دنیا بھر سے

انگلینڈ میں کیئر میں موجود بچوں کی تعداد 2025 تک ایک لاکھ ہوجائے گی

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

لندن،۲۵؍نومبر- انگلینڈ میں کیئر میں موجود بچوں کی تعداد 2025 تک ایک لاکھ ہوجائے گی۔ کائونٹی کونسلوں کی جانب سے کرائے گئے سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ایک عشرے میں کیئر میں موجود بچوں کی تعداد میں 36 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس اضافے کی وجہ سے لوکل اتھارٹیز کے بجٹ پر غیرمعمولی دبائو پڑا ہے۔ ایک سرکاری ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت کونسلوں کو بچوں کی دیکھ بھال سمیت فرنٹ لائن کی اہم سروسز کو برقرار رکھنے کیلئے 4.8 بلین پونڈ فراہم کر رہی ہے۔ کائونٹی کونسلوں کے نیٹ ورک کے چیئرمین ٹم اولیور بکنگھم شائر کے علاقے مارلو میں تنظیم کی سالانہ کانفرنس میں کیئر میں موجود بچوں کی تعداد میں اضافے سے پڑنے والے اثرات کی وضاحت کریں گے۔ ٹم اولیور بتائیں گے کہ حساس نوعیت کے بہت زیادہ بچوں کو مہنگے رہائشی کیئر ہومز میں رکھا گیا ہے اور وہ طویل عرصے سے کیئر ہومز میں مقیم ہیں، انگلینڈ میں ایک بچے کو چلڈرنز ہوم میں رکھنے پر اوسطاً 4,000 پونڈ فی ہفتہ خرچ ہوتا ہے۔ 2015میں انگلینڈ میں کونسلوں نے کم وبیش 69,000بچوں کی دیکھ بھال کی لیکن مارچ 2020 میں یہ تعداد 80,080 تک پہنچ گئی۔ ایک اور اندازے کے مطابق اگلے 3 سال میں ان کی تعداد 95,000 تک پہنچ جائے گی۔ بچوں کے رہائشی کیئر ہومز میں داخل ہونے کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اب بچوں کی پرورش کرنے والے بھی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ ایسٹ سسیکس کائونٹی کونسل کے کنزرویٹو پارٹی کے قائد کیتھ گلیزر نے بتایا ہے کہ لوکل اتھارٹیز بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کیلئے اپنی رقم خرچ کر رہی ہیں۔ کونسلوں میں اب مزید خرچ کی سکت نہیں ہے اور اب انھیں بچوں کو تحویل میں لینے کے بجائے فیملیز کو رکھنے کیلئے زیادہ جلدی مداخلت کرنے یقینی بنانا ہوتا ہے کہ بچے محفوظ ہیں۔ وارنگٹن میں لائٹ ہائوس کے نام سے ایک نئے چلڈرن ہوم نے آزمائشی بنیادوں پر کام شروع کیا ہے جو 5 کائونٹیز کا احاطہ کررہا ہے۔
، یہ ادارہ کیئر ہوم میں آنے والے بچوں کی تعداد میں اضافے کے اسباب کا جائزہ لے رہا ہے اور تھیراپسٹس، پولیس اور سوشل ورکرز مل کر فیملیز کو بحران کی حد تک پہنچنے سے قبل ہی بحران حل کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپریل میں اس کے قیام کے بعد سے وارنگٹن میں کیئر ہوم میں داخل ہونے والے 12-17سال عمر کے بچوں کی شرح میں کم وبیش 5 فیصد کمی ہوئی ہے۔ نورانگ ڈور ان وارنگٹن کے نام سے کام کرنے والا یا ادارہ بچوں کی سوشل کیئر کیلئے کام کرنے والی چیرٹی نے قائم کیا ہے۔ اس کے ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹرAoife O’Higgins نے کہا ہے کہ اس جیسے ادارے بہت اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ اس سے ہمیں یہ اندازہ ہوتا ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کی کیئر ہوم میں داخلے کی شرح کو کس طرح کم کیاجاسکتا ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ اسکیم اب تک کام کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود بچوں کو دیکھ بھال کیلئے رہائشی مقامات پر رکھنے پر کونسلوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات میں کمی نہیں آئی ہے۔ ایک سرکاری ترجمان کا کہنا ہے کہ ہمیں کونسلوں کو درپیش چیلنجوں اور بچوں کی خدمات کے حوالے سے بڑھتے ہوئے دبائو کا اندازہ ہے، یہی وجہ ہے کہ حکومت کلیدی فرنٹ لائن سروسز، بچوں کے سوشل کیئر کو برقرار رکھنے کیلئے نئی گرانٹ کے تحت کونسلوں کو 4.8 بلین پونڈ فراہم کر رہی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper