ریاست

وزیر اعلیٰ بننے والے اس لئے پریشان ہیں، کیونکہ کب چلے جائیں بھروسہ نہیں: گڈکری

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی،14ستمبر- مرکزی وزیر نتن گڈکری اکثر اپنے بیانات کی وجہ سے سرخیوں میں رہتے ہیں۔ راجستھان کے جے پور میں انہوں نے ایک پروگرام کے دوران پھر کچھ ایسا کہا جس پر بحث ہو رہی ہے۔ نتن گڈکری نے کہا کہ جو لوگ وزیر اعلیٰ بنتے ہیں، وہ پریشان ہیں کیونکہ انہیں معلوم نہیں کہ کب ہٹا دیا جائے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ نتن گڈکری کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب بھوپندر پٹیل گجرات میں بطور وزیر اعلیٰ حلف اٹھا رہے تھے۔ بی جے پی نے وجے روپانی کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا ہے اور ان کی جگہ بھوپندر پٹیل کو لایا گیا ہے۔نتن گڈکری نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کل ہر ایک کو پریشانی ہے، ہر کوئی دکھی ہے۔ ایم ایل اے دکھی ہیں کیونکہ وہ وزیر نہیں بن سکے۔ وزیر دکھی ہے کیونکہ انہیں من پسند قلمدان نہیں ملا اور جنہیں من پسند قلمدان مل گیا وہ اس لئے دکھی ہیں کہ وزیر اعلیٰ نہیں بن سکے۔نتن گڈکری نے مزید کہا کہ جو لوگ وزیر اعلیٰ بننے میں کامیاب ہو گئے وہ اس لئے دکھی ہیں، کہ کب رہیں گے، کب جائیں گے، اس کا بھروسہ نہیں۔نتن گڈکری نے راجستھان قانون ساز اسمبلی کے زیر اہتمام ایک پروگرام میں حصہ لیا تھا۔ انہوں نے یہاں کہا کہ سیاست کا بنیادی مقصد عام لوگوں کی زندگی میں تبدیلی لانا ہے لیکن آج کل اسے صرف اقتدار پر قبضہ کرنے سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ جمہوریت کا بنیادی ہدف معاشرے کے آخری فرد کو فائدہ پہنچانا ہے۔قابل ذکر ہے کہ حالیہ دنوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے کئی وزراء￿ اعلیٰ کو اچانک تبدیل کر دیا ہے۔ پہلے تیرتھ سنگھ راوت کو اتراکھنڈ میں ترویندر سنگھ راوت کی جگہ لایا گیا، بعد میں انہیں بھی ہٹا کر پشکر سنگھ دھامی کو لایا گیا، پھر کرناٹک میں بی ایس یدی یورپا کی جگہ بسوراج بومئی کو لایا گیا اور اب گجرات میں وجے روپانی کی جگہ بھوپندر پٹیل کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے۔ وہیں، آسام میں انتخابات کے بعد اس بار سربانندا سونووال کی بجائے ہیمنت بسوا سرما کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper