رہی تھی؟آئی جی پنجاب انعام غنی نے عدالت کو بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنر اور علاقہ کے اے ایس پی موقعے پر موجود تھے۔ اس وقت حالات بہت زیادہ کشیدہ تھے اور انتظامیہ کی ترجیح مندر کے آس پاس ہندووں کے 70 گھروں کا تحفظ تھا کیوں کہ پولیس کی کارروائی کی صورت میں ان پر حملہ ہونے کا خدشہ تھا۔انہوں نے کہا کہ مندر پر حملے کے خلاف درج کیے گئے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں لیکن اب تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کمشنر رحیم یارخان کی کارکردگی پرعدم اطمینان کااظہار کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کمشنر ،ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کام نہیں کر سکتے تو انہیں ہٹا دیں۔انہوں نے کہا کہ ایک نو سال کے بچے کو بنیاد بنا کر سارا واقعہ ہوا جس سے دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی۔ پولیس نے تماشا دیکھنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل سہیل محمود نے عدالت کو بتایا کہ وزیرِ اعظم نے بھی معاملے کا نوٹس لے لیا ہے۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وزیرِاعظم اپنا کام کریں اس کے قانونی پہلو ہم دیکھیں گے۔بینچ میں شامل جسٹس قاضی امین نے کہا کہ پولیس اپنی ذمے داری ادا کرنے میں ناکام رہی۔ اس لیے سرکاری پیسے سے مندر کی تعمیر کی جائے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہندوؤں کا مندر گرایا گیا سوچیں ان کے دل پر کیا گزری ہو گی۔ سوچیں مسجد گرادی جاتی تو مسلمانوں کا کیا ردِعمل ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کو تین دن ہو گئے اور ایک ملزم بھی نہیں پکڑا گیا۔ پولیس ملزمان کی پہلے ضمانت اور پھرصلح کروائیگی۔ واقعے پر پولیس کی ندامت دیکھ کر لگتا ہے پولیس میں جوش و ولولہ نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے مندر حملے کے ملزمان کو فوری گرفتار کرنے، شرپسندی پر اکسانے والوں کے خلاف کارروائی اور مندر بحالی کے اخراجات بہر صورت ملزمان سے وصول کرنے کا حکم دیا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ گرفتار نہ ہونے و الے ملزمان ہندو کمیونٹی کے لیے مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔ یقینی بنایا آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔عدالت نے متاثرہ علاقے میں قیام امن کیلئے ویلیج کمیٹی بنانے کی ہدایت بھی کی ہے۔
اس کے علاوہ پنجاب کے آئی جی اور چیف سیکریٹری سے واقعے سے متعلق ایک ہفتے میں پیش رفت رپورٹ طلب کی ہے۔ازخود نوٹس کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل جسٹس قاضی امین نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ہندو بچے پر تشدد کیا گیا۔ دنیا بھر کی پارلیمنٹس اس واقعے پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ اقلیتوں کو تحفظ کا احساس ہونا چاہیے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کہا گیا آٹھ سالہ بچے نے لائبریری میں پیشاب کیا، پولیس نے آٹھ سالہ بچے کو گرفتار کیوں کیا؟ آٹھ سالہ بچے کو مذہب کا کیا پتا؟ کیا پولیس والوں کے آٹھ سال کے بچے نہیں ہوتے؟ کیا پولیس کو آٹھ سالہ بچے کے ذہن کا اندازہ نہیں؟انہوں نے بچے کو گرفتار کرنے والے ایس ایچ او کو برطرف کرنے کی ہدایت دی۔آئی جی پنجاب نے متعلقہ ایس ایچ او کی برطرفی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ بچے کو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ مسجد امام بارگاہ اور مندر ساتھ ساتھ ہیں، متاثرہ علاقے میں حالات آئیڈیل تھے اور کبھی بدامنی نہیں ہوئی تھی۔