دنیا بھر سے

فضا میں موجود پلاسٹک کے باریک ذرات گلوبل وارمنگ کا سبب بن رہے ہیں

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

آکلینڈ،23اکتوبر- نیوزی لینڈ کے سائنس دانوں نے کہا ہے کہ پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات کا، جنہیں مائیکرو پلاسٹک کہا جاتا ہے، کرہ ارض کا درجہ حرارت بڑھنے سے براہ راست تعلق ہے۔نیوزی لینڈ کے سائنس دانوں کے مطالعاتی جائزے پر مبنی ایک رپورٹ ایک سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ فضا، زمین، دریاؤں اور سمندروں میں بڑے پیمانے پر پائے جانے والے پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات، ٹکڑے اور پلاسٹک کے ریشے نہ صرف صحت کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ وہ آب و ہوا کی تبدیلی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
سائنسی جریدے نیچر’ میں شائع ہونے والا یہ پہلا ایسا سائنسی مطالعہ ہے جس میں آب و ہوا پر فضا میں پائے جانے والے مائیکرو پلاسٹک کے اثرات پر تحقیق کی گئی ہے۔مائیکرو پلاسٹک اور پلاسٹک کے ریشے اتنے ہلکے اور چھوئے ہوتے ہیں کہ ہوا باآسانی انہیں اپنے ساتھ اڑا لے جاتی ہے۔ یہ ذرارت ہمارے روزمرہ استعمال کی ان چیزوں سے پیدا ہوتے ہیں جنہیں بنانے میں مختلف اقسام کا پلاسٹک استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ہمارا لباس، قالین اور روزمرہ استعمال کی ان گنت چیزیں اور رنگ۔ اس کے علاوہ ٹائروں اور بڑے سائز کی ایسی اشیا کی ٹوٹ پھوٹ اور شکست و ریخت کے نتیجے میں بھی پیدا ہونے والا مائیکرو پلاسٹک فضا اور ماحول کو آلودہ کر دیتا ہے جنہیں بنانے میں پلاسٹک استعمال ہوتا ہے۔
نیوزی لینڈ کے سائنس دانوں کا کہنا ہیکہ اگرچہ فی الحال آب و ہوا کی تبدیلی پر ان کا اثر بہت نمایاں نہیں ہے، لیکن جس رفتار سے کچھ شہروں کی فضا میں مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی عالمی اوسط سے بڑھ رہی ہے، کرہ ارض کے درجہ حرارت کے اضافے میں اس کا کردار بڑھ جائے گا۔نیوزی لینڈ کی یونیورسٹی آف کینٹربری کی ماحولیاتی سائنس کی ایک ماہر لورا ریویل کہتی ہیں کہ فضا میں موجود پلاسٹک کے باریک ذرات ماحول کو متاثر کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ “یہ ذرات شمسی تابکاری، یا سورج کی روشنی، خلا میں لوٹانے میں بہتر کردار ادا کرتے ہیں، جس سے زمین کی آب و ہوا میں معمولی ٹھنڈک پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ذرات زمین سے خارج ہونے والی انفرا ریڈ تابکاری کو جذب کرنے میں بھی کافی اچھے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھی کرہ ارض کو گرم کرنے والے عمل” گرین ہاؤس اثر” میں حصہ ڈالتے ہیں، جس کی وجہ سے کے ماحول کو ٹھنڈا کرنے میں ان کا کردار نمایاں طور پر گھٹ جاتا ہے اور وہ گوبل وارمنگ کا ایک سبب بن جاتے ہیں۔”
ریویل نے کہا ہے کہ لیبارٹری میں کیے جانے والے تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ مائیکرو پلاسٹک سے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ آبی جاندار اسے غلطی سے خوراک سمجھ کر کھا سکتے ہیں جس سے سمندر کے اس قدرتی عمل میں خلل پڑ سکتا ہے جسے کاربن کی ری سائیکلنگ کہا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ،”میں نہیں چاہوں گی کہ کوئی یہ سوچے کہ مائیکرو پلاسٹک آب و ہوا کی تبدیلی کے لحاظ سے ایک اچھی چیز ہے کیونکہ وہ گرین ہاؤس گیسوں کے کرہ ارض کو گرم کرنے کے اثرات میں کمی کر رہے ہیں۔ فی الحال اس کا یہ اثر بہت معمولی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ انسانی صحت اور ماحولیاتی نظام کو نقصان بھی پہنچا رہے ہیں۔”سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ اس وقت تک عالمی سطح پر زمین، پانی اور فضا میں پلاسٹک کا 5 ارب ٹن فضلہ جمع ہو چکا ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر پلاسٹک کی پیداوار اور اس کے فضلے کو ٹھکانے لگانے کے موجودہ رجحانات جاری رہے تو اگلے 30 برسوں میں یہ مقدار دگنی ہو سکتی ہے۔اس سائنسی تحقیقی میں نیوزی لینڈ کی یونیورسٹی آف کینٹربری اور وکٹوریہ یونیورسٹی آف ویلنگٹن کے ماہرین نے حصہ لیا۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper