دنیا بھر سے

انگیلا میرکل کی چینی صدر کے ساتھ الوداعی ویڈیو کال

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

برلن، 14اکتوبر – سبکدوش ہونے والی جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے 13 اکتوبر بدھ کے روز چینی صدر شی جن پنگ سے اپنی الوداعی ویڈیو کال میں بات چیت کی اور تفصیل سے وبائی مرض کورونا، ماحولیاتی تبدیلیوں اور دیگر اہم عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔جرمن حکومت کے ایک ترجمان مارٹن فیٹز نے اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا کہ دونوں رہنماؤں نے، ”آنے والی جی 20 سربراہی اجلاس کی تیاریوں، موسمیاتی تبدیلیوں کے مسائل اور وبائی امراض کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری سے متعلق چین اور یورپی یونین کے درمیان معاہدے جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔’ ‘آئندہ برس جرمنی اور عوامی جمہوریہ چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 50 برس مکمل ہو جائیں گے اور اس مناسبت سے دونوں رہنماؤں نے باہمی تاریخی رشتوں کو بھی سراہا۔چین کے حکومتی میڈیا کے مطابق بات چیت کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو ”چینی عوام کا دوست” قرار دیا۔ جرمنی میں نئی حکومت کے قیام کے فوری بعد انگیلا میرکل اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گی۔ چینی صدر نے عہدے سے دستبردار ہونے کے بعد انگیلا میرکل کو چین کا دورہ کرنے کی بھی دعوت دی ہے۔بدھ کے روز ہی جرمن چانسلر نے جرمن کمپنیوں سے کہا کہ وہ ایشیا بحرالکاہل خطے میں اپنی کاروباری حکمت عملی میں تنوع پیدا کریں اور صرف چین پر ہی منحصر نہ رہیں۔ انڈو پیسیفک خطے میں جرمنی کی بیرونی تجارت کا تقریبا 50 فیصد چین سے ہونے والی تجارت پر مبنی ہے۔انگیلا میرکل نے ایشیا پیسیفک کمیٹی آف جرمن بزنس (اے پی اے) کو خطاب کرتے ہوئے کہا، ”ہمیں اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ایشیا بحرالکال میں چین سے آگے بھی بہت کچھ ہے۔” اس میٹنگ میں موجود کئی بڑی جرمن کاروباری شخصیات نے بھی میرکل کی بات سے اتفاق کیا اور کہا کہ خطے میں تجارتی دائرے کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔انگیلا میرکل نے سن 2005 میں بطور چانسلر جرمنی کا اقتدار سنھبالا تھا اور تب سے اب تک جرمنی اور چین کے درمیان تجارتی روابط میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور فی الوقت یہ حجم کافی بڑا ہو چکا ہے۔ تاہم میرکل پر اس تناظر میں نکتہ چینی بھی ہوتی رہی ہے ۔
کہ وہ چین میں مبینہ انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے سخت پیغام دینے کے بجائے نرم رویہ اپناتی رہی ہیں۔امکان ہے کہ جرمنی کی اگلی حکومت بیجنگ کے ساتھ اس معاملے پر سخت رویہ اپنا سکتی ہے۔ اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ گرین پارٹی بھی اگلی مخلوط حکومت میں شامل ہو گی اور اس کا یہ دیرینہ موقف یہ رہا ہے کہ چین میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جرمنی کو کھل کر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper