ریاست

مرکزی حکومت جموں و کشمیر میں ووٹ کے بٹوارے کی سازشیں رچا رہی ہے: عمر عبداللہ

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

جموں،27 نومبر- نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا الزام ہے کہ مرکزی حکومت جموں و کشمیر میں ووٹ کے بٹوارے کی سازشیں رچا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسمبلی نشستوں کی سرنو حد بندی کو لے کر بھی لوگوں کو آپس میں لڑوانے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہم سے پانچ اگست 2019 کو چھینا گیا ہم اس کو واپس حاصل کرکے ہی دم لیں گے۔
موصوف نے ان باتوں کا اظہار ہفتے کے روز ضلع ڈوڈہ کے گول سب ڈویژن میں پارٹی کارکنوں کے ایک جسلے سے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ’اگست 2019 کے بعد جموں و کشمیر کو کس طرف دھکیلا جا رہا ہے یہ ہمارے سمجھ میں نہیں آرہا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا : ’آج کے حمکرانوں کے ارادے کیا ہیں اور وہ کیا کرنا چاہتے ہیں یہ بھی ہماری سمجھ سے باہر ہے صرف یہ کہا جا رہا ہے کہ سال2018 تک یہاں کچھ بھی نہیں ہوا تھا‘۔
موصوف سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دفعہ370 ہٹناے کے بعد امن اور ترقی کا وعدہ کیا گیا جو کہیں نظر ہی نہیں آتا ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’بد قسمتی کی حد یہ ہے کہ ایک بے گناہ کی لاش حاصل کرنے کے لئے احتجاج کرنا پڑتا ہے۔ گول کے ہی عامر ماگرے جو روز گار کے لئے سری نگر گیا تھا، کو ہندوارہ میں دفنایا گیا‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ جو کچھ ہم سے پانچ اگست 2019 کو چھینا گیا ہم وہ حاصل کرکے ہی دم لیں گے کیونکہ یہ اںصاف اور سچائی کی لڑائی ہے۔
انہوں نے کہا: ’لیکن ہمیں احتیاط سے کام لینا ہوگا کیونکہ دلی دو سازشیں رچا رہی ہے ایک الگ الگ نتظییمیں بنا کر لوگوں کے ووٹ کا بٹوارا کیا جا رہا ہے اور دوسرا اسمبلی نشستوں کی حد بندی کو لے کر جموں کے لوگوں کو کشمیریوں کے ساتھ لڑوایا جائے گا‘۔
موصوف لیڈر نے کہا کہ لداخ کے لوگوں کا نوکریوں، زمین اور اسکالر شپ کا حق برقرار رکھا گیا لیکن جموں و کشمیر میں ڈومیسائل قانون لاگو کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد جب نیشنل کانفرنس کی حکومت آئے گی تو سب سے پہلے عارضی ملازموں کے مسائل کو حل کیا جائے گا اور ڈی ڈی سی ممبروں کو ان کے اختیارات دئے جائیں گے۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper