فن فنکار

ایمی ایوارڈز کے لیے نوازالدین صدیقی نامزد

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

ممبئی،۱۳؍اکتوبر-’ہماری انڈسٹری میں اقربا پروری نہیں بلکہ نسل پرستی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
مجھے کئی برسوں تک اس لیے مسترد کیا جاتا رہا کیونکہ میری رنگت سانولی ہے۔ میں رنگ کی بنیاد پر ہونے والی تفریق کے خلاف ہمیشہ سے ہی لڑتا آیا ہوں۔‘یہ بات اداکار نواز الدین صدیقی نے ویب سائٹ بالی وڈ ہنگامہ کے فریدون شہریار کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہے۔نواز الدین صدیقی کو اپنی فلم ’سیریس مین‘ میں بہترین اداکاری کے لیے ایمی ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ ’سیریس مین‘ گذشتہ برس نیٹ فلِکس پر ریلیز ہوئی تھی جس کے ہدایتکار سدھیر مشرا ہیں۔ اس فلم کی کہانی ایک باپ بیٹے کے گرد گھومتی ہے۔نواز الدین صدیقی نے بتایا کہ جب وہ ممبئی آئے تھے تو سوشل میڈیا پر انھوں نے اپنے بارے میں مذاق میں لکھا تھا کہ ’تیرا کیا ہو گا کالیا۔۔۔‘انھوں نے کہا کہ ایسے بہت سے باصلاحیت فنکار ہیں جو اپنی رنگت یا قد چھوٹا ہونے کے سبب پیچھے رہ جاتے ہیں تاہم نوازالدین کا یہ بھی کہنا تھا کہ او ٹی ٹی پلیٹ فارم نے انھیں اور بہت سے فنکاروں اور ہدایت کاروں کو آگے بڑھنے اور کام کرنے کا موقع دیا اور ان جیسے آرٹسٹ کو اپنا ٹیلنٹ پوری دنیا کو دکھانے کا موقع دیا چاہے وہ ’سیکرڈ گیمز‘ ہو، ’رات اکیلی‘ یا پھر ’سیریس مین۔‘نوازالدین صدیقی کا کہنا ہے کہ انھیں فارمولہ فلموں سے مسئلہ ہے۔
جس میں ’ایک خوبصورت ہیرو اور ایک خوبصورت ہیروئن والا گھسا پِٹا فارمولہ ہو اور کہانی یا کونٹینٹ نہ ہونے کے برابر ہو۔‘نواز الدین کہتے ہیں کہ او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر آپ اچھا کونٹینٹ دیکھ سکتے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اب او ٹی ٹی پر بھی کہیں نہ کہیں ’کونٹینٹ فراڈ‘ ہونے لگا ہے اور ایسے لوگ آنے لگے ہیں جن کے لیے فلمیں محض ایک کاروبار ہیں۔‘سدھیر مشرہ کی فلم ’سیریس مین‘ میں ایمی ایوارڈ کے لیے نامزد ہونے کے بارے میں خبر رساں ادارے آئی این ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے ایوارڈ سے آپ کو اچھا اور بہتر کام کرنے کی تحریک تو ملتی ہے لیکن ساتھ ہی اپنی اہمیت کا احساس بھی ہوتا ہے اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ صحیح سمت میں جا رہے ہیں۔نواز الدین صدیقی کا کہنا تھا کہ انڈیا میں باکس آفس پر کامیابی سے ہی آپ کی کامیابی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔یاد رہے کہ نوازالدین صدیقی نے بجرنگی بھائی جان، کِک اور رئیس جیسی کامیاب کمرشل فلموں میں کام کیا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper