دنیا بھر سے

داعش کی سابقہ دلہن شمیمہ بیگم نے برطانوی عوام سے معافی مانگ لی

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

لندن ،۱۷؍ستمبر- داعش کی سابق دلہن شمیمہ بیگم نے برطانوی عوام سے معافی کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ وہ دہشت گرد کارروائیوں کی تیاری میں اہم کردار ادا کرتی ر ہیں، عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے تیار ہوں۔ شمیمہ بیگم، جو چھ سال سے زیادہ عرصہ پہلے اسکول کی 15 سالہ طالبہ کے طور پر شام کے لئے اپنے ایسٹ لندن کے گھر سے بھاگ گئی تھیں، نے دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ انہیں الزامات کا سامنا کرنے کے لئے برطانیہ واپس لایا جائے۔ 22 سالہ لڑکی نے یہاں تک کہا کہ وہ وزیراعظم سے براہ راست اپیل کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں’’ اثاثہ‘‘ بن سکتی ہے، انہیں ایک’’گونگی‘‘ اور متاثر کن بچی کے طور پر شام فرار ہونے کے لئے ’’گروم‘‘ کیا گیا تھا۔ شامی پناہ گزین کیمپ سے نائک بیس بال کیپ، سرمئی بنیان، کیسیو گھڑی اور ناخنوں پر گلابی نیل پالش لگائے ہوئے بیگم نے آئی ٹیوی کے گڈ مارننگ برطانیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں جانتی ہوں کہ یہاں کچھ ایسے لوگ موجود ہیں۔
جو میرے کچھ کہنے یا کرنے کایقین نہیں کریں گے کہ میں بدل گئی ہوں، یقین کریں کہ میں مدد کرنا چاہتی ہوں۔ ان لوگوں کے لئے، جن کے دلوں میں رحم اور ہمدردی کا ایک قطرہ بھی ہے، میں اپنے دل کی گہرائی سے بتانا چاہتی ہوں کہ مجھے شام میں قدم رکھنے کے بعد سے ہر فیصلے پر افسوس ہے اور مجھے اپنی ساری زندگی اس پر افسوس رہے گا۔ اس نے مزید کہا کہ آپ ایک دن اس کے بارے میں بھول سکتے ہیں لیکن افسوس اور اپنے آپ سے نفرت کا یہ احساس میں اپنی قبرمیں لے جاؤں گی۔ میں نے جو کچھ کیا ہے، اس پر مجھ سے زیادہ کوئی اس سے نفرت نہیں کر سکتا اور میں صرف اتنا کہہ سکتی ہوں کہ میں معذرت خواہ ہوں اور مجھے دوسرا موقع دیا جائے۔ اس نے کہا کہ وہ داعش میں واپس جانے کے بجائے مر جائے گی اور مزید کہا میں نے صرف ایک جرم کیا جو کہ آئی ایس (نام نہاد اسلامک اسٹیٹ) میں شامل ہونے کے لئے میرا کافی گونگا پن تھا۔ بیگم نے کہا کہ میں عدالت جانے اور ان لوگوں کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہوں جنہوں نے یہ دعوے کئے اور ان دعوؤں کی تردید کی، کیونکہ میں جانتی ہوں کہ میں نے آئی ایس میں کچھ نہیں کیا بلکہ صرف ایک ماں اور بیوی ہوں۔
یہ دعوے مجھے بدتر بنانے کے لئے کئے جا رہے ہیں، کیونکہ حکومت کے پاس میرے بارے میں کچھ نہیں ہے۔ کوئی ثبوت نہیں ہے کیونکہ کبھی کچھ نہیں ہوا۔ جب بیگم کی برطانوی شہریت چھیننے کا فیصلہ کیا گیا تو وزیر صحت ساجد جاوید اس وقت وزیر داخلہ تھے، انہوں نے اس حقیقت کے باوجود اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا امکان مسترد کر دیا کہ میں نے کہا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ اگر آمنے سامنے ملاقات کا موقع دے دیا جائے تو وہ میرے بارے میں اپنا خیال بدل لیں گے۔ انہوں نے گڈ مارننگ برطانیہ سے کہا کہ یہ فیصلہ اخلاقی طور پر درست ہے، بالکل درست ہے، قانونی طور پر بھی درست ہے اور برطانوی عوام کی حفاظت کے لئے صحیح ہے۔ میں اس کیس کی تفصیلات میں نہیں جاؤں گی لیکن میں جو کہوں گی، وہ یہ ہے کہ آپ نے وہ نہیں دیکھا جو میں نے دیکھا۔ اگر آپ جانتے کہ میں کیا جانتی ہوں، کیونکہ آپ سمجھدار، ذمہ دار لوگ ہیں، تو آپ نے بالکل وہی فیصلہ کیا ہوگا، اس میں مجھے کوئی شک نہیں ہے۔ ہوم آفس کے ترجمان نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ہماری قومی سلامتی کو برقرار رکھنا اور عوام کو محفوظ رکھنا ہے۔ ہم انفرادی معاملات پر معمول کے مطابق تبصرہ نہیں کرتے۔ بیگم نے اس سے قبل آئی ایس کے خوف سے زندگی گزارنے میں خود کو برطانوی عوام سے تشبیہ دی تھی۔ اس نے کہا کہ میں نے بھی آئی ایس کے خوف سے زندگی گزاری ہے اور میں نے آئی ایس کی وجہ سے اپنے پیاروں کو بھی کھو دیا ہے، لہٰذا میں ان (برطانوی عوام) کے ساتھ اس طرح ہمدردی کا اظہار کر سکتی ہوں۔ بورس جانسن سے ایک اپیل میں بیگم نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ میں آپ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت مدد کر سکتی ہوں، کیونکہ آپ واضح طور پر نہیں جانتے کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ اس نے مزید کہا میں چاہتی ہوں کہ برطانوی عوام مجھے اپنے لئے خطرے کی بجائے ایک اثاثہ کے طور پر دیکھیں۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper